آزاد جموں و کشمیر کے نومنتخب وزیرِاعظم فیصل ممتاز راٹھور کا منصب سنبھالنا محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ اس خطے کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے عہد کا آغاز ہے۔ ان کی وزارتِ عظمیٰ ایک ایسے گھرانے کے تسلسل کی نمائندگی کرتی ہے جو اصول پسندی، عوامی خدمت، شفافیت اور جمہوری جدوجہد کی بنیاد پر قائم ہے۔ ان کے والد ممتاز حسین راٹھور آزاد کشمیر کی سیاست کے ان چند نمایاں رہنماو¿ں میں سے تھے جنہوں نے انتقامی سیاست سے بالاتر ہو کر عوامی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ آج اسی مضبوط سیاسی ورثے کی روشنی میں فیصل ممتاز راٹھور کا ہر قدم تول کر دیکھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ منصب ان کے لیے طاقت بھی ہے اور امتحان بھی۔آزاد کشمیرکی وزارت عظمیٰ کا منصب فیصل راٹھور کیلئے وراثتی سیاست ہی نہیں اپنی شناخت کا سفر بھی ہے۔
فیصل ممتاز راٹھور نے اپنی سیاسی شناخت صرف اپنے والد کے نام کے سائے میں نہیں بنائی بلکہ ان کا طویل سیاسی سفر تنظیمی کردار، فعال پارلیمانی شمولیت، قانون سازی میں واضح حصہ، نوجوانوں کے لیے نئے نئے عملی پروگراموں اور زمینی سطح پر عوامی رابطوں سے عبارت ہے۔ نرم گفتاری، سیاسی تحمل اور عوام کے مسائل سے براہ راست جڑت انہیں نئی نسل میں غیر معمولی مقبولیت فراہم کرتی ہے۔ مگر یہی مقبولیت ان کے لیے چیلنج بھی ہے کیونکہ وہ ایک ایسے نظام کے وارث بنے ہیں جو برسوں سے بدانتظامی، غیر ضروری سیاسی مداخلت، کمزور ادارہ جاتی ڈھانچے اور غیر مو¿ثر گورننس کا شکار رہا ہے۔ ان کے سامنے اصل امتحان وہی ہے احتساب، شفافیت، ادارہ جاتی مضبوطی اور ڈیجیٹل گورننس۔ معاشی چیلنجز فیصل راٹھور کا حقیقی میدان رہیں گے۔ آزاد کشمیر کا معاشی ڈھانچہ طویل عرصے سے وفاقی فنڈز پر انحصار کرتا آیا ہے۔ ایسے میں فیصل راٹھور کے سامنے سب سے بڑا چیلنج معاشی خود کفالت کی طرف ٹھوس اقدامات اٹھانا ہے۔ انہیں سیاحت کو صنعت بنانے، آبی و قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینے، انفراسٹرکچر کی بہتری، نجی سرمایہ کاری کے دروازے کھولنے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور تعلیم و صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے جیسی ترجیحات پر توجہ دینا ہو گی۔ عوام فوری نتائج چاہتے ہیں اور یہ دباو¿ کسی بھی نئی حکومت کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔ اگر فیصل راٹھور حقیقت پسندانہ پالیسیوں کے تحت یہ چیلنج قبول کرتے ہیں تو سیاسی میدان میں ان کا قد غیر معمولی طور پر مضبوط ہو سکتا ہے۔
بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کا سیاسی ورثہ فیصل راٹھور کے لیے سیاسی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔ فیصل راٹھور کا وزارتِ عظمیٰ تک پہنچنا پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت خصوصاً چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا فیصلہ ہے۔ راٹھور خاندان کا پیپلز پارٹی کے ساتھ دیرینہ نظریاتی اور سیاسی تعلق موجود ہے۔ اسی لیے یہ انتخاب پارٹی کے لیے فطری بھی تھا اور مو¿ثر بھی۔ بھٹو خاندان کا سیاسی ورثہ پاکستان اور کشمیر کی سیاست میں آج بھی مضبوط جذباتی و عوامی حیثیت رکھتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے بے نظیر بھٹو تک اور اب بلاول بھٹو زرداری تک، پیپلز پارٹی کا بیانیہ ہمیشہ سے کشمیر اور جمہوریت کے گرد گھومتا رہا ہے۔ یہی ورثہ فیصل راٹھور کی قیادت کو ایک وسیع تر عوامی قبولیت اور نظریاتی جواز فراہم کرتا ہے۔ بھٹو خاندان کا سیاسی اثر رسوخ فیصل راٹھور کیلئے تین بڑے فوائد رکھتا ہے: اول پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کی بھرپور حمایت انہیں اندرونی گروپ بندیوں، اتحادیوں کے مطالبات اور سیاسی توازن میں مضبوط بناتی ہے۔ دوم بھٹو ازم کا عوامی، ترقی پسند اور جمہوری بیانیہ فیصل راٹھور کیلئے ایک مضبوط سیاسی فریم ورک فراہم کرتا ہے اور سوم کشمیر جیسے حساس خطے میں پاکستان کی سب سے پرانی وفاقی جماعت کی پشت پناہی ان کے موقف کو عالمی سطح پر مزید مو¿ثر بنا سکتی ہے۔
