پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں صرف سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ دلوں، ذہنوں اور معاشرتی رویّوں کی حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہو چکی ہے۔ جدید دنیا میں ریاستیں صرف اسلحے کی طاقت سے نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، قومی اتفاقِ رائے، سماجی برداشت اور عوامی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ جب ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جاتا ہے تو دراصل صرف ایک ادارے کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کے امن، ترقی اور مستقبل کو خطرے میں ڈالا جاتا ہے۔
گزشتہ دنوں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ یہ صرف ایک عسکری اعلان نہیں بلکہ اس قومی سوچ کا اظہار ہے کہ پاکستان میں آئین اور قانون سے بالاتر کسی فرد، گروہ یا تنظیم کی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ ایک مہذب ریاست میں بندوق کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہوتا ہے، اور یہی اصول ہر ترقی یافتہ ملک کی بنیاد ہے۔
اسی سوچ کی جھلک ہمیں اس وقت بھی نظر آئی جب ساوتھ ایشین کالمسٹ کونسل (ساک) کے وفد نے چیئرمین میاں سیف الرحمن، سرپرست اشرف سہیل اور راقم کی قیادت میں سیکٹر کمانڈر آئی ایس پی آر پنجاب بریگیڈیئر محمد آصف سے ایک غیر رسمی مگر انتہائی اہم ملاقات کی۔ بظاہر یہ ایک ملاقات تھی، لیکن درحقیقت یہ قومی بیانیے، سماجی ہم آہنگی اور ریاستی استحکام پر ایک سنجیدہ مکالمہ تھا۔
گفتگو کے دوران بریگیڈیئر محمد آصف نے جس اعتماد اور وضاحت کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا، وہ قابلِ توجہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا پاکستان کسی بھی صورت "ریاست کے اندر ریاست" کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔ ماضی کی بعض غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اب قومی عزم یہ ہے کہ ملک کو ہر قسم کے مسلح جتھوں، غیر ریاستی عناصر اور قانون شکن قوتوں سے مکمل طور پر پاک کیا جائے۔ ان کا یہ جملہ کہ "ریاست سے طاقتور کوئی نہیں ہوتا" دراصل
آئین کی روح اور قومی سلامتی کی بنیاد ہے۔ لیکن اس ملاقات کا سب سے اہم پہلو صرف سکیورٹی نہیں تھا بلکہ سماجی رویوں پر ہونے والی گفتگو بھی تھی۔ بریگیڈیئر محمد آصف نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ بڑھتی ہوئی آبادی، معاشرتی تقسیم، برداشت کی کمی اور نفرت انگیز رویے بھی قومی سلامتی کے بڑے چیلنجز ہیں۔ اگر معاشرہ اندر سے کمزور ہو جائے تو بیرونی خطرات سے نمٹنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قانون صرف جرم کو سزا دے سکتا ہے، کردار نہیں بنا سکتا۔ عدالتیں انصاف فراہم کر سکتی ہیں مگر محبت پیدا نہیں کر سکتیں۔ برداشت، رواداری، مکالمہ، اخلاق اور ایک دوسرے کی عزت جیسے اوصاف خاندان، تعلیمی اداروں، مذہبی مراکز، میڈیا اور سماجی قیادت کے ذریعے ہی فروغ پاتے ہیں۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو قوموں کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا گیا ہے۔ سیاسی وابستگی، مذہبی فکر، لسانی شناخت یا سوشل میڈیا کی کسی پوسٹ کی بنیاد پر لوگوں کو غدار، دشمن یا ملک مخالف قرار دینا معمول بنتا جا رہا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر جمہوری ہے بلکہ قومی وحدت کےلئے بھی نقصان دہ ہے۔
بریگیڈیئر محمد آصف نے اسی تناظر میں ایک نہایت اہم بات کہی کہ پاکستان میں رہنے والا ہر شہری محبِ وطن ہے اور کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اختلاف کی بنیاد پر کسی دوسرے پاکستانی کی حب الوطنی پر سوال اٹھائے۔ یہ سوچ دراصل پاکستان کے آئینی اور جمہوری تصور کی عکاس ہے۔ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، مگر نفرت اس کا زوال۔
بطور صحافی اور کالم نگار میں سمجھتا ہوں کہ قلم کی ذمہ داری صرف تنقید کرنا نہیں بلکہ راستہ بھی دکھانا ہے۔ میڈیا اگر صرف سنسنی پھیلائے، سیاست دان صرف ووٹ کی فکر کریں، مذہبی رہنما صرف اپنے حلقے تک محدود رہیں اور دانشور معاشرے سے لاتعلق ہو جائیں تو قومی ہم آہنگی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ ہر طبقے کو اپنی اپنی جگہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
وفد میں شامل حنیف انجم، شہزاد احمد، مقصود خالد، شوکت مروت، رقیہ غزل اور معارج ضمیر نے بھی موجودہ سیاسی اور سماجی حالات کے تناظر میں اس ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا۔ تمام شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ قلم اور فکر کے ذریعے معاشرے میں برداشت، قومی یکجہتی اور مثبت سوچ کو فروغ دیا جائے گا، کیونکہ مضبوط ریاست کی بنیاد مضبوط معاشرہ ہی ہوتا ہے۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ دہشت گردی صرف بارود سے نہیں پھیلتی، نفرت انگیز زبان، جھوٹی خبروں، انتہاپسندانہ بیانیوں اور معاشرتی تقسیم سے بھی جنم لیتی ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو برداشت، احترام اور مکالمے کا درس نہیں دیں گے تو مستقبل میں صرف قوانین کافی ثابت نہیں ہوں گے۔ امن صرف بندوق کی حفاظت سے نہیں بلکہ شعور کی آبیاری سے قائم رہتا ہے۔پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم نے اتحاد، نظم اور اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، ہر بحران پر قابو پایا۔ آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے، ادارے قانون کے مطابق کام کریں، سیاسی قیادت قومی مفاد کو مقدم رکھے، میڈیا ذمہ دارانہ کردار ادا کرے اور عوام بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ یہ درست ہے کہ ریاست کی طاقت فوج، پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ اس طاقت کا اصل سرچشمہ وہ عوام بھی ہوتے ہیں جو اپنے وطن پر اعتماد رکھتے ہیں، قانون کی پاسداری کرتے ہیں اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ جب معاشرہ برداشت سیکھ لیتا ہے تو شدت پسندی خود بخود کمزور پڑ جاتی ہے۔
ریاست کی رٹ کا احترام، قانون کی بالادستی، دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل عزم اور معاشرے میں برداشت و رواداری کا فروغ، دراصل ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں ہیں۔ اگر ہم نے ان اصولوں کو اپنا لیا تو نہ صرف دہشت گردی شکست کھائے گی بلکہ نفرت، تقسیم اور عدم برداشت بھی دم توڑ دیں گے۔ تب ہی وہ پاکستان وجود میں آئے گا جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا؛ ایک ایسا پاکستان جہاں ہر شہری خود کو محفوظ، باعزت اور برابر کا پاکستانی محسوس کرے۔