Wed, September 16, 2026

افغانستان میں طالبان کے خلاف سیاسی محاذ گرم: گلبدین حکمت یار کا فوری انتخابات اور اصلاحات کا مطالبہ

افغانستان میں طالبان کے خلاف سیاسی محاذ گرم: گلبدین حکمت یار کا فوری انتخابات اور اصلاحات کا مطالبہ

کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کی یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف سیاسی قیادت اور عوام نے علمِ بغاوت بلند کر دیا ہے۔ حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے طالبان رجیم کو ملکی بقا کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے نظام کی فوری تبدیلی پر زور دیا ہے۔
     گلبدین حکمت یار کا کہنا ہے کہ طالبان کا موجودہ ڈھانچہ عوامی امنگوں کی ترجمانی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور اسے مزید قبول نہیں کیا جا سکتا۔افغان رہنما نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں فوری طور پر شفاف انتخابات کرائے جائیں تاکہ اقتدار حقیقی عوامی نمائندوں کے سپرد کیا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق طالبان کی جابرانہ پالیسیوں اور سخت گیر رویوں نے افغان عوام کو سڑکوں پر نکلنے اور مزاحمت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کے حالات اس وقت ایک نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ گلبدین حکمت یار نے واضح کیا کہ افغانستان میں امن اور استحکام صرف اسی صورت ممکن ہے جب سیاسی اصلاحات لائی جائیں اور تمام اکائیوں کو حکومت میں شامل کیا جائے۔
طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور سیاسی سماجی پابندیوں نے کابل سمیت ملک بھر میں عدم اعتماد کی فضا پیدا کر دی ہے۔ افغان قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اگر عوامی مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو ملک ایک نئے داخلی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

ٹیگز: