Wed, September 16, 2026

مولابخش سرکار!

مولابخش سرکار!

ہمارے بچپن میں یہ اُس زمانے کی بات ہے جب ہمارے ہاں ابھی ”مار نہیں پیار“ کا ممی ڈیڈی یعنی بدیسی فارمولہ نہیں آیا تھا۔ ہماری قسمت کہ ہم نے جیسے ہی ہوش سنبھالی ہمیں یہی بتایا سکھایا اور سمجھایا گیا کہ ”پُتر!ماں پیو دیاں گالاں تے دیسی گھیو دیاں نالاں“ یعنی ماں باپ کی نصیحتوں اورکڑوی کسیلی باتوں کی تاثیر بھی دیسی گھی جیسی سود مند ہوتی ہے لہٰذا ایسی چھوٹی موٹی باتوں کو ہرگز دل پر نہیں لگانا چاہیے۔رب جانے پنجابی زبان کے اس محاورے کا موجد کون تھا اور اس محاورے کے پسِ پردہ اس کے کیا مقاصد تھے مگر ہم نے سوائے دل لگا کر پڑھنے والی بات کے اس محاورے کا مطلب بزرگوں کی باقی تمام باتوں او رنصیحتوں کو ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے نکال دینا سمجھا۔ بلکہ دل لگا کر پڑھنے والی بات کو توہم نے دل پر اتنا شدید لیا کہ پڑھنے پڑھانے والی بات بالکل ہمارے ذہن سے ہی نکل گئی ۔جس کے نتیجے میں کچھ ہی عرصے میں پورے اعزاز کے ساتھ ہماری پروموشن”لاتوں کے بھوت “ والی سینئر کلاس میں کردی گئی۔جہاں چند ابتدائی کلاسوں کے بعد ہی ہمیں اچھی طرح اندازہ ہوگیا کہ بات اباجی اور استادوں کی پُر خلوص جھڑکیوں اور ڈانٹ ڈپٹ تک ہی رہتی تو ٹھیک تھا۔ اچھے اور فرمانبردار بچوں کی طرح ہم یہ منہ زبانی قسم کی چوٹیں ہرروز ہنسی خوشی اپنے دل پرسہہ لیتے اور اُف تک نہ کرتے مگر وائے قسمت ! پتا نہیں وہ کونسی منحوس گھڑی تھی جس میں ہمارے جیسے بھولے بھالے اورمعصوم بچے کو مرغا بنا کر بندہ بنانے کے عجیب و غریب چکر میںمنہ زبانی جھڑکیوں اور ڈانٹ ڈپٹ کی جگہ بغیر کسی وارننگ کے ”مولا بخش سرکار“ نے لے لی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم سے پہلے کی نسلوں کو ماں باپ کی جھڑکیوں اور بے عزتی کا وہ ستم جو اپنے دلوں اور احساس پر سہنا پڑتا تھا ہمیں اورہماری نسل کو مولابخش سرکار کے طفیل وہ ساراستم اپنی ”تشریفوں“ پر سہنا پڑا۔ ہمارے بچپن سے لڑکپن اور کسی حد تک اوائلِ جوانی تک کا یہ وہ ”سنہری“ اور یادگار دور تھا جس میں سکول سے لے کر گھر اور گھر سے لے کر گلی محلوں، شہروںتک پورے ملک میں ہر طرف’ ’مولا بخش“ کا ہی راج تھا۔بچوں کی تعلیم اور تربیت کے اس کڑے محاذپر گھروں میںابا جی اور سکول میں ماسٹر جی مولا بخش کے ہمراہ ہر گھڑی تیار شادمان رہتے تھے اور کسی ایک لمحے کےلئے بھی اپنے اس فرض کی ادائیگی میں غفلت نہیں برتتے تھے۔ گھر اور سکول سے باہر کہیں آتے جاتے یا کسی گراﺅنڈ میں کھیلتے ہوئے رہی سہی کسر گلی محلے کے منہ بولے چاچے تائے دوسروں کی نظر میں اپنی ”گُڈ وِل“ بنانے کے چکر میں اپنا حق سمجھ کرپوری کردیتے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کھوتے شاہ، وسیمو چِبڑ اور بشیرا اِن ٹربل جیسے چند حد درجہ شرارتی اور نالائق بچے اپنی اس خصوصی اور مسلسل تعلیم وتربیت کے اس قدر عادی ہوچکے تھے کہ جس روز گھر یا سکول میں کسی وجہ سے ان کی اس مخصوص ”تعلیم و تربیت“ میں کوئی کسر رہ جاتی تھی تو انہیں اس وقت تک قرار نہیں آتا تھا جب تک وہ کسی بہانے سے اپنا اس دن کا حصہ وصول نہیں کر لیتے تھے۔ اگر یہ بات میرے بیوی بچوں کو پتا نہ چلے تو مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ خود میرا اپناشمار بھی انہی”گولے“ بچوں میں ہوتا تھا جنھیں بلاناغہ گھر یا سکول سے جب تک اپنے حصے کی ”ڈوز“ نہیں ملتی تھی توکسی عادی نشئی کی طرح بدن ایک عجیب سی تشنگی کے احساس سے ٹوتتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ جس کا اثر بھری ہوئی سگریٹ کے دو چار سُوٹے لگانے کی طرح ابا جی یا استادوں کے دوچار سوٹے کھانے کے بعد ہی کم یا زائل ہوتا تھا۔یہ بات میں پورے وثوق سے تو نہیں کہہ سکتا مگر میرا اندازہ ہے کہ ہم جیسے ”باں باں“ بچوں کو ڈوز دینے کا جب تک ابا جی یا استادوں کا بھی دن بھر کا کوٹہ پورا نہیں ہوتا تھاشاید ان کے ہاتھوں میں بھی کسی قسم کی کھجلی قسم ہوتی ہوگی جسے دور کیے بغیر اُن کو بھی قرار نہیں ملتا تھا۔ممکن ہے ملک کے مختلف علاقوں میں مولا بخش سرکار کو مختلف ناموں سے جانا اور پکارا جاتا ہو مگر یہ طے ہے کہ چھوٹے بڑے، رنگ نسل اور علاقائی تفریق کے بغیر ہر جگہ اور ہرعلاقے میں اس سے پرانے اور موذی امراض کے شافی علاج کا ایک جیسا کام ہی لیا جاتا تھا۔ البتہ ہردور میںاس سے بہتر رزلٹ حاصل کرنے کے لئے کسی تجربہ کار اور ماہر ڈاکٹر کا ہونا بنیادی شرط ہے جو بیماری کی درست تشخیص کر کے ا س کی شدت کے مطابق دوا کی مقدار یا کوئی چھوٹا بڑاآپریشن کرنے کا علم و ہُنرجانتا ہو۔ گزرے دنوں ملک میں اس طریقہ علاج کے سب سے بڑے ڈاکٹر صدر جنرل محمد ضیاءالحق تھے۔جن کے مارشل لائی طریقہ علاج کی وجہ سے ”دن نوں راج فرنگی دا تے رات نوں راج ملنگی دا“ کے برعکس اُس زمانے میں دن کو ہی نہیں رات کو بھی فرنگی یعنی ” مولابخش“ کا راج تھا۔ مولابخش کے ڈر اور خوف سے اس وقت کے بڑے بڑے ملنگی اور پھنے خاں تحریکِ انصاف کے9مئی والے ملنگیوں کی طرح یا تو کہیں اِدھر اُدھر کونوں کھدروں میں چھپ گئے تھے یا پھر چوروں کی طرح اپنی جان بچا کے ملک سے فرار ہوچکے تھے۔آج کی وہ جدید اور ممی ڈیڈی نسل جو ”مولا بخش“ کے حدودِ اربعہ اور اس کی کرامتوںسے پوری طرح واقف نہیں ہے ان کے سمجھنے کےلئے عرض کردوں کہ عرفِ عام میں مولا بخش بانس یا تُوت کی اس چھڑی، بید یا ڈنڈے کو کہا جاتاہے جس کی مدد سے نالائق، شرارتی اور بگڑے ہوے بچوں اور بڑوں کی تعلیم اور تربیت کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ مولا بخش کا ذکر پنجابی زبان کے باکمال شاعر وارث شاہ کی ”ہیر“ میں بھی ملتا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں ” وارث شاہ ڈنڈا پیر اے وِگڑیاں تِگڑیاں دا“ ۔آجکل اس سے ملتی جلتی چھڑی، بیدیا ڈنڈا محکمہ پولیس اور پاکستان آرمی کے بڑے بڑے افسر وں کے ہاتھوں میں دیکھا جاتاہے۔ جس کی مدد سے وہ کچھ کتوں کی دُم سیدھی کرنے کے علاوہ بڑے بڑے چوروں، ڈاکوﺅں، لیٹروں ، بدمعاشوں اور ملک میں انتشار و فساد برپا کرنے والے بگڑوں تگڑوں کی تربیت کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔کاش اسی طرز کی جادو کی کوئی ایسی چھڑی،بید یا ڈنڈا ہمارے جیسے ایک عام آدمی کو بھی میسر آجائے جس کی مدد سے ہم بھی اپنے ارد گرد کے سیاسی و غیر سیاسی منافقوں، بہروپیوں، رشوت خور کمینوں، چوروں لٹیروں، جھوٹے دغا بازوں، غنڈے موالیوں اور چَولوں کو سیدھا کرسکیں۔

ٹیگز: