Wed, September 16, 2026

تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

تاریخ کا مطالعہ بڑا دلچسپ اور ڈرامائی اہمیت کا حامل ہے۔ کہتے ہیں کہ 1926ء میں تیل کی دریافت سے پہلے سعودی عرب کے شاہ عبدالعزیز بن سعود نے تمام مسلمان ممالک کے سربراہوں کو مکہ بلایا جس میں انہیں درخواست کی گئی کہ حج اور عمرہ کے مناسک سے عہدہ برآ ہونے کے لیے حکومت کے پاس فنڈز نہیں ہیں لہٰذا سارے مسلمان ممالک مل جل کر سعودی عرب میں سڑکوں ٹرانسپورٹ اور حرم شریف کی تعمیر و توسیع کے لیے اپنا اپنا حصہ ڈالیں بدقسمتی سے کوئی بھی اسلامی ملک اس پر رضا مند نہ ہوا نہ ہی کسی ملک کی طر ف سے امداد کا اعلان کیا گیا البتہ کچھ سربراہان مملکت نے مجلس کے اختتام پر شاہ عبدالعزیز کو ذاتی تجویز دی کہ اگر آپ یہ کام نہیں کر سکتے تو حج عمرہ کے سارے نظام کی ذمہ داری تاج برطانیہ کو سونپ دی جائے۔ 
آج اس واقعہ کو 99 سال ہو چکے ہیں اور اگر آج کے سعودی عرب اور حج عمرہ نظام پر محض ایک نظر دوڑائیں تو آپ کی حیرت گم ہو جائے گی بقول شاعر ’’بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے‘‘۔ سعودی عرب مذہبی سیاحت کی مد میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ سعودی عرب کو حج اور عمرہ سے سالانہ 12 سے 15 ارب ڈالر حاصل ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سال تین کروڑ سے زیادہ مسلمانوں نے حج / عمرہ کا سفر کیا یہ تعداد سعودیہ سے باہر کے غیر مقامی لوگوں کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ حج عمرہ کرنے والوں میں امریکہ میں رہنے والے مسلمان سر فہرست ہیں حالانکہ سب سے مہنگا حج عمرہ بھی امریکہ والوں کو ہی کرنا پڑتا ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030 ء کے مطابق 2030ء تک حرمین شریفین کے توسیعی منصوبوں کے بعد زائرین کی تعداد 7 کروڑ سالانہ تک پہنچ جائے گی جس سے ریاستی آمدنی مزید ڈبل سے زیادہ ہو جائے گی۔ ایک اندازے کے مطابق حج عمرہ زائرین جو مقامی معیشت میں 40 ارب ڈالر اپنے قیام کے دوران کھانے اور خریداری پر خرچ کرتے ہیں وہ حکومتی آمدنی کے علاوہ ہے۔ ماہرین کے مطابق سعودی حج عمرہ کی مجموعی گردشی اکانومی کا حجم 350 بلین ڈالر ہے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ سعودی عرب کی قومی ایئر لائن دنیا کے 4 براعظموں کے 100شہروں میں آپریٹ کرتی ہے جس کا سالانہ منافع 5 بلین ڈالر ہے۔ گزشتہ ایک سال میں 192560 پروازیں کر کے ریکارڈ قائم کیا ہے۔ سعودی حکومت کی پٹرول کی آمدنی 2021ء میں 121 بلین ڈالر تھی جو روس یوکرائن جنگ اور پٹرول نکالنے پر کوٹہ سسٹم کی وجہ سے کچھ کم ہوئی ہے لیکن یہ وہ ملک ہے جس کی سالانہ آمدنی مقرر کردہ اہداف سے تجاوز کر جاتی ہے۔ اس کے باوجود حج عمرہ آمدنی جو ہمیں اتنی زیادہ لگتی ہے۔ وہ درحقیقت سعودی GDP کا محض7 فیصد ہے جبکہ 50 فیصد پٹرول سے مل رہا ہے۔ 
اس سارے Scenario کے بعد جو بات بطور مسلم ہمیں بے چین کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب حکومت اتنے وسیع البنیاد زرمبادلہ کے باوجود حج عمرہ اخراجات پر ایک روپے کی بھی سبسڈی نہیں دے رہی جس کی وجہ سے ہر سال فضائی سفر پر ٹکٹوں کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے یہ اخراجات بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ایشیا اور افریقہ میں رہنے والا ایک غریب مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ 
مسلمان جتنا بھی بدعنوان گناہگار اور بھٹکا ہوا ہو اس کے اندر چٹان کی طرح قائم اس عقیدے کو داد دینی چاہیے کہ وہ اندر سے یہ سمجھتا ہے کہ زیارت کعبہ کے بعد اس کو مدینہ کے لیے تڑپتے اور آنسو بہاتے دیکھا ہے جن کے پاس زاد راہ کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ 
رمضان کے اس مقدس مہینے میں ہمارے بچپن کے دوست پروفیسر ڈاکٹر معین الدین حال مقیم اسلام آباد کی طرف سے ہمیں ایک نہایت خوبصورت کتاب راہنمائے حج وعمرو موصول ہوئی ہے۔ آپ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے وابستہ ہیں اور معاشیات پر درجنوں کتابیں لکھ چکے ہیں لیکن ان کی حج اور عمرہ پر یہ کاوش نہایت قابل تحسین ہے جس میں حج اور عمرہ کے لیے گھر سے نکلنے اور گھر واپس آنے تک اور دوران مناسک قادم قدم پر زائرین کی قرآن و سنت کے مطابق رہنمائی اور مسنون قرآنی دعائیں اور دیگر بنیادی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ پروفیسر معین الدین نے اپنے کچھ مہربان دوستوں کی مدد سے یہ کار خیر انجام دیا ہے اور انہوں نے اپنے نیٹ ورک میں یہ کتاب بلامعاوضہ بطور گفٹ تقسیم کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اور ان کے احباب کی یہ کوشش قبول فرمائے آمین۔ حج عمرہ زائرین کو فیوف الرحمان یعنی اللہ کے مہمان کہا گیا ہے جن کو مہمان نوازی کا فریضہ قبل از اسلام بھی آنحضرتؐ کے قبیلہ قریش نے اپنے ذمہ لے رکھا تھا۔ اس فریضہ میں اپنا حصہ ڈالنے پر ڈاکٹر صاحب اور ان کے رفقاء یقینا مبارکباد کے مستحق ہیں۔ درست عقیدہ توحید کے مطابق احکام حج کی ادائیگی کے لیے یہ کتاب ایک معتبر حوالہ ہے۔ 

ٹیگز: