لاہور: "دل بے چین تھا، قدم خود بخود پلٹے، گاڑی کے پاس گیا، والد کے گال پر بوسہ دیا اور کہا: ابا، میں بھی چلوں؟"۔یہ الفاظ ہیں اداکار حیدر سلطان کے، جنہوں نے لیجنڈری والد سلطان راہی سے آخری ملاقات کے لمحات کو ٹی وی پروگرام میں یاد کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد روانگی تھی، مگر شاید تقدیر کی روانگی تھی جس کا علم کسی کو نہ تھا۔"ابا نے کہا: نہیں، میں خود چلا جاؤں گا۔اور پھر وہ گئے... اور واپس نہ لوٹے۔
حیدر نے بتایا کہ وہ صرف 18 برس کے تھے جب ان کے والد کو گولی مار کر شہید کیا گیا۔ وہ لمحہ ان کی زندگی کا سب سے کربناک لمحہ تھا۔
سلطان راہی، جنہوں نے 800 سے زائد فلموں میں عوام کے دل جیتے، نجی زندگی میں اتنے ہی عاجز اور مہربان انسان تھے۔ "ابا ہر چھوٹے کو سلام کرتے، ایک بار ایک خاکروب کو بھی گلے لگایا کہ اس نے شکوہ کیا تھا۔"
یہ ملاقات، یہ بوسہ، آج بھی دل پر نقش ہے... اور قوم کے دل میں سلطان راہی کی یادیں زندہ ہیں۔