Wed, September 16, 2026

جنرل عاصم منیر "مرد آہن" قرار، قائدانہ صلاحیتوں کی عالمی سطح پر پذیرائی:نیویارک ٹائمز کا خراجِ تحسین

جنرل عاصم منیر

نیویارک:امریکہ کے مؤقر روزنامے نیویارک ٹائمز نے پاکستان کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر کی قیادت کو جرات مندانہ، فیصلہ کن اور نظریاتی بنیادوں پر استوار قرار دیتے ہوئے انہیں "مرد آہن" کا لقب دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی اور داخلی چیلنجز کے دوران جنرل منیر نے جس استقامت، تدبر اور عسکری بصیرت کا مظاہرہ کیا، وہ نہ صرف ان کی شخصیت کا غماز ہے بلکہ پاکستان کی دفاعی پالیسی کو بھی نئی جہت دے رہا ہے۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ جنرل عاصم منیر کی قیادت اس وقت ابھر کر سامنے آئی جب پاکستان داخلی سیاسی انتشار اور معاشی دباؤ جیسے سنگین بحرانوں سے گزر رہا تھا۔ اس پس منظر میں انہوں نے ادارہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دیا اور قوم کو ایک متحد بیانیہ فراہم کیا، جو بیرونی خطرات کے مقابل ایک مضبوط دفاعی ڈھال کا کام دے رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، حالیہ فوجی مشقوں میں جنرل منیر نے بھارتی جارحیت پر دوٹوک مؤقف  اپنایا ہے کہ"کسی بھی حملے کا فوری، سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا" ،۔عالمی سفارتی حلقوں میں توجہ کا مرکز بنا۔

نیویارک ٹائمز نے جنرل منیر کے انٹیلی جنس پس منظر، خصوصاً آئی ایس آئی میں خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ان کی حکمتِ عملی صرف عسکری نہیں بلکہ فکری و نظریاتی بنیادوں پر مبنی ہے۔ کشمیر کو "شہ رگ" قرار دینا اور دو قومی نظریے کا اعادہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صرف سپہ سالار نہیں بلکہ ایک نظریاتی رہنما کے طور پر بھی سامنے آ رہے ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ جنرل منیر کی تقاریر اور عسکری حکمتِ عملی پاکستان کے تاریخی اور نظریاتی بیانیے کو عصرِ حاضر کے تناظر میں از سر نو مرتب کر رہی ہیں، جو جنرل ضیاء الحق کے دور میں شروع ہونے والے بیانیے کی جدید تشریح تصور کی جا سکتی ہے۔

نیویارک ٹائمز نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ جنرل منیر کی قیادت میں پاکستان نہ صرف قومی سطح پر یکجہتی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر چین، اقوام متحدہ اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو ازسرِ نو متحرک کر رہا ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر لکھا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے اس نازک دور میں عالمی برادری کی نظریں اب جنرل عاصم منیر کی قیادت پر مرکوز ہیں، جنہوں نے اپنی حکمت، تدبر اور جرات کے ذریعے پاکستان کو عالمی فورمز پر ایک واضح اور مستحکم مؤقف فراہم کیا ہے۔

ٹیگز: