Wed, September 16, 2026

ایشیا میں قدرتی آفات: سیلاب، طوفان اور لینڈ سلائیڈنگ سے ایک ہفتے میں 1250 سے زائد ہلاکتیں

ایشیا میں قدرتی آفات: سیلاب، طوفان اور لینڈ سلائیڈنگ سے ایک ہفتے میں 1250 سے زائد ہلاکتیں

جکارتہ : ایشیا کے مختلف ممالک میں اس ہفتے قدرتی آفات نے تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں 1250 سے زائد افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ سیلاب، طوفان اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے، اور ہزاروں افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوگئے ہیں۔

انڈونیشیا میں شدید بارشوں کے بعد سیلاب آ گیا جس میں تقریباً 700 افراد ہلاک ہو گئے۔ سیلاب نے بڑے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور لوگوں کی املاک و بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن بہت سے متاثرہ علاقے تک پہنچنا مشکل ہو رہا ہے۔

سری لنکا میں بھی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ یہاں پر 390 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں اور لاکھوں لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کی وجہ سے پورے علاقے کا نظام زندگی درہم برہم ہو چکا ہے۔

تھائی لینڈ میں سیلاب نے درجنوں بستیوں کو زیر آب کر دیا ہے اور 176 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ سیلابی ریلوں کی وجہ سے متعدد علاقے مکمل طور پر متاثر ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

ملائیشیا میں بھی بارشوں سے مختلف علاقوں میں پانی جمع ہوگیا ہے اور کئی اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ بارشوں نے پورے علاقے میں تباہی مچائی اور لوگ اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں ان قدرتی آفات کی شدت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ بارشوں کی زیادتی اور سمندری طوفانوں کی شدت میں اضافہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی ایک واضح نشانی ہے۔

تمام متاثرہ ممالک میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، لیکن خراب موسمی حالات اور سیلاب کی شدت کی وجہ سے امداد فراہم کرنے میں مشکلات آ رہی ہیں۔ حکومتی ادارے اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فوری مدد فراہم کی جا سکے۔

یہ قدرتی آفات نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کر رہی ہیں، بلکہ معیشت اور انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اب مزید واضح ہو چکے ہیں، اور عالمی سطح پر ان آفات سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

ٹیگز: