Thu, September 17, 2026

پاکستان، افغانستان اور چین کا سہ فریقی اتحاد مستحکم، بھارت کی علاقائی حکمت عملی ناکام

پاکستان، افغانستان اور چین کا سہ فریقی اتحاد مستحکم، بھارت کی علاقائی حکمت عملی ناکام

اسلام آباد: پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اور اقتصادی روابط نے خطے میں ایک نیا اسٹریٹجک اتحاد تشکیل دے دیا ہے، جس سے بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے اور افغانستان کو متاثر کرنے کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہو گئی ہیں۔ افغانستان کی چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) میں شمولیت نے اس سہ فریقی تعاون کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔

گزشتہ روز بیجنگ میں پاکستان کے وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سفارتی رابطوں اور سلامتی کے امور پر گفتگو ہوئی۔ دونوں ممالک نے کابل میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے تعلقات میں مزید بہتری لانے پر اتفاق کیا۔

حکام کے مطابق افغانستان کی CPEC میں باضابطہ شمولیت نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان اقتصادی روابط کو وسعت دے گی بلکہ گوادر بندرگاہ کے ذریعے افغانستان کو عالمی منڈیوں سے منسلک کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔ چین اس پورے عمل میں ایک بااعتماد شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے، جو خطے میں امن و ترقی کا ضامن بنتا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے پروپیگنڈے، جاسوسی سرگرمیوں اور تفرقہ انگیز پالیسیوں کے ذریعے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں اب اثر کھو چکی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان اب چین کے ساتھ مل کر ایک پرامن اور مربوط خطے کی تشکیل کے لیے سرگرم ہیں۔

دریں اثنا، خطے میں تیزی سے ابھرتی ہوئی یہ سہ فریقی شراکت داری نہ صرف جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک اقتصادی پل بن رہی ہے بلکہ یہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ تعاون، ترقی اور امن کا راستہ ہی مستقبل ہے۔

ٹیگز: