Wed, September 16, 2026

مقبوضہ کشمیر میں انتخابات، مودی سرکار کا نعرہ "نیا کشمیر"، کشمیری عدم تحفظ اور حقیقی تبدیلی کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار

مقبوضہ کشمیر میں انتخابات، مودی سرکار کا نعرہ

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں دس سال بعد مقامی اسمبلی کے انتخابات ہو رہے ہیں۔ انتخابات کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد اب دوسرے مرحلے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ کشمیر کا یہ خطہ دہائیوں سے شورش کا شکار ہے، اور دہلی کے ساتھ اس کے تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں۔ اس پر کشمیری عوام کی جانب سے مختلف ردعمل دیکھنے کو مل رہے ہیں، کچھ افراد انتخابات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں، کچھ انہیں ڈھونگ سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ نے انتخابی عمل میں حصہ لیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم میں کشمیریوں کی بھرپور شرکت اور گرما گرم سیاسی ریلیوں کی وجہ سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ کشمیریوں کی اکثریت حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو کشمیر میں اقتدار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایک متفقہ فیصلہ کر رہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، مقبوضہ کشمیر میں انتخابات کے دوران انجینئر رشید اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ انہیں مبینہ دہشت گردی کی معاونت کے الزامات کے باوجود دہلی کی عدالت نے عبوری ضمانت دی ہے اور انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔ انجینئر رشید 2008 سے جموں و کشمیر کی مین سٹریم سیاست کا حصہ ہیں اور آزاد امیدوار کے طور پر شمالی کشمیر کے لنگیٹ حلقے سے انتخابات جیت چکے ہیں۔ 2015 میں بھی انہوں نے اپنی سیٹ برقرار رکھی، لیکن 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور ریاست کے دو حصوں میں تقسیم کے بعد انہیں حراست میں لیا گیا تھا۔

انجینئر رشید کا سیاسی ایجنڈا کشمیریوں کی خودمختاری، کشمیر کی شناخت اور ترقیاتی مسائل پر مرکوز ہے۔ حالیہ انتخابات میں سب سے اہم مسائل روزگار کی کمی، مہنگائی، اور کشمیر کی خودمختاری کی بحالی ہیں۔ تاہم، انتخابات کے باوجود کشمیری عوام اس بات پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں کہ مرکزی حکومت کی طاقت خطے میں اصل تبدیلی کا تعین کرے گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی "نیا کشمیر" کے نعرے کے ساتھ انتخابات کی کامیابی کی دعویٰ کر رہے ہیں، لیکن مقامی کشمیریوں کا کہنا ہے کہ وہ پرانے کشمیر کی حقیقت کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے لیے حقیقی تبدیلی کا تصور ابھی تک دور ہے۔ 1990 کی دہائی سے کشمیر میں بھارتی حکمرانی کے خلاف مسلح شورش جاری ہے، جس میں ہزاروں افراد کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، اور بھارت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں کشمیریوں کی انتخابی شرکت کو ان مسائل کے خلاف مزاحمت کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پہلے مرحلے میں 24 نشستوں پر انتخابات ہوئے جن میں 2.3 ملین ووٹرز نے حصہ لیا، اور مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ 61 فیصد رہا۔ انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال پرامن رہی، لیکن بہت سے کشمیریوں کا ماننا ہے کہ حقیقی تبدیلی تب تک ممکن نہیں جب تک مرکزی حکومت کشمیر میں اپنی طاقت برقرار رکھے گی۔

ٹیگز: