محترم جناب محمد سلیم بیگ ایک کہنہ مشق سول سرونٹ ہیں جنہوں نے پاکستان کے سرکاری، میڈیا اور انتظامی اداروں میں 38 سالہ خدمات کے دوران خود کو ایک بے مثال، ہمہ جہت اور وڑنری شخصیت کے طور پر منوایا۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز 1987ء میں سی ایس ایس امتحان کے ذریعے انفارمیشن گروپ میں شمولیت سے ہوا، اور وہ بتدریج اہم ذمہ داریوں پر فائز ہوتے چلے گئے۔ ان کی شخصیت میں قیادت، نظم و نسق، فیصلہ سازی، تحقیق، میڈیا مینجمنٹ اور بین الادارہ جاتی ہم آہنگی کی وہ خوبیاں نمایاں نظر آتی ہیں جو ایک کامیاب منتظم کی پہچان ہیں۔ محترم محمد سلیم بیگ کی حالیہ اور اہم ذمہ داری پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے چیئرمین کی ہے، جہاں وہ 12 اگست 2022ء سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی وہ 29 جون 2018ء سے 27 جون 2022ء تک اسی ادارے کے چیئرمین رہے۔ پیمرا کے تحت انہوں نے نجی میڈیا چینلز کی نگرانی، ضابطہ اخلاق کی تشکیل، لائسنسنگ کے عمل کو شفاف اور منظم بنانے اور میڈیا کی ترقی و وسعت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ اس ادارے کے اولین ارکان میں شامل تھے اور ابتدائی ڈھانچے کی بنیاد رکھنے میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔
اس سے قبل انہوں نے پرنسپل انفارمیشن آفیسر کے طور پر پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، جہاں انہوں نے نہ صرف حکومتی منصوبوں کو عوام تک مؤثر انداز میں پہنچایا بلکہ جدید میڈیا کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سوشل میڈیا سیل کی بنیاد رکھی۔ ان کے دور میں ادارے کی تمام برانچز میں آئی ٹی کے نفاذ سے پروفیشنلزم اور تیزرفتاری میں اضافہ ہوا۔ڈائریکٹر جنرل، الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلیکیشنز کی حیثیت سے انہوں نے نہ صرف ملکی سیاحت، ثقافت اور ورثے کے فروغ کے لیے ڈاکومنٹریز تیار کروائیں بلکہ اردو ادب کی عظیم شخصیات جیسے سر سید احمد خان، احمد ندیم قاسمی اور جوش ملیح آبادی پر خصوصی اشاعتیں شائع کروائیں، جو اْن کے ادبی ذوق کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔جناب محمد سلیم بیگ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ اس ادارے کے ابتدائی ارکان میں شامل تھے اور انہوں نے 1997ء سے 2002ء کے دوران ملک میں ٹیلی کمیونیکیشن کے ضوابط وضع کرنے، لائسنسنگ کے نظام کو منظم کرنے، اور ادارے کو عوامی سطح پر متعارف کروانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔پیمرا میں 2002ء سے 2008ء اور بعد ازاں 2012-2013ء کے عرصے میں بطور ڈائریکٹر جنرل انہوں نے الیکٹرانک میڈیا کے نظم و ضبط کو بہتر بنانے، نئے چینلز کو لائسنس جاری کرنے، اور مؤثر مانیٹرنگ سسٹم کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے میڈیا کو نہ صرف آزادانہ طور پر کام کرنے کے مواقع فراہم کیے بلکہ اس کی سماجی ذمہ داریوں کی حدود بھی واضح کیں۔
اس سے بھی پہلے بطور چیف میڈیا آفیسر وہ وزیر اعظم پاکستان کے دفتر میں 1993ء سے 1997ء کے درمیان خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس دوران انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو، نواز شریف، غلام مصطفیٰ جتوئی، ملک معراج خالد، میر بلخ شیر مزاری اور یوسف رضا گیلانی جیسے وزرائے اعظم کے ساتھ بطور فوکل پرسن کام کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی تھیں اور ایسی صورتحال میں میڈیا رابطوں کو مؤثر اور منظم رکھنا ایک چیلنج تھا جسے محمد سلیم بیگ نے احسن طریقے سے نبھایا۔ان کی تعلیمی قابلیت بھی ان کی فکری اور نظریاتی پختگی کی آئینہ دار ہے۔ انہوں نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاصل کی۔ مزید برآں،انہوں نے نیشنل مینجمنٹ کورس اور سینئر مینجمنٹ کورس جیسے تربیتی پروگرامز بھی مکمل کیے جو انہیں جدید نظم و نسق اور ریاستی اداروں کے معاملات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیتے رہے۔ان کی ذاتی زندگی بھی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ توازن میں رہی۔ اْن کا معمول خود احتسابی، مطالعہ، مشورہ سازی، ورزش اور خاندانی وقت پر مشتمل ہے۔ یہی ترتیب ان کی بااصول زندگی اور ذہنی و جسمانی توازن کی بنیاد بنی۔
