Wed, September 16, 2026

عالمی محاذ پر افغان حکومت کا بائیکاٹ؛ یورپی پارلیمنٹ کا طالبان سپریم لیڈر کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ

 عالمی محاذ پر افغان حکومت کا بائیکاٹ؛ یورپی پارلیمنٹ کا طالبان سپریم لیڈر کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ

اسلام آباد : یورپی پارلیمنٹ نے افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے خلاف 480 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے ایک تاریخی قرارداد منظور کرتے ہوئے افغان طالبان رجیم کو تسلیم نہ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق، اس قرارداد نے طالبان حکومت کی عالمی قانونی حیثیت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
 یورپی پارلیمنٹ کے اعلامیے میں طالبان کے عدالتی و فوجداری نظام کو خواتین کے منظم استحصال، غلامی اور صنفی امتیاز کا مجموعہ قرار دیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں سرعام پھانسیوں اور عوامی سزاؤں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔
 قرارداد میں یورپی ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ طالبان رہنماؤں پر مزید سخت پابندیاں عائد کریں اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی جانب سے طالبان کے سپریم لیڈر اور چیف جسٹس کے خلاف جاری کردہ وارنٹس پر سختی سے عملدرآمد کروائیں۔

   عالمی جریدے 'یوریشیا ریویو' کے مطابق، طالبان کا 119 دفعات پر مشتمل نیا فوجداری ضابطہ افغان عوام کے بنیادی انسانی حقوق کو مکمل طور پر ختم کر رہا ہے، اور وہاں عوامی رائے کے بجائے جبری فیصلے مسلط کیے جا رہے ہیں۔

    دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں من گھڑت قوانین کا نفاذ اور متعدد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی خطے کے امن کے لیے ایک بڑا ٹائم بم بن چکی ہے، جو افغان معاشرے کو تباہ کر کے نئی نسل کو انتہا پسندی کی طرف دھکیل رہی ہے۔

ٹیگز: