پاکستان ایک ایسا زرعی ملک ہے جس کی معیشت کی شہ رگ دیہی علاقوں کے سبزہ زاروں میں دھڑکتی ہے۔ اگرچہ ہم دہائیوں سے روایتی زراعت کو اپنی معیشت کا ستون قرار دیتے آئے ہیں، لیکن معاشی حقائق بتاتے ہیں کہ اس ستون کو اصل توانائی لائیوسٹاک سیکٹر سے ملتی ہے۔ پنجاب، جو کہ ملکی معیشت کا انجن کہلاتا ہے، اب ایک ایسی بڑی معاشی تبدیلی کی دہلیز پر کھڑا ہے جہاں فرسودہ طریقوں کو جدید ٹیکنالوجی اور عالمی مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں محکمہ لائیوسٹاک پنجاب اور نجی شعبے کے مابین ہونے والے معاہدے (MoUs) اس سمت میں محض ایک انتظامی پیش رفت نہیں بلکہ ایک بڑے معاشی سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔سرکاری و نجی شراکت داری: ایک نیا تزویراتی رخلاہور لائیوسٹاک کمپلیکس میں منعقدہ حالیہ تقریب محض ایک رسمی کارروائی نہیں تھی، بلکہ یہ اس عزم کا اظہار تھا کہ حکومت اب اکیلے چلنے کے بجائے نجی شعبے کی مہارت اور سرمایہ کاری کو”شراکت دار“بنا رہی ہے۔ تاجز انٹرنیشنل، گو فوڈز، ابدین انٹرنیشنل، سید ٹریڈرز اور پیمکو جیسی بڑی میٹ کمپنیوں کے ساتھ معاہدے اس بات کی ضمانت ہیں کہ اب ”پنجاب میٹ“ عالمی برانڈ بنے گا۔ جب مقامی پیداوار عالمی معیار (International Standards) کے مطابق ڈھلے گی، تو پاکستانی گوشت صرف ضرورت نہیں بلکہ دنیا بھر کی منڈیوں میں معیار کی علامت بن کر ابھرے گا۔لائیوسٹاک کارڈ: کسان کی معاشی خودمختاری کا پروانہوزیراعلی مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت نے ”لائیوسٹاک کارڈ“کی صورت میں ایک ایسا گیم چینجر منصوبہ متعارف کرایا ہے جو براہ راست کسان کی جیب اور جانور کی صحت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ صوبائی وزیر لائیوسٹاک عاشق حسین کرمانی کے مطابق، تاریخ میں پہلی بار مویشی پال حضرات کو بلا سود قرضوں کی فراہمی ممکن ہوئی ہے، جس کے تحت اب تک تین لاکھ جانوروں کی فربہی (Fattening) کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔یہ کارڈ محض ایک پلاسٹک کا ٹکڑا نہیں بلکہ غریب کسان کے لیے معاشی آزادی کا وہ پروانہ ہے جس نے اسے آڑھتی کے چنگل سے نکال کر براہ راست منڈی کے جدید ڈھانچے سے جوڑ دیا ہے۔عالمی منڈیاں اور ویلیو ایڈیشن کا چیلنج عالمی تجارتی منظرنامے پر نظر دوڑائیں تو گوشت کی برآمدات (Meat Exports) کے ذریعے اربوں ڈالر کمانے کی صلاحیت ہمارے پاس ہمیشہ سے موجود تھی، لیکن ماضی میں "کوالٹی کنٹرول" اور "ماڈرن فارمنگ" کی کمی آڑے آتی رہی۔ اب نجی کمپنیوں کے اشتراک سے ویلیو ایڈیشن پر توجہ دی جا رہی ہے۔ جب گوشت عالمی پروٹوکولز کے مطابق پروسیس اور پیک ہوگا، تو خلیجی ممالک سمیت یورپی اور وسط ایشیائی منڈیوں میں ہماری رسائی سہل ہو جائے گی۔ یہ اقدام نہ صرف تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کو بھی استحکام بخشے گا۔دیہی معیشت اور خواتین کا کلیدی کردارپنجاب کی ان اصلاحات کا سب سے روشن پہلو دیہی معیشت میں خواتین کی شمولیت ہے۔ لائیوسٹاک سیکٹر میں خواتین ہمیشہ سے خاموش کارکن رہی ہیں، لیکن معاشی ثمرات ان تک کم ہی پہنچتے تھے۔ موجودہ پالیسیوں کے تحت خواتین کو بااختیار بنا کر دیہی علاقوں میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کو معاشی دھارے میں لایا جا رہا ہے۔ یہ سماجی و معاشی انقلاب کا وہ بیج ہے جس کے ثمرات نسلوں تک جائیں گے۔مستقبل کا لائحہ عمل: ایک مکمل ایکو سسٹمحکومت محض قرضے نہیں دے رہی بلکہ ایک مکمل "ایکو سسٹم" تیار کر رہی ہے جس میں:ویٹرنری سروسز کی ڈیجیٹلائزیشنموبائل ہسپتالوں کی فراہمینوجوانوں کے لیے لائیوسٹاک انٹرنشپ پروگرامزیہ تمام عوامل مل کر ایک ایسی زنجیر بنا رہے ہیں جو کسان کی آمدن میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملک میں پروٹین کی کمی (Nutritional Security) کے مسئلے کو بھی حل کرے گی۔حرفِ آخر: سفید انقلاب کی دستک محکمہ لائیوسٹاک اور پرائیویٹ سیکٹر کا یہ اتحاد 60 کی دہائی کے ”سبز انقلاب“کے بعد اب پنجاب میں ایک بھرپور”سفید انقلاب“کی نوید سنا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان پالیسیوں میں سیاسی تسلسل برقرار رکھا جائے تاکہ پاکستان کا لائیوسٹاک سیکٹر عالمی سطح پر ایک مضبوط برانڈ بن کر ابھرے۔ اگر یہ سفر اسی رفتار سے جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب کسان کے آنگن میں خوشحالی کا چراغ روشن ہوگا اور پاکستان کی معیشت اپنے پاں پر کھڑی ہو سکے گی۔