وہ نہ صرف ایک(باقی صفحہ 4بقیہ نمبر2)
کامیاب سول سرونٹ ہیں بلکہ ایک رہنما، مصلح اور وژنری بھی ہیں۔ ان کی شخصیت میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جو کسی بھی جدید ترقی پسند اور جمہوری ریاست کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ ان کا وسیع تجربہ، علمی و ادبی ذوق، نظم و ضبط اور مثبت طرز فکر انہیں پاکستانی سول سروس کا ایک درخشاں ستارہ بناتا ہے۔ان کی خدمات کی فہرست طویل ہے، لیکن ان کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے جہاں بھی کام کیا اس ادارے میں بہتری، جدیدیت، شفافیت اور فعالیت کے آثار نمایاں کیے۔ وہ ایسے منتظم ہیں جن کے فیصلوں میں قومی مفاد، عوامی بھلائی اور ادارہ جاتی بہتری کو ہمیشہ ترجیح حاصل رہی۔ان کی شخصیت اور خدمات پاکستان کے سول سرونٹس کے لیے ایک نمونہ ہیں کہ کس طرح علم، تجربے، خلوص اور دیانت داری کے ساتھ عوامی خدمت انجام دی جا سکتی ہے۔ ان کا پیشہ ورانہ سفر نہ صرف قابل تقلید ہے بلکہ نئی نسل کے لیے ایک تحریک اور رہنمائی کا ذریعہ بھی ہے۔ان سے میری چند ذاتی ملاقاتیں نہایت خوشگوار علمی اور فکری سطح پر بے حد متاثر کن ثابت ہوئیں۔ اْن کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات کو یاد کرتا ہوں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ صرف ایک کامیاب بیوروکریٹ یا ادارہ ساز شخصیت نہیں بلکہ ایک صاحبِ ذوق، محبِ علم اور کتاب دوست انسان بھی ہیں۔ ان کی گفتگو میں علم و ادب کا رس، تاریخ کا شعور اور قومی ذمہ داریوں کا احساس صاف جھلکتا ہے۔ ان کے ساتھ بیٹھنے والا انسان فقط باتیں نہیں سنتا بلکہ سیکھتا ہے، سوچتا ہے اور تحریک پاتا ہے۔ جناب محمد سلیم بیگ کی کتابوں سے محبت محض رسمی یا نمائشی نوعیت کی نہیں بلکہ ایک گہری، مستقل اور شعوری وابستگی ہے۔ ان کی ذاتی لائبریری نہایت وسیع، منظم اور نایاب کتب سے مزین ہے۔ میں نے خود دیکھا کہ ان کی لائبریری میں تاریخ، ادب، فلسفہ، مذہب، سیاست، عمرانیات، بین الاقوامی تعلقات اور میڈیا جیسے موضوعات پر ہزاروں کتب کا ذخیرہ موجود ہے۔ وہ ہر اچھی وقیع اور علمی کتاب کو اپنی لائبریری کا حصہ بناتے ہیں۔ یہ کتابیں صرف سجانے کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ ان کے لیے یہ علم، فکر اور رہنمائی کے دروازے ہیں،کتاب کے ساتھ ان کی محبت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ کتاب کی ترویج کو اپنے فرائض کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کی یہ کوشش کہ کتاب کے کاغذ پر عائد ٹیکس ختم کیا جائے اور اسے سبسڈی دی جائے، اس بات کا مظہر ہے کہ وہ محض فرد کے طور پر نہیں بلکہ ایک ریاستی پالیسی ساز کی حیثیت سے بھی کتاب کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں کتاب کا رواج پھر سے زندہ ہو، لائبریری کلچر فروغ پائے، اور نئی نسل کو مطالعہ کی طرف راغب کیا جائے۔
یہ بات میرے لیے باعثِ فخر ہے کہ میری درخواست پر انہوں نے قلم فاؤنڈیشن کے مرکزی دفتر، والٹن روڈ، ڈیفنس لاہور تشریف لا کر عزت بخشی۔ اس ملاقات کا مقصد بھی کتاب اور مطالعہ کے فروغ پر مشاورت اور اشتراکِ عمل تھا۔ وہ نہ صرف پورے وقت متوجہ رہے بلکہ اپنے خیالات کا اظہار اتنی دلنشین اور مدلل انداز میں کیا کہ ہمارے تمام کارکنان اور مہمانان ان کے وژن اور فہم سے بے حد متاثر ہوئے۔ انہوں نے کتاب کے مستقبل، پبلشنگ کے مسائل، قارئین کی کمی، اور تعلیمی اداروں میں مطالعہ کی روایات کے زوال پر جس فکری گہرائی سے بات کی وہ آج بھی ہمارے ادارے کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ جناب محمد سلیم کی ذات ایک خاموش مگر مؤثر انقلاب کی نمائندہ ہے۔ وہ باتوں کی دنیا سے نکل کر عمل کی دنیا میں یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں بھی مطالعہ، لائبریری یا کتب میلے کی بات ہوتی ہے وہ نہ صرف شریک ہوتے ہیں بلکہ بھرپور رہنمائی بھی فراہم کرتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ اگر محمد سلیم بیگ جیسے چند اور افراد ہماری بیوروکریسی میں ہوں، تو پاکستان میں علم، کتاب، اور فکری بالیدگی کا وہ ماحول پھر سے بحال ہو سکتا ہے جس کی بنیاد ہمارے بزرگوں نے رکھی تھی۔ ان کی کتاب دوستی اور فکری ذوق ان کی شخصیت کو صرف ایک منتظم یا افسر کے درجے سے بلند کرکے ایک فکری رہنما کا مقام عطا کرتا ہے۔