Wed, September 16, 2026

پھندے تیار، آخری دسمبر، خاموش مفاہمت

پھندے تیار، آخری دسمبر، خاموش مفاہمت

ہارڈ سٹیٹ کے رنگ بڑے خان، خان صاحب کے سنگ۔ موٹا اور باریک پیسنے کے لیے چکی کے دونوں پاٹ چل رہے ہیں، پی ٹی آئی دن بہ دن پی ٹی گئی بنتی جا رہی ہے۔ خان کی پارٹی دو پاٹوں کے بیچ پس کر رہ گئی۔ کیا سمجھا جائے۔ ختم شد، کھیل ختم۔ ’’ہائے اس عالم اسلام کے لیڈر کی قسمت یا رب، جس کی قسمت میں ہے اڈیالہ کا مہماں ہونا‘‘ ایک اور سزا ہو گئی۔ تانگہ پھر کچہری سے خالی لوٹا، توشہ خانہ ٹو میں خان اور اہلیہ محترمہ کو 17، 17 سال قید اور ایک کروڑ 64 لاکھ فی کس جرمانہ کا حکم، خان ایک بار پھر نا اہل قرار، وکلا کی ٹیم غائب خان جی کا چہرہ زرد، بشریٰ بی بی کی آنکھوں میں آنسو، بانی پی ٹی آئی کی مجموعی قید 31 برس ہو گئی۔ ’’کون جیتا ہے رہائی کے مزے لوٹنے تک‘‘ ریاست مخالف بیانیوں نے پارٹی کا شیرازہ بکھیر دیا۔ بانی قید سینئر قیادت ناپید 21 رکنی سیاسی کمیٹی میں سنجیدہ ارکان کا فقدان، کچھ اشتہاری باقی مفرور، رہائی کی کوششوں کے لیے کوئی لیڈر آگے آنے کو تیار نہیں، مستعار لیے گئے دونوں لیڈر اپنی ’’سپیس‘‘ بنانے میں کوشاں، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام قومی کانفرنس آپس کی بات چیت کے بعد ختم، مولانا آئے نہ بلاول نظریاتی ارکان پارٹی کی درگت بنتے دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگے۔ ملک کو ڈیفالٹ کرنے کی خواہش مند پارٹی بذات خود ڈیفالٹ ہو گئی، بیرون ملک سے بے نامی امداد بند، اندرون ملک چندے رک گئے۔ ایک لیڈر نے سیکرٹری جنرل  سے 30 کروڑ کا حساب مانگ لیا۔ حساب رکھنے والے پکڑے جانے کے بعد سے سیاسی منظر نامہ سے غائب ہیں۔ سیکرٹری جنرل نے ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ اپنی نیک اور حق حلال کی کمائی (صرف نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی سے ملنے والی تنخواہ) سے ماہانہ ایک لاکھ روپے پارٹی فنڈ میں عطیہ کریں، ارکان نے ٹکا سا جواب دیا ہمارا اپنا گزارا مشکل سے چل رہا ہے کہیں اور سے انتظام کریں۔ نظریں ’’مالدار اسامی‘‘ علیمہ باجی پر ٹکی ہیں۔ ارکان مایوس، اکثریت کا کہنا ہے کہ تمام بُرے حالات کے ذمہ دار خان صاحب ہیں جو انا کے پنجرے میں قید ابھی تک چی گویرا کا آزادی یا موت کے نعرے پر بضد ہیں۔ عشق عمران میں شہادت کے طلبگار وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے بڑھ چڑھ کر بلکہ سر چڑھ کر بولنے والے معاون خصوصی دونوں اشتہاری قرار پانے کے باوجود آزاد، کوہاٹ کے جلسہ میں کفن پہن کر اڈیالہ جیل توڑنے اسلام آباد پر ہلہ بولنے کی دھمکیاں دیتے رہے لیکن گزشتہ منگل کو علیمہ خان کے دھرنے سے غائب ہو گئے۔ دھرنے کی دلگداز داستان، خان کی ملاقاتوں پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔ جیل کے گیٹ تک رسائی نا ممکن، کوئی پرندہ پر اور چرندہ چر نہیں مار سکتا۔ اس کے باوجود علیمہ باجی اپنی دونوں بہنوں اور چار پانچ سو جانثاروں کے ہمراہ اڈیالہ روڈ پہنچ گئیں پولیس ناکہ پر روک لی گئیں تو دھرنے پر بیٹھ گئیں 5 بجے ملاقات کا وقت ختم ہو گیا، شام سے رات ہو گئی۔ سردی بڑھنے لگی پولیس اہلکار چائے پینے اور دھرنے والے انڈے بسکٹ کھانے، نعرے لگانے میں مصروف رہے۔ رات دو بجے درجہ حرارت 6 سینٹی گریڈ تک گرا۔ دھرنے والے ٹھٹھرنے لگے تو پولیس نے آپریشن شروع کر دیا۔ واٹر کینن سے سرد پانی کی بوچھاڑ اس میں آنسو گیس کی ملاوٹ، علیمہ خان ان کی بہنیں راجہ ناصر عباس سمیت سب شرابور راجہ صاحب کا عمامہ اُڑ گیا۔ بہتوں کو نمونیہ کا خطرہ، شوکت بسرا کی انگلی زخمی ہو گئی (نام لکھواکر شہیدوں میں شامل ہو گئے) گزشتہ سے پیوستہ دھرنے میں اسی بوچھاڑ کے دوران شاہد خٹک نالے میں گر کر اپنے لیڈر کی اتباع میں ٹانگ پر پلستر چڑھا کر گھر لوٹے تھے پانی کی بوچھاڑ ہوتے ہی دھرنا ختم میدان صاف، ملاقات کی آرزو دم توڑ گئی۔ البتہ ایک موٹے تازے رپورٹر اور اینکر پرسن کی گھن گرج کی گونج فضا میں تیرتی رہی کہ سونامی اڈیالہ سے ٹکرا گیا عوام کا سمندر اڈیالہ روڈ پر گیٹ توڑنے کو تیار ہے۔ عوام نے خوف کے بت توڑ دئیے۔ موٹے تازے رپورٹر کی فیس بک پر دھاڑیں ختم نہیں ہوتیں۔ رات کو ٹی وی سکرین پر وہی بین، بانی کو قید تنہائی اور ڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے۔ جواب آیا فرانس کے صدر سر کوزی کو فارن فنڈنگ کے جرم میں 5 سال قید ہوئی انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق 95 سکوائر فٹ (10x10 کا کمرہ 100 سکوائر فٹ ہوتا ہے) کمرے میں رکھا گیا دن میں ایک بار چہل قدمی کے لیے کھولی سے باہر نکالا جاتا تھا کسی سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ خان سے موازنہ کیجئے جو 6 کمروں کے برابر بیرک میں بیٹھے مرغن کھانوں اور کہسار کے ڈرائی فروٹس سے جان بنا رہے ہیں۔ جیل میں بیٹھ کر پوری پارٹی چلا رہے ہیں اور 772 دن کی قید میں 225 دن کے دوران اب تک 1395 ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ اور پی ٹی آئی کے تین منحرف لیڈروں کی مائنس ون کی شرط پر خاموش مفاہمت کی کوششیں بھی ناکام دکھائی دیتی ہیں۔
فیض حمید کا کیا ہوا۔ 14 سال قید کی سزا کے بعد بھی جان نہیں چھوٹی مزید مقدمات چلیں گے بلکہ گھنے سائے تلے اچھے دن گزارنے والوں کو بُرے دنوں کی وعید سنا دی گئی ہے۔ فیض حمید فیز ٹو کے تحت آئندہ تین چار ماہ میں سو سے زائد شرفا اور زعما سے پوچھ گچھ کی جائے گی جس نے ظلم کیا جس پر ظلم ہوا سب کٹہرے میں ہوں گے۔ مظالم کا اعتراف اور ظالموں کی شکایات بیان ہوں گی۔ زیر تفتیش شخصیات میں سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال، ان کی ڈسی ہوئی خاتون طیبہ گل، بڑے خان صاحب، چار وفاقی سیکرٹری، دو سابق وزرائے اعظم، سابق صدر علوی 4 ریٹائرڈ جرنیل، دو سابق ڈی جی ایف آئی اے، ڈیم والا بابا سمیت دو سابق چیف جسٹس پانچ ریٹائرڈ جج شامل ہیں۔ تفتیش کا دورانیہ 2016ء سے 2023 تک ہو گا۔ پھندے تیار ہیں۔ سزائیں ہو رہی ہیں دھرنے نہ رکے تو ذرائع کے مطابق اپنے خان صاحب کو مچھ جیل سمیت کسی بھی جیل میں کچھ عرصہ کے لیے منتقل کیا جا سکتا ہے۔
سندھ کے ممتاز صحافی اور اچھے ویلاگر امداد سومرو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں یا کیے جا رہے ہیں کہ پی پی اور ن لیگ کا اتحاد دیر اور دور تک چلتا نظر نہیں آتا۔ پی پی سندھ میں صوبوں کی مخالف ہے این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی نہیں چاہتی۔ بلاول بھٹو مسلسل مخالفت پر کمربستہ ہیں لگتا ہے اگر شکایات کا ازالہ نہ کیا گیا تو شاید حکومتی اتحاد کا آخری دسمبر ہو گا۔ امداد سومرو کے خدشات اپنی جگہ درست لیکن پی پی اتحاد کی جان، اوپر والے کہیں نہیں جانے دیں گے۔ اس کے برعکس ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ اور تبدیلی زیر غور ہیں جن سے عوام کو مہنگائی سے نجات مل سکے گی۔

ٹیگز: