زندہ رہنے اور بروئے کار آنے کے لیے معاشروں کو امید کی مشعل درکار ہوتی ہے۔ پاکستان نے یہ مشعل روشن کر دی۔ کیا عجب ہے کہ چراغ سے چراغ جلے اور بالآخر خطے میںچراغاں ہو جائے۔
جارج آر آرمارٹن نے گیمز آف تھرونز سیریز کا پہلا ناول ہے، جو 1996 میں پہلی بار شائع ہوا۔ اس کہانی میں اقتدار کی کشمکش مختلف طاقتور خاندانوں کے درمیان دکھائی گئی ہے،یہ کہانی ایک خیالی دنیا ویسٹرس میں رونما ہوتی ہے جہاں مختلف طاقتور خاندان لوہے کے تخت پر قبضے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف برسرِپیکار ہیں۔ یہاں اصل جنگ ہمیشہ تلواروں سے نہیں لڑی جاتی بلکہ سیاست، دھمکیوں، خوف، اتحاد اور دھوکے کے ذریعے مقابلہ کیا جاتا ہے۔ ہر خاندان اپنی طاقت قائم رکھنے اور دوسروں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے ایک مخصوص حکمتِ عملی اپناتا ہے۔
نارتھ کا اسٹارک خاندان اس دنیا میں عزت، سچائی اور اصولوں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان کے سربراہ نید اسٹارک ایک ایماندار اور سیدھے کردار کے حامل شخص ہیں ،جو سیاست کی پیچیدگیوں سے زیادہ انصاف اور اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم یہی سیدھا پن انہیں خطرناک سیاسی کھیل میں کمزور بنا دیتا ہے، کیونکہ ویسٹرس کی دنیا میں اصول اکثر طاقت کے سامنے ٹوٹ جاتے ہیں۔
دوسری طرف لینسٹر خاندان ہے، جس کے پاس بے پناہ دولت، سیاسی اثر و رسوخ اور بے رحم حکمتِ عملی ہے۔ ٹاﺅِن لینسٹر اس خاندان کا طاقتور سربراہ ہے جو براہِ راست جنگ سے زیادہ ذہنی دباﺅ اور سیاسی چالوں پر یقین رکھتا ہے۔ ان کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ مخالف کو کھلے عام دھمکیاں دی جائیں، مگر اصل مقصد اسے اس حد تک خوفزدہ کرنا ہو کہ وہ بغیر جنگ کے ہی جھکنے پر مجبور ہو جائے۔اس ماحول میں جب بادشاہ رابرٹ بارتھیون کی موت کے بعد اقتدار کا بحران پیدا ہوتا ہے تو حالات مزید بگڑ جاتے ہیں۔ نید اسٹارک کو دارالحکومت بلایا جاتا ہے اور وہ وہاں جا کر تخت کے پیچھے چھپے رازوں اور سازشوں کا ادراک کرتا ہے۔ جلد ہی وہ خود اس سیاسی جال میں پھنس جاتا ہے جہاں دھمکیاں براہِ راست نہیں بلکہ قانونی، سماجی اور خاندانی دباﺅ کے ذریعے دی جاتی ہیں۔
اسٹارک خاندان کو کمزور کرنے کے لیے لینسٹر خاندان مرحلہ وار اقدامات کرتا ہے۔ نید اسٹارک کو گرفتار کر لیا جاتا ہے تاکہ باقی اتحادی خوفزدہ ہو جائیں اور مزاحمت ترک کر دیں۔ یہاں اصل حکمتِ عملی یہ ہوتی ہے کہ ایک بڑے کردار کو نشانہ بنا کر پوری تحریک کو روک دیا جائے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں طاقتور اور کمزور کے درمیان فرق واضح ہو جاتا ہے۔اسی دوران شمال میں رابر اسٹارک اپنی قیادت میں بغاوت کرتا ہے اور خود کو بادشاہ قرار دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مختلف خاندان بھی اپنی اپنی آزادی اور طاقت کے لیے میدان میں آ جاتے ہیں۔ اگرچہ بظاہر یہ جنگیں لگتی ہیں، لیکن ان کے پیچھے مسلسل سیاسی دباﺅ، دھمکیاں اور خفیہ معاہدے کارفرما ہوتے ہیں۔ ہر فریق یہ چاہتا ہے کہ دوسرا لڑنے کے بجائے پیچھے ہٹ جائے یا سمجھوتہ کر لے۔اس پورے تنازع میں ایک انتہائی اہم اور خوفناک واقعہ پیش آتا ہے، جہاں اسٹارک خاندان کو ایک بظاہر پرامن دعوت میں بلایا جاتا ہے، لیکن وہاں ان کے خلاف ایک بڑا دھوکہ کیا جاتا ہے۔
اس واقعے کا مقصد براہِ راست فوجی فتح نہیں بلکہ یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ اعتماد بھی اس کھیل میں ایک ہتھیار ہے اور کسی بھی لمحے اسے توڑا جا سکتا ہے۔ اس سے باقی خاندان مزید خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور طاقت کا توازن بدل جاتا ہے۔اسی دوران ڈینیریز ٹارگرین کی کہانی بھی چلتی ہے ،جو جلاوطنی کے بعد دوبارہ طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے پاس ڈریگن کی طاقت ہے ،جو اسے براہِ راست جنگ کے بجائے خوف کی علامت بنا دیتی ہے۔ بہت سے شہر اور حکمران اس سے لڑنے کے بجائے اس کے سامنے جھکنے یا معاہدہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس کی طاقت غیر معمولی ہے۔
اس پوری کہانی میں اصل پیغام یہ سامنے آتا ہے کہ یہ دنیا صرف جنگوں کی نہیں بلکہ نفسیاتی دباﺅ، دھمکیوں اور سیاسی چالوں کی دنیا ہے۔ اکثر کردار کھلے عام یہ کہتے ہیں کہ وہ دشمن کو ختم کر دیں گے، لیکن حقیقت میں ان کا مقصد جنگ نہیں بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے کہ دوسرا فریق خوفزدہ ہو کر خود ہی پیچھے ہٹ جائے یا صلح پر آمادہ ہو جائے۔
اگر اسی طرز کو موجودہ عالمی سیاست سے جوڑا جائے تو امریکہ اور ایران کا تنازع بھی اسی ''سیاسی ویسٹرس'' کی ایک مثال محسوس ہوتا ہے۔ امریکہ سخت بیانات دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ایران کو معاہدہ کرنا ہوگا ،ورنہ سنگین نتائج ہوں گے، جبکہ ایران پابندیوں کے خاتمے اور خودمختاری کے احترام پر زور دیتا ہے۔ دونوں فریق براہِ راست جنگ سے زیادہ دباﺅ، مذاکرات اور طاقت کے تاثر کے ذریعے ایک دوسرے کو جھکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ناول میں کردار جنگ سے پہلے الفاظ اور خوف کے ذریعے برتری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ویسے ہی یہاں بھی اصل مقابلہ میدان کے بجائے سیاسی اور سفارتی دباﺅ میں جاری ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں یا نہ ہوں، ایک بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ خطے کی سیاست میں پاکستان کا کردار بتدریج اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں پاکستان کو ایک ایسے فریق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو سفارتی رابطوں اور توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، رفتہ رفتہ ،دھیرے دھیرے پاکستان کی سیاسی قد و قامت خطے میں ایک ابھرتے ہوئے رہنما کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