لندن : برطانوی پارلیمنٹ میں "ویمن فار افغانستان فاؤنڈیشن" کے ایک ہنگامی اجلاس میں افغان طالبان کی پالیسیوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر طالبان کے موجودہ نظام کو افغان معاشرے کے لیے ایک "سنگین خطرہ" قرار دے دیا ہے۔ اجلاس میں جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ڈھال بنا کر افغانستان کے سماجی اور سیاسی ڈھانچے کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ہے۔
شرکاء نے طالبان کی جانب سے خواتین کی تعلیم، روزگار اور نقل و حرکت پر عائد کی گئی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "انسانی حقوق کا قتلِ عام" قرار دیا۔رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور عوامی آواز کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال نے ملک کو ایک نئے انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے۔
فاؤنڈیشن نے برطانوی پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے خواتین کے حقوق کی بحالی کی شرط کو اولین ترجیح بنائے۔افغان خواتین کو تنہائی سے نکالنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر فوری مداخلت کی جائے۔طالبان پر زور دیا جائے کہ وہ لڑکیوں کے لیے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے دروازے فوری طور پر کھولیں۔
برطانوی پارلیمنٹ میں ہونے والی اس بیٹھک نے ثابت کر دیا ہے کہ عالمی سطح پر افغانستان میں خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک پر خاموشی ٹوٹ رہی ہے اور طالبان کے خلاف ایک نیا سفارتی محاذ کھلنے جا رہا ہے۔