صدر آصف علی زرداری عملیت پسندی، سیاسی بصیرت اور معاملہ فہمی میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ زرداری صاحب اپنی عملی سیاست، سیاسی مفاہمت، اتحادی سیاست اور سٹرٹیجک تدبر کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔ فیصل راٹھور کی نامزدگی اور کامیابی کے پیچھے ان کی سیاسی بصیرت اور زیرک نگاہی کا بھی اہم کردار ہے۔ زرداری صاحب کا سیاسی انداز کشمیری سیاست میں بھی توازن پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے کو داخلی اور خارجی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ زرداری صاحب کا تجربہ، بلاول بھٹو صاحب کا وژن اور بھٹو خاندان کے نظریاتی ورثے کا ملاپ فیصل راٹھور کے لیے ایک مضبوط سیاسی ماحول فراہم کرتا ہے لیکن اسی قوت کے ساتھ توقعات کا دباو¿ بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ کشمیر کی بدلتی ہوئی سفارت کاری اور پولیٹیکل ڈاینیمکس فیصل راٹھور کا امتحان بھی ہیں۔ عالمی ماحول میں کشمیر کا مسئلہ نئی جہتیں اختیار کر چکا ہے۔ بھارت کی پالیسیوں، عالمی طاقتوں کی ترجیحات اور خطے میں بدلتے ہوئے حالات نے اسے مزید حساس بنا دیا ہے۔ ایسے میں فیصل راٹھور کو ایک محتاط، مدلل، فعال اور حکیمانہ سفارتی بیانیہ ترتیب دینا ہو گا تاکہ ریاستی موقف عالمی سطح پر نمایاں اور مو¿ثر رہے۔
پیپلز پارٹی کی نئی تنظیم سازی میں فیصل راٹھور اہم ستون ثابت ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے پیپلز پارٹی پنجاب اور کشمیر میں نئی تنظیم سازی کر رہی ہے۔ نوجوانوں کی شمولیت، عوامی رابطہ مہم اور روایتی سیاست سے بیزار طبقے تک رسائی اس کی بنیادی ترجیحات ہیں۔ فیصل راٹھور کا انتخاب اس حکمتِ عملی کی کامیابی کا ثبوت بھی ہے اور مستقبل کی سیاست میں ان کی مرکزی حیثیت کی پیشن گوئی بھی۔ اگر فیصل راٹھور اچھی گورننس، شفاف پالیسیوں، میرٹ پر تقرریوں، مضبوط کابینہ، بلدیاتی نظام کی بحالی اور ڈیجیٹل ریفارمز پیش کرتے ہیں تو پیپلز پارٹی کو کشمیر میں طویل المدت سیاسی فائدہ ہو گا جس کا پنجاب میں پیپلز پارٹی کی واپسی کے حوالے سے اہم کردار ہو سکتا ہے اور یہی فائدہ مستقبل میں پنجاب کی سیاست میں بھی مستقل سرایت کر سکتا ہے۔ فیصل ممتاز راٹھور کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ان کی کارکردگی سے ہو گا۔ فیصل ایک نرم گفتار، عوام دوست اور سیاسی طور پر مضبوط ساکھ رکھنے والے رہنما ہیں۔ اگر وہ اپنے والد کی طرح اصولی سیاست کا راستہ اپناتے ہیں، شفاف گورننس پر سمجھوتہ نہیں کرتے اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بناتے ہیں تو وہ نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ آزاد کشمیر کی تاریخ میں اپنی جداگانہ اور مو¿ثر جگہ بنا سکتے ہیں۔
بھٹو ازم کی طاقت اور سیاسی ورثے کا دباو¿ انکی پشت پر اور مستقبل کا امتحان انکے سامنے ہے۔ پیپلز پارٹی کے لیے بھی ان کی کارکردگی ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکز ہے۔ یہاں اچھی حکومت پارٹی کی قومی سیاست کو نئی قوت فراہم کرے گی۔ فیصل ممتاز راٹھور کے سامنے آج تاریخ کا وہی موقع ہے جو کبھی ان کے والد ممتاز راٹھور کے سامنے آیا تھا خدمت، شفافیت اور اصول پسندی کا راستہ۔ اگر وہ اس راستے پر ثابت قدم رہے تو آزاد کشمیر میں ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ہو گا اور فیصل ممتاز راٹھور اس دور کے مرکزی کردار بن کر ابھریں گے۔