پاکستان کی معاشی مشکلات کو اکثر بیرونی عوامل کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ کبھی آئی ایم ایف کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، کبھی عالمی منڈیوں کو اور کبھی سیاسی عدم استحکام کو۔ اگر ریاستی پالیسیوں، بجٹ ترجیحات اور عملی فیصلوں کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو ایک حقیقت واضح ہو جاتی ہے، پاکستان کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ پالیسی تضاد ہے۔ ایک ایسا تضاد جس میں قربانی ہمیشہ کسان، محنت کش اور غریب طبقہ دیتا ہے، جبکہ سہولت، تحفظ اور مراعات اشرافیہ کے حصے میں آتی ہیں۔ اس تضاد کی سب سے نمایاں مثال زراعت ہے، جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہلاتی ہے مگر عملی طور پر سب سے زیادہ نظر انداز شدہ شعبہ بن چکی ہے۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹکس کے مطابق زراعت ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 22 فیصد حصہ فراہم کرتی ہے، جبکہ 37 فیصد سے زائد افرادی قوت کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ اس کے باوجود زراعت وہ واحد بڑا شعبہ ہے جہاں کسان کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ جو فصل آج بو رہا ہے، چھ یا آٹھ ماہ بعد اس کی کم از کم قیمت کیا ہوگی؟۔
دنیا کے بیشتر زرعی ممالک میں کسان کو پیشگی قیمت کا بتا دیا جاتا ہے۔ بھارت میں کم از کم امدادی قیمت، یورپی یونین میں زرعی سپورٹ میکانزم اور برازیل میں فارورڈ کانٹریکٹس،یہ سب کسان کو یہ اعتماد دیتے ہیں کہ وہ اندھیرے میں کاشتکاری نہیں کر رہا۔ اس کے برعکس پاکستان میں گندم، کپاس، گنا اور چاول جیسی بڑی فصلیں بغیر کسی واضح ”فیوچر مارکیٹنگ“نظام کے بوئی جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسان منڈی، آڑھتی اور دلال کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔
گندم کی مثال اس پالیسی خلا کو وضح کر دیتی ہے۔حکومت نے 2023–24 میں م¶ثر طور پر گندم کی قیمت کو ڈی ریگولیٹ کیا۔ کسان نے 1900 سے 2100 روپے فی 40 کلو کے حساب سے گندم فروخت کی، کیونکہ اسے فوری نقدی درکار تھی اور ریاست نے کوئی واضح تحفظ فراہم نہیں کیا۔ چند ہی ماہ بعد یہی گندم 4500 روپے فی 40 کلو سے زائد میں فروخت ہونے لگی ہے۔ فائدہ کسان کو ہوا، نہ ریاست کو،اصل منافع مڈل مین اور ذخیرہ اندوز لے گئے۔ یہ آزاد منڈی نہیں، بلکہ انتظامی ناکامی اور پالیسی تضاد کی کلاسک مثال ہے۔ اگر اس وقت کسان کو گندم کی 3500 سے 4000 قیمت دی گئی ہوتی تو آج کسان کے ساتھ ریاست اور عوام بھی فائدہ میں ہوتے۔
آلو اور سبزیوں کا بحران بھی اسی کہانی کا تسلسل ہے۔ کسان تنظیموں کے مطابق آلو کی کاشت، ذخیرہ، بجلی اور نقل و حمل کی مجموعی لاگت 3000 روپے فی 120 کلو سے زائد بنتی ہے۔ مگر حالیہ مہینوں میں پرانا آلو 300 روپے فی من تک آ گیا، جبکہ نیا آلو 1700 روپے فی 120 کلو رُل رہا ہے۔یہ قیمت بھی لاگت پوری نہیں کرتی۔ سوال یہ نہیں کہ کسان کو منافع کیوں نہیں ملا، اصل سوال یہ ہے کہ جب فصل ہی خسارے میں فروخت ہو تو وہ اگلی فصل کیسے بوئے گا؟ کھاد، بیج، ڈیزل اور بجلی کہاں سے لائے گا؟۔
خصوصاً کپاس، جو پاکستان کی برآمدات اور ٹیکسٹائل صنعت کی بنیاد ہے، بدترین غفلت کا شکار ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پاکستان کی برآمدات میں ٹیکسٹائل کا حصہ 55 سے 60 فیصد کے درمیان ہے، اور اس پورے شعبے کی بنیاد کپاس پر ہے۔ اس کے باوجود کپاس کی پیداوار مسلسل کم ہو رہی ہے۔ مگر نہ بروقت سپورٹ پرائس دی جاتی ہے، نہ لاگت کے مطابق پالیسیاں بنتی ہیں۔ اگر کپاس کا کسان تباہ ہو رہا ہے تو اس کا اثر صرف دیہی معیشت تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ صنعتی بندش، برآمدات میں کمی اور زرمبادلہ کے بحران تک پھیلے گا۔
یہاں پالیسی تضاد پوری شدت سے اس وقت سامنے آتا ہے جب ہم شوگر سیکٹر کو دیکھتے ہیں۔ چینی کے معاملے میں ریاست کا رویہ بالکل مختلف ہے۔ جب مقامی قیمت شوگر ملز کو مناسب نہیں لگتی تو برآمدات کی اجازت بھی مل جاتی ہے، سبسڈی بھی اور ریبیٹس بھی۔ جب قیمت بڑھتی ہے اور قلت پیدا ہوتی ہے تو درآمدات کھول دی جاتی ہیں۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے متعدد فیصلے اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ شوگر سیکٹر میں پالیسی کا مقصد قیمت کو مستحکم کرنا نہیں بلکہ مخصوص مفادات کو تحفظ دینا ہے۔ اس کے برعکس آلو، گندم، کپاس یا دودھ کے کسان کے لیے نہ برآمدی سہولت ہے، نہ قیمت کا تحفظ۔ نتیجتاً عام کسان آڑھتیوں اور مڈل مینوں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہے۔ ریاست ایک طرف کسان سے سستا دودھ اور سستی گندم خرید کر شہری ووٹر کو وقتی ریلیف دیتی ہے اور دوسری طرف بڑی منڈیوں میں بیٹھے ان تاجروں کی تجوریاں بھرتی ہے جو اکثر کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے مالی سرپرست بھی ہوتے ہیں۔ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم گٹھ جوڑ ہے، جس میں سیاست، پالیسی اور سرمایہ ایک ہی سمت میں حرکت کرتے ہیں۔
یہی تضاد توانائی کے شعبے میں بھی نظر آتا ہے۔ آئی پی پیز کو تقریباً تین دہائیوں سے ڈالر بیسڈ گارنٹیز، کیپسٹی پیمنٹس اور مختلف سبسڈیز دی جا رہی ہیں، جس کا بوجھ عوام مہنگی بجلی اور گردشی قرضے کی صورت میں اٹھا رہے ہیں۔ مگر جب عام شہری نے اپنی جیب سے سولر لگا کر نیٹ میٹرنگ کے ذریعے خود کفالت کی کوشش کی تو پالیسی اچانک بدلنے لگی۔ نیٹ میٹرنگ ریٹس میں کمی اور سہولت میں رکاوٹ؟یہ سب اس لیے کہ آئی پی پیز اور آئی ایم ایف ناراض نہ ہوں؟سوال یہ ہے کہ اگر عوام اپنی توانائی خود پیدا کریں تو اس میں ریاست کا نقصان کہاں ہے؟۔
پاکستان پالیسی ڈائیلاگ میں وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کا یہ اعتراف کہ حکومت غریب کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے، دراصل اسی پورے نظام پر ایک ریاستی فردِ جرم تھا۔ چار ارب ڈالر 50 امیر افراد کو صفر فیصد سود پر دینا، جبکہ ریاست خود 12 فیصد سے زائد پر قرض لے،یہ معاشی مجبوری نہیں بلکہ طبقاتی ترجیح ہے۔ اگر یہی وسائل کسان، نوجوان، ایس ایم ای اور پیداواری شعبوں میں لگائے جاتے تو معیشت کی سمت مختلف ہو سکتی تھی۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو ان اسمبلی ممبران کی خاموشی ہے جو خود کو دیہات اور کسان کا نمائندہ کہتے ہیں، مگر ایوانوں میں کسان کش پالیسیوں پر لب کشائی نہیں کرتے۔ یہ خاموشی لاعلمی نہیں بلکہ مفادات کی شراکت داری ہے۔پاکستان کا اصل مسئلہ پالیسی ڈاکیومنٹس یا خوشنما نعروں کی کمی نہیں، بلکہ نیت کی خرابی ہے۔ جب تک سبسڈی، قرض اور قوانین طاقت کے بجائے پیداوار سے نہیں جڑتے، جب تک کسان اور غریب طبقات پالیسی کا مرکز نہیں بنتے اور جب تک دکھاوے کے اقدامات کے بجائے ساختی اصلاحات نہیں کی جاتیں،تب تک معیشت بحران سے نہیں نکلے گی۔یہ معیشت نعروں سے نہیں، ترجیح اور نیت کی درستی سے بحال ہو گی۔