راولپنڈی: پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقے میں افغان فورسز کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس پر پاکستان کی مسلح افواج نے فوری اور مؤثر ردعمل ظاہر کیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، افغان فورسز نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر، جن میں انگور اڈہ، باجوڑ، کرم، دیر، چترال اور بلوچستان کا علاقہ بارام چاہ شامل ہے، بلا اشتعال فائرنگ کی۔
ذرائع نے بتایا کہ افغان فورسز کا مقصد سرحد پار دہشت گرد گروپوں کو پاکستان کی حدود میں منتقل کرنا تھا۔ تاہم، پاک فوج کی چوکس اور مستعد پوسٹوں نے افغان فورسز کی فائرنگ کا بھرپور اور فوری جواب دیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاکستان کی فوج نے افغان فورسز کی کئی سرحدی پوسٹوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افغان فوجی اور دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ اس کارروائی میں افغانستان کی متعدد سرحدی پوسٹیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، اور طالبان فورسز اپنے مراکز چھوڑ کر فرار ہوگئیں۔ حملہ آوروں کی لاشیں علاقے میں بکھری ہوئی ہیں۔
یہ افغان جارحیت اس وقت کی جا رہی ہے جب افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی بھارت کے دورے پر ہیں۔ پاکستان نے متقی کے دورہ بھارت کے دوران دیے گئے بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکام دہشت گردی کے خلاف اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ علاقائی امن کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغان وزیرِ خارجہ نے چند روز قبل افغانستان میں ہونے والے دھماکوں کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