پاکستان میں ایک خاص طرزِ فکر کو مسلسل پروان چڑھایا گیا ہے کہ اگر کوئی ''نظام'' پر تنقید کرے تو اسے فوراً ''ریاست مخالف'' قرار دے دیا جائے۔ اس بیانیے کو تقویت دینے کے لیے اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ملک نازک حالات سے گزر رہا ہے لہٰذا اختلافِ رائے کو وقتی طور پر معطل کر دینا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ وقتی خاموشی آخر کب ختم ہوگی؟ گزشتہ 78 برس سے یہی روش جاری ہے اور اس کی قیمت تین نسلیں ادا کر چکی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ایک مفاداتی اتحاد موجود ہے۔ سیاسی، معاشی اور علمی اشرافیہ پر مشتمل جو موجودہ نظام کا براہِ راست بینیفشری ہے۔ یہ طبقہ ہر دور میں وقتی کامیابیوں، جزوی اصلاحات اور طاقتور حلقوں کی سہولت کاری کو ''قومی کامیابی'' بنا کر پیش کرتا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ چند برس بعد انہی فیصلوں کی حقیقت کھلتی ہے کہ وہ قومی مفاد نہیں بلکہ ذاتی اور گروہی مفادات کے تحت ڈیزائن کیے گئے ہوتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ کا سنجیدگی سے جائزہ لیں تو ایک مستقل پیٹرن سامنے آتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ سٹرٹیجک تعلقات، وقتی فائدے اور طویل المدتی قومی نقصان۔ ایوب خان کے دور میں امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کو ترقی کا زینہ قراردیا گیا۔ پاکستان امریکی بلاک میں شامل ہو کر سیٹواور سینٹو جیسے معاہدوں کا حصہ بنا، امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کیے اور بدلے میں ”ترقی“ کا خواب دکھایا گیا۔ صنعتی انقلاب کے نام پر چند خاندانوں کو نوازا گیا، جسے بعد میں خود ”22 خاندانوں کی معیشت“ کہا گیا۔ مگر نتیجہ شدید معاشی عدم مساوات، سیاسی بے چینی اور بالآخر 1971 میں ملک کا دو لخت ہونا تھا۔
پھر 1980 کی دہائی آئی۔ سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں جنگ۔ اس جنگ کو ''اسلامی جہاد'' کا رنگ دیا گیا، ریاستی سرپرستی میں مذہبی بیانیہ تشکیل دیا گیا اورلاکھوں نوجوانوں کو اس جنگ میں جھونک دیا گیا۔ بعد ازاں خود پاکستانی عسکری قیادت نے اعتراف کیا کہ یہ جنگ ایک سٹرٹیجک غلطی تھی۔ مگر اس وقت جو باشعور لوگ اس پالیسی پر تنقید کر رہے تھے، انہیں غدار، کافر اور ریاست دشمن قرار دیا گیا۔ اس جنگ کے اثرات نے پاکستانی معاشرے کو اندر سے بدل دیا۔کلاشنکوف اور منشیات کلچر، فرقہ وارانہ تشدد اور مستقل عدم استحکام اس کی قیمت تھی، جبکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بھی مشکوک ہو گئی۔
1990 کی دہائی میں امریکہ نے پریسلر ترمیم کے تحت پاکستان پر پابندیاں عائد کر دیں اور پاکستان کو ہر حوالے سے تنہا چھوڑ دیا، حالانکہ یہی ملک اس سے پہلے اسی امریکہ کے لیے فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کر رہا تھا۔ معاشی کمزوری کی وجہ سے توانائی بحران نے جنم لیا۔ اس کے حل کے نام پر آئی پی پیز کا ماڈل متعارف کرایا گیا۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں شروع اور بعد ازاں تمام حکومتوں میں ہونے والے ان معاہدوں کی حقیقت آج کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ 2026 میں بھی پاکستان تقریباً 2000 ارب روپے کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کرے گا، چاہے بجلی لی جائے یا نہیں۔ یہ معاہدے عوامی مفاد سے زیادہ نجی کمپنیوں کے منافع کو یقینی بنانے کے لیے تشکیل دیئے گئے تھے اوران کا بوجھ آج پوری قوم اٹھا رہی ہے۔
پھر مشرف دور آیا، جہاں وہی ''جہاد'' اچانک حرام قرار پایا اور پاکستان نے امریکہ کی ''وار آن ٹیرر'' میں ایک بار پھر فرنٹ لائن کردار ادا کیا۔ اس جنگ کے نتائج تباہ کن نکلے۔ڈیڑھ لاکھ سے زائد پاکستانی جانوں کا ضیاع، سو ارب ڈالر سے زیادہ معاشی نقصان، اندرونی دہشت گردی اور عالمی سطح پر اعتماد کا شدید بحران۔ اور جب امریکہ افغانستان سے نکلا تو اس نے اپنی ناکامی کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈال دیا۔
یہ وہی امریکہ ہے جو ہر بار پاکستان کی خدمات کا صلہ الزامات، پابندیوں اور بے وفائی سے دیتا ہے، مگر جب اسے ضرورت پڑتی ہے تو وہی پرانی تعریفوں کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں۔ آج ایک بار پھر صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ امریکہ خطے میں اپنی کمزور ہوتی پوزیشن، خلیجی کشیدگی اور ایران کے ساتھ تنا¶ کے باعث ایک نئی حکمت عملی کی تلاش میں ہے۔ ایرانی مزاحمت نے امریکی طاقت کے تاثر کو شدید دھچکا دیا ہے اور امریکی صدر کی داخلی، سیاسی و عالمی ساکھ اس وقت ایک ڈوبتی کشتی کی مانند ہو چکی ہے جسے کسی سہارے کی تلاش ہے۔ ایسے میں پاکستان کو ایک بار پھر ''سہولت کار'' کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور تعریفوں کا وہی پرانا بیانیہ دوبارہ سنائی دے رہا ہے جو ہم ایوب، ضیا اور مشرف کے ادوار میں سن چکے ہیں۔
لیکن اس بار سوال زیادہ سنجیدہ ہے کہ کیا ہم دوبارہ وہی غلطی دہرائیں گے؟ پاکستان کی داخلی ضرورت واضح ہے۔ خطے میں امن ہو تاکہ ہم اپنے توانائی بحران اور معاشی دبا¶ سے نکل سکیں۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم کسی دوسری ریاست، خصوصاً ایران، کو اس بات پر آمادہ نہ کریں کہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی اور معاشی مفادات پر سمجھوتہ کرے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ نظام اور ریاست ایک چیز نہیں ہیں۔ ریاست عوام، سرزمین اور خودمختاری کا نام ہے، جبکہ نظام ایک ایسا ڈھانچہ ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے اور جس کی اصلاح یا تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔
لہٰذا، نظام پر تنقید دراصل ریاست کو مضبوط کرنے کی کوشش ہوتی ہے نہ کہ اسے کمزور کرنے کی۔ اصل ریاست دشمن تو وہ نظام ہے جو عوام کو قرضوں میں جکڑ دے، چند طبقات کو فائدہ دے اور اکثریت کو محروم رکھے، بیرونی طاقتوں کے مفادات کو ترجیح دے اور تاریخ سے سبق نہ سیکھے۔ پاکستان کو آج ایک نئے فکری موڑ کی ضرورت ہے۔ ایسا نظریہ جو انسان دوست ہو، ظلم کے خلاف ہو اور حقیقی خودمختاری پر مبنی ہو۔ ہمیں عالمی تعلقات ضرور بہتر بنانے چاہئیں مگر برابری کی بنیاد پر، نہ کہ تابع داری پر۔
تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی اورجو فیصلے آج پردوں کے پیچھے ہوتے ہیں وہ کل ضرور بے نقاب ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم بطور قوم یہ طے کریں کہ ہم ریاست کے وفادار ہیں مگر ایک ناکام، غیر منصفانہ اور بیرونی مفادات کے تابع نظام کے نہیں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ نظام پر تنقید ریاست سے محبت کی سب سے اعلیٰ شکل ہے اور یہی وہ طرزِ فکر ہے جو ایک مسلمان فرد اور ریاست کا طرہ امتیاز ہونا چاہیے کہ وہ حق کے ساتھ کھڑا ہو، ظلم کے خلاف آواز اٹھائے اور کسی بھی طاقت کے سامنے اپنی خودمختاری اور اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرے۔