Wed, September 16, 2026

خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات کا قہر، 313 افراد جاں بحق، سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ کی تباہی

خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات کا قہر، 313 افراد جاں بحق، سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ کی تباہی

پشاور: خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات نے قیامت کا منظر پیش کیا، بادل پھٹنے، آسمانی بجلی گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ نے صوبے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ سیلابی ریلے اور ملبے کے باعث رابطہ سڑکیں اور پل بہہ گئے، جبکہ مکانات ملبے تلے دب گئے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق، صوبے میں 313 افراد کی اموات کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں 263 مرد، 29 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان بونیر میں ہوا، جہاں 208 افراد جاں بحق اور 180 سے زائد زخمی ہوئے۔

سیلاب نے بونیر کے ایک علاقے میں ایک ہی خاندان کے 22 افراد کو ریلے کی نذر کر دیا، جبکہ لوئر دیر کے علاقے سوری پاؤ میں بھی ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی جان گئی۔ پیر بابا میں 200 افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔ ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

باجوڑ میں ریسکیو آپریشن مکمل ہو چکا ہے، اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے وفاق کی جانب سے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 20 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

ٹیگز: