Wed, September 16, 2026

4اپریل‘بھٹو کی پھانسی کے آخری لمحات.... (آخری حصہ)

4اپریل‘بھٹو کی پھانسی کے آخری لمحات.... (آخری حصہ)

پھانسی : حکم کے مطابق بھٹو صاحب کو 4 / 3 اپریل 1979ءکی درمیانی شب کے درمیان۔
جبکہ اسٹنٹ سپر نٹنڈنٹ جیل مجید احمد قریشی ، کاظم حسین بلوچ ، محابت خان اور سپر نٹنڈنٹ جیل کے چناو¿ کے مطابق چند وارڈ ر ز بھی سکیورٹی وارڈ کے دالان تک مندرجہ بالا پارٹی کے پیچھے پیچھے گئے۔ انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات چودھری نظیر اختر دفتر سے سیدھے موت کے کنویں کی طرف ہی چلے گئے۔ سیکورٹی وارڈ، پھانسی گھاٹ اور ان کے درمیان راستہ پر فوج کی فالتو گارڈ بھی متعین کر دی گئی تھی۔ 
مذکورہ پارٹی بھٹو صاحب کے سیل کے اندر گئی۔ بھٹو صاحب گرے کے اوپر لیٹے ہوئے تھے اور جاگ رہے تھے۔ ان سے مجسٹریٹ مسٹر بشیر احمد خان نے کہا کہ کیا وہ کوئی وصیت چھوڑنا چاہتے۔ بھٹو صاحب خاموش رہے۔ بھٹو صاحب کا رنگ بالکل پھیکا اور زرد پڑ چکا تھا اور وہ جسمانی لحاظ سے نقاہت کی حالت میں تھے۔ ان کی آواز خفیف، بے حد کمزور تھی اور صاف سنائی نہ دے رہی تھی۔ انہوں نے کوشش کر کے کہا:
"I had tried but my thoughts were so upset... that I could not do it I have burnt it." 
میں نے کوشش کی لیکن میرے خیالات اتنے درہم برہم تھے کہ میں نہ لکھ سکا میں نے اسے جلا دیا۔ 
میں نے قریب جا کران سے کہا کہ جناب آپ چل کر جائیں گے یا یہ آپکو اٹھا کرلے جائیں۔ انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا بلکہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے رہے۔ مجھے چند لمحوں بعد میں نے اس فقرے کو دہرایا۔ وہ مجھے اسی طرح دیکھتے رہے اور پھر کہا " 
افسوس ہے Pity I انہوں نے کچھ کہا لیکن ہم میں سے کوئی بھی کچھ نہ سمجھ سکا۔ 
میں نے آگے جا کر ان کے اوپر جھک کر کہا: معاف کیجئے گا میں آپ کو سمجھ نہیں سکا۔ انہوں نے اس فقرے کو دہرایا لیکن میں آخری ایک دو لفظ پھر بھی سمجھ نہ پایا۔ میں ان کے چہرے پر پوری طرح جھک گیا اور پھر ان سے کہا: معاف کیجئے گا میں آپ کو سمجھ نہیں سکا۔ 
وہ بے حد کمزوری اور وقفے وقفے کے ساتھ بولے : 
"I.... Pity.... My....Wife.... Left" 
(مجھے افسوس ہے میری بیوی چلی گئی ہے)۔ 
وہ بے حد پر اضطرار اور دلسوز حالت تھی۔ میں بھٹو صاحب کے جواب کے ساتھ خاموش ہو گیا۔ شاید وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ وہ چل نہیں سکتے مگر یہ بھی نہیں چاہتے کہ انہیں اٹھا کر لے جایا جائے ، شاید وہ یہ سوچ رہے ہوں کہ اگر ان کی بیوی موجود ہوتی تو وہ انہیں سہارا دے کرلے جاتی۔ میں ان کے اس جواب پر بالکل مثل اور بے حس ہو گیا۔ 
مجسٹریٹ نے دوبارہ آگے بڑھ کر ان سے پوچھا کہ آپ کیا وصیت کرنا چاہتے ہیں۔ بھٹو صاحب خاموش رہے۔ مجسٹریٹ نے دوبارہ پوچھا کہ کیا آپ وصیت لکھوانا چاہیں گے۔ انہوں نے جواب دیا:
Yes..I..would..like..to..dictate. 
ہاں میں لکھوانا چاہوں گا۔ 
اس لمحے وقت ختم ہو چکا تھا اور جیل سپرنٹنڈنٹ نے ہیڈ وارڈر کو حکم دیا کہ وہ اپنے آدمی اندر لائے اور مسٹر بھٹوکو اٹھائیں۔ چار وارڈ ر اندر داخل ہوئے اور دو نے بھٹو صاحب کے بازو اور دو نے ان کے پاو¿ں اور ٹانگیں پکڑ کرانکو او پر اٹھالیا۔ جب ان کو اٹھایا جارہا تھاتو انہوں نے کہا: ”مجھے چھوڑ دو۔“
جب ان کو سیل سے باہر نکالا جارہا تھا تو ان کی کمر تقریبا ًفرش کے ساتھ لگ رہی تھی ، ان کی بنیان کاپچھلا حصہ ان وارڈروں جو ان کی ٹانگوں کو پکڑے ہوئے تھے، کے پاو¿ں کے نیچے آیا اور بنیان نیچے تک ضرور ادھڑ گئی ہوگی یعنی ٹانکے کھل گئے ہوں گے۔ دالان میں ان کو سٹریچر پر ڈال دیا گیا۔ ان کے دونوں ہاتھوں میں ان کے پیٹ کے سامنے ہتھکڑی لگا دی گئی۔ اتنی دیر میں مشقتی عبدالرحمن چائے کی پیالی لے کر سامنے آیا جو بھٹو صاحب نے ہمارے داخل ہونے سے پہلے اس سے کہی ہوگی۔ میں یہ سب دیکھ کر حیران ہو رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ جیل کی دیوار کے پار پرائم منسٹر ہاو¿س میں بھٹو صاحب نے جو بھی چاہا دنیا کے کسی بھی حصے سے ان کے لئے فورا مہیا کیا گیا اور آج ان کی یہ آخری اور معمولی سی خواہش بھی پوری نہ ہو سکی کہ چائے کی ایک پیالی بھی پی سکیں۔ 
چاروں وارڈروں نے سٹریچر کو چاروں کونوں سے اٹھالیا۔ بھٹو صاحب نے اپنا سر گردن پر تھامے ہوئے اوپر اٹھائے رکھا مگربے حس رہے۔ ان کے پاو¿ں پہلے زرد نظر آرہے تھے تقریباً دو سو پچاس (250) گز پھانسی گھاٹ تھے جیسے کہ جسم میں خون بالکل کم ہو ؟۔ پھانسی کی جگہ وارڈروں نے سٹریچر کو زمین پر رکھا وہ بالکل خاموش اور بغیر حرکت اور دو نے بھٹو صاحب کی بغلوں کے نیچے سے مدد کی اور وہ پھانسی کے تختے پر کھڑے ہو گئے۔ میں بھٹو صاحب کے نزدیک ترین رہا، صرف میں نے اپنے پاو¿ں پھٹے سے بچا کر رکھے لیکن میرے کان ان کے چہرے سے ایک یا دومنٹ ہی دور رہے۔ ان کے ہاتھوں سے ہتھکڑی نکال کر ان کے ان کے بازو اور ہاتھ ان کی کمر کے پیچھے ایک جھٹکے سے لے جائے گئے اور پھر چھکڑی لگادی گئی۔ اسی دوران تا رامسیح نے ان کے سر اور چہرے پر ماسک چڑھا دیا۔ یا تو انہیں چہرے پر ماسک ہاتھوں کو مروڑتے ہوئے جب ان کو کمر کے پیچھے ہتھکڑی کی وجہ سے سانس لینے میں دقت ہوئی تو لوہے کی ہتھکڑی نے ان کی کلائیوں کو دبایا جس کی وجہ سے ان کو تکلیف ہوئی اس لئے انہوں نے کہا یہ مجھے ، شاید وہ کہنا چاہتے ہوں کہ یہ مجھے تکلیف دے رہی ہے۔ میں ان کے بالکل نزدیک تھا یعنی میں تختے سے بچتے ہوئے آگے ان کی طرف اتنا جھکا ہوا تھا کہ ان کے منہ اور میرے کانوں میں ایک، دوفٹ کا فاصلہ ہوگا مگر میں ان کی یہ آخری بات پوری نہ سن سکا۔ ٹھیک دو بجکر چار منٹ پر، چار اپریل 1979ءکو جلاد نے لیور دبایا اور بھٹو صاحب ایک جھٹکے کے ساتھ پھانسی کے کنوئیں میں گر پڑے۔ میں اوپر سے سیڑھیوں کے ذریعے اتر کر کنویں کے کھلے رخ نیچے گیا اور دیکھا کہ بھٹو صاحب کا جسم معمولی ہل رہا تھا جواو پر سے نیچے گرنے کی وجہ سے تھا لیکن وہ اس وقت مردہ حالت میں تھے۔ میں نے دیکھا کہ بھٹو صاحب کا سران کی گردن پر بائیں طرف جھک گیا تھا کیونکہ پھانسی کے پھندے کا رسا ان کی دائیں طرف سے اوپر گیا ہوا تھا۔

ٹیگز: