Wed, September 16, 2026

سیلاب: قدرتی آفت یا بدعنوانی کا کاروبار؟

 سیلاب: قدرتی آفت یا بدعنوانی کا کاروبار؟

سیلاب کیا آیا، ہماری انتظامی نااہلی اور حکمرانوں کی بددیانتی کھل کر سامنے آ گئی۔ایک ہزار سے زیادہ لوگ لقمہ اجل بنے، ہزاروں گھر اور کھیت برباد ہوئے اور اربوں روپے کا پانی یوں ضائع ہوا جیسے ہم کسی بنجر صحرا کے مسافر نہیں بلکہ پانی کے سمندر پر آباد ہوں۔ مگر اصل المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران ہر سال اس آفت کو عبرت نہیں، کمائی کا موقع سمجھتے ہیں۔ دنیا بھر میں سیلاب کو محض فطری آفت نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ انسانی بقا اور معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ترقی یافتہ دنیا نے سائنس، منصوبہ بندی اور شفافیت کے ذریعے نقصانات کو کم کیا، لیکن ہم آج بھی امداد، فوٹو سیشن اور کرپشن کے گھن چکر میں قید ہیں۔ سیلاب آتا ہے تو میڈیا پر وزیر، مشیر اور افسران تصویریں بنواتے ہیں، پھر چند دن بعد سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ اگلے برس وہی تماشا دہرا دیا جاتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹیں بار بار خبردار کر رہی ہیں کہ صرف گزشتہ تیس برسوں میں قدرتی آفات نے زراعت اور مویشیوں کے شعبے کو 3.8 ٹریلین ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ سب سے بڑا حصہ سیلاب نے برباد کیا۔ دنیا نے اس حقیقت سے سبق سیکھ کر زرعی بیمہ اور جدید انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی۔ مگر ہمارے ہاں اربوں ڈالر کے فنڈز کھا لیے جاتے ہیں اور نتیجہ صفر نکلتا ہے۔ یہ بددیانتی نہیں تو اور کیا ہے؟2000 سے 2019 تک سیلاب نے دنیا بھر میں 1.6 بلین انسان متاثر کیے اور 651 بلین ڈالر ہڑپ کر لیے۔ 2020 کے جنوبی ایشیائی سیلاب میں 6,500 جانیں ضائع ہوئیں اور 105 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ یہ صرف اعداد نہیں بلکہ چیختے بلکتے خاندان ہیں۔ لیکن پاکستانی حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔2022 کا سیلاب تو ہمارے قومی کردار پر بدنما داغ بن گیا۔ 33 ملین لوگ متاثر، 1,739 جاں بحق، 1.1 ملین گھر زمین بوس، 1.16 ملین مویشی پانی میں بہہ گئے۔ نقصان 40 بلین ڈالر تک جا پہنچا۔ لیکن بحالی کے لیے آنے والا پیسہ کہاں گیا؟ دبئی کے ولاز میں، لندن کے اپارٹمنٹس میں، نیویارک کی جائیدادوں میں۔ متاثرہ عوام کو امداد کے نام پر آٹے کا تھیلا ملا، باقی سب کمیشن خور بیوروکریسی اور کرپٹ سیاست دانوں کی جیب میں چلا گیا۔ اس سے بڑی بے شرمی اور کیا ہوگی کہ انسانی جانوں کے المیے پر بھی کمائی کی جاتی ہے؟دنیا نے قدرتی آفات کو قابو کرنے کے لیے سخت فیصلے کیے۔ سوئٹزرلینڈ کے پہاڑ بھی ہیں، برفانی تودے بھی گرتے ہیں، مگر وہاں ایک جامع نظام ہے۔ اس لیے ان کے ہاں آفات تباہی کم اور سبق زیادہ دیتی ہیں۔ ہمارے پاس بھی پہاڑ اور دریا ہیں مگر قیادت کا وژن صفر ہے۔ یہاں پالیسی صرف تقریر اور پریس کانفرنس تک محدود ہے۔
امریکہ کی مثال سامنے ہے۔ 1980 میں وہاں آفات سے 3 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، 2024 میں یہ 185 بلین ڈالر تک پہنچا۔ لیکن امریکی حکومت نے بیمہ، انفراسٹرکچر اور وارننگ سسٹم پر سرمایہ کاری کر کے جانی نقصان کم رکھا۔  2024 میں برازیل، چین اور یورپ کے سیلاب نے 229 بلین ڈالر کا نقصان کیا اور 2,000 زندگیاں لیں۔ یہ سب ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی غفلت کی قیمت ہے۔ دنیا نے مان لیا کہ اب یہ صرف قدرتی مظاہر نہیں بلکہ گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ہیں۔ مگر پاکستان کے حکمران آج بھی عوام کو طفل تسلیاں دیتے ہیں۔ اصل جرم یہ ہے کہ دریا اور نالے، جو پانی کے فطری راستے تھے، وہاں ہاؤسنگ سکیمیں اور پلازے کھڑے کر دیئے گئے ہیں۔ یہ قبضہ مافیا کھلے عام سرکاری اجازت سے قومی امانتوں پر ڈاکہ ڈال رہا ہے۔ جب پانی بہنے نکلتا ہے تو سیکڑوں زندگیاں اور کھربوں روپے بہا لے جاتا ہے۔ ان مجرموں کو جرمانے نہیں بلکہ عبرتناک سزائیں دینا ہوں گی۔ اگر چند بڑے مگرمچھوں کو تختۂ دار پر لٹکا دیا جائے تو باقی خود بخود سیدھے ہو جائیں گے۔
یہ حقیقت تلخ ہے مگر ناگزیرکہ سیاست دان ہمیشہ سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ ان کے مفادات کرپٹ مافیا سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس گند کو صاف کرنا صرف طاقتور اداروں کے بس کا کام ہے۔ خوش آئند بات ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے وزراء کو بیوروکریسی میں مداخلت سے روکنے کی ہدایت دی۔ یہی حکم باقی صوبوں میں بھی فوری نافذ ہونا چاہیے تاکہ آفات کے وقت بیوروکریسی آزادانہ فیصلے کر سکے۔لیکن اصل سوال باقی ہے: یہ تماشا کب تک چلے گا؟ کب تک ہم ہر سال مرنے والوں کے جنازے گنیں گے اور پھر اگلے سال وہی کہانی دہرائیں گے؟ اگر ہم نے دنیا کی مثالوں سے سبق نہ سیکھا تو آنے والے برسوں میں سیلاب ہماری معیشت، سماج اور ذہنوں کو تباہ کر دے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب! اگر آپ واقعی ریاست کو عوام کی ماں ثابت کرنا چاہتے ہیں تو آبی گزرگاہوں کو قبضہ گروپوں اور بدعنوانوں سے آزاد کرائیں۔ یہ وہ کام ہے جو صرف آپ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ نے بھی خاموشی اختیار کی تو تاریخ آپ کو محسن نہیں، شریکِ جرم لکھے گی۔ یاد رکھیں، ہر نیا سیلاب اب صرف پانی نہیں لائے گا، یہ ہماری غیرت، ہماری عزت اور ہمارا مستقبل بھی بہا لے جائے گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیرصاحب! یہ وقت محض بیانات اور دوروں کا نہیں، عملی فیصلوں کا ہے۔ سیلاب کے نام پر ہونے والی بدعنوانی نے قوم کو جتنا تباہ کیا ہے، اتنا شاید خود پانی نے بھی نہیں کیا۔ دریا، نالے اور برساتی نالیاں قدرتی امانت ہیں، مگر انہیں پلاٹوں، ہاؤسنگ سکیموں اور سیاسی سفارشات کے ذریعے قبضہ گروپوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یہ لوگ وہ اصل مجرم ہیں جو اپنی تجوریوں کو بھرنے کے لیے پوری قوم کو ڈبو دیتے ہیں۔ ان کی سرپرستی بیوروکریسی کے اندر سے ہوتی ہے، سیاسی چھتری ان پر تان دی جاتی ہے اور پھر جب پانی راستہ مانگتا ہے تو عوام کی لاشیں اور اربوں کا نقصان اس جرم کی قیمت بن جاتے ہیں۔ اس گھناؤنے کاروبار کو روکنا کسی عام افسر یا مقامی انتظامیہ کے بس کی بات نہیں، یہ وہی کر سکتے ہیں جو طاقت کے اصل مراکز پر بیٹھے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے پاس اختیارات ہیں، مگر ان اختیارات کو اگر صرف تقریروں اور فوٹو سیشنوں میں ضائع کیا گیا تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے پاس طاقت ہے۔ قوم آج آپ دونوں کی طرف دیکھ رہی ہے۔ یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ سیلاب کے بہانے بننے والے کرپشن کے اس کاروبار کو جڑ سے کاٹتے ہیں یا اگلے برس پھر انہی تصویروں، انہی دعووں اور انہی جنازوں کا سلسلہ دہرایا جاتا ہے۔ یاد رکھیں! یہ محض پانی نہیں جو ہر سال بہتا ہے، یہ عوام کے خواب، ان کا مستقبل اور ان کی امیدیں ہیں جو سیلاب کے ساتھ بہہ جاتی ہیں۔ آج بھی وقت ہے کہ آپ دریا کے راستے آزاد کرا دیں، آبی گزرگاہوں کو قومی امانت سمجھ کر بحال کریں اور کرپٹ مگرمچھوں کو تختہ دار پر لٹکا کر عوام کو یقین دلائیں کہ ریاست واقعی ماں ہے۔

ٹیگز: