پشاور : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی سیاسی حکمت عملی رنگ لائی ہے، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے پانچ سینیٹ امیدواروں میں سے چار نے سینیٹ انتخابات سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے چار امیدوار وقاص اورکزئی، ارشاد حسین، عرفان سلیم اور عائشہ بانو نے پارٹی کے فیصلے کے مطابق اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے ہیں۔ ان تمام امیدواروں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے فیصلے پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے اپنی دستبرداری کا اعلان کیا۔
عرفان سلیم نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ "ہمیں بانی پی ٹی آئی کا ہر فیصلہ منظور ہے"، جبکہ عائشہ بانو کا کہنا تھا کہ "ہم ہمیشہ بانی پی ٹی آئی کے حکم پر لبیک کہتے ہیں۔" ارشاد حسین نے بھی اپنی دستبرداری کو پارٹی کے فیصلے کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے کے طور پر بیان کیا، اور وقاص اورکزئی نے کہا کہ "سیٹ وقتی ہے، لیکن نظریہ ہمیشہ قائم رہتا ہے، اور ہم اپنے نظریے کے ساتھ ہیں۔"
تاہم، خرّم ذیشان نے سینیٹ انتخابات سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا، اور پارٹی کی جانب سے کی جانے والی تمام کوششوں کے باوجود اپنے فیصلے پر قائم رہے۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے دستبردار ہونے والے چار امیدواروں کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ "یہ فیصلہ پارٹی کے نظریے کی جیت ہے اور نظریاتی کارکنوں نے ایک بار پھر پارٹی کا وقار بلند کیا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلے پی ٹی آئی کے وفادار کارکنوں کی مثال ہیں جو ہمیشہ پارٹی کے فیصلوں پر یقین رکھتے ہیں۔