کابل: پاکستان، چین اور افغانستان نے خطے کو درپیش دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبہ جات میں شراکت داری کو وسعت دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یہ اتفاق کابل میں ہونے والے سہ فریقی وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران ہوا، جس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، چین کے وزیر خارجہ وانگ یی، اور افغان ہم منصب امیر خان متقی شریک ہوئے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق تینوں ممالک نے انسداد دہشت گردی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے، علاقائی ترقی، تجارت، ٹرانزٹ، صحت، تعلیم، ثقافت اور منشیات کی غیر قانونی ترسیل کے خلاف مشترکہ اقدامات کرنے اور چائنا-پاکستان اکنامک کاریڈور (CPEC) کو افغانستان تک توسیع دینے پر رضامندی ظاہر کی۔
اجلاس کے موقع پر وزیر خارجہ اسحٰق ڈار اور امیر خان متقی کے درمیان علیحدہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں سیاسی و معاشی تعاون، سیکیورٹی صورتحال، اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے پر گفتگو کی گئی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اسلام آباد اور کابل کے مابین سفارتی تعلقات کو مزید بہتر بنایا گیا ہے۔
اسحٰق ڈار نے افغانستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں، جیسے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی کے خلاف فوری اور عملی اقدامات پر زور دیا۔ افغان وزیر خارجہ نے یقین دہانی کرائی کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی بیرونی جارحیت یا دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
واضح رہے کہ یہ سہ فریقی عمل 2023 کے بعد دوبارہ فعال ہوا ہے، جس میں چین نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بیجنگ میں ہونے والے غیر رسمی اجلاس میں بھی اسی تعاون کو مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو فروغ مل سکے۔