Wed, September 16, 2026

غزہ میں جاری موت کا رقص اور مسلم حکمرانوں کی بے حِسی

غزہ میں جاری موت کا رقص اور مسلم حکمرانوں کی بے حِسی

(چوتھا و آخری حصہ)
 امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہیگری کا کہنا تھا جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ ہم حماس کو ختم کر دیں گے وہ غلطی پر ہے، حماس ایک تنظیم اور نظریے کا نام ہے جو فلسطینی عوام کے دلوں میں بستی ہے۔ اْن کا کہنا تھا یہ مسلم بھائی چارہ ہے جو خطے میں سالہا سال سے موجود ہے، جس نے حماس اور عوام کے درمیان ایک رشتہ قائم کر رکھا ہے۔
10 اپریل 2025ء کو اسرائیلی فضائیہ کے ایک ہزار اہلکاروں نے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے غزہ جنگ میں حصہ لینے سے انکار کردیا۔ جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے اِن اسرائیلی پائلٹوں کے ناموں اور دستخطوں پر مبنی طویل عرضداشت اسرائیل کے صفِ اول کے اخبارات میں شائع ہوئی۔ پھر اگلے روز مزید درجنوں فوجی اہلکار جن کا تعلق اسرائیلی بحریہ، بری فوج اور بکتر بند (مدرعات) یونٹس سے ہے، نے نیتن یاہو سے غزہ میں جاری جنگ کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ غیرمعمولی اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ جنگ اٹھارہویں مہینے میں داخل ہوچکی ہے اور اسرائیل کو اندرونی طور پر بڑھتے ہوئے دباؤ، تل ابیب میں غیرمعمولی احتجاجی مظاہروں کا سامنا ہے۔ جنگ سے انکار پر مبنی اسرائیلی فضائیہ اہلکاروں کے عریضے نے صیہونی فضائیہ کے اعلیٰ ترین حلقوں میں بھونچال پیدا کردیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اس پر دستخط کرنے والوں میں کئی سرکردہ سابق فوجی عہدیدار شامل ہیں جن میں فوج کے سابق چیف آف اسٹاف، اسرائیلی فضائیہ کے سابق کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) دان حلوتس، میجر جنرل (ر) نمرود شیفر، سابق سربراہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کرنل (ر) نیری یرکونی، سابق سربراہ انسانی وسائل ڈیپارٹمنٹ میجر جنرل (ر) گیل ریگیف، فضائیہ کے ریٹائرڈ بریگیڈئر جنرلز ریلیک شافیر، امیر ہاسکل اور عساف اگمون بطور خاص قابلِ ذکر ہیں۔ اِن سینئر سابق افسران کی جانب سے اس عریض پر دستخط کرنا نہ صرف اسرائیلی حکومت بلکہ فوجی قیادت کے لیے بھی ایک علامتی اور عملی چیلنج سمجھا جارہا ہے۔ اس عرضداشت کو اس لیے بھی غیرمعمولی قرار دیا جارہا ہے کیونیہ اسرائیلی فوج کو ہمیشہ قومی اتفق کی عمالت سمجھا جاتا رہا ہے۔ سابق اعلیٰ فوجی افسران کی جانب سے جنگ کی کھلی مخالفت صیہونی حکومت کے اندرونی خلفشار کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسرائیل میں پہلے بھی عدالتی اصلاحات کے معاملے پر گہری تقسیم موجود تھی، اب غزہ جنگ اور یرغمالیوں کے مسئلے نے اس تقسیم کو مزید گہرا کردیا ہے۔ 
فلسطینیوں کو پاکستان سے بڑی توقعات ہیں۔ پاکستانی عوام نے 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے اہلِ فلسطین کیساتھ بیمثال یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ جماعتِ اسلامی پاکستان کے تحت ملک بھر بالخصوص کراچی، لاہور، اسلام آباد میں تاریخ ساز ملین مارچ اور ریلیوں نے ثابت کیا ہے کہ پوری پاکستانی قوم اپنے فلسطینی بہن، بھائیوں کیساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ احتجاجی مظاہروں، فلسطین کانفرنسز، وزیراعظم پاکستان اور کابینہ کے دیگر ارکان سے مسلسل ملاقاتوں کے علاوہ الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے ذریعے غزہ کے مظلوم عوام کو خوراک، ادویات اور ضروریاتِ زندگی کی دیگر اشیاء کی ترسیل کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے اور اب تک ہزاروں ٹن سامان مصر کے راستے غزہ پہنچایا جاچکا ہے، جن میں کھانے پینے کی اشیاء ، ادویات، کمبل، خیمے، برتن، کپڑے اور بچوں و خواتین کی ضرویات کی چیزیں شامل ہیں۔ مصر میں گزشتہ عیدالاضحٰی کے موقع پرالخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے 18 ہزار بڑے جانور خرید کر اْن کا گوشت مصر میں پناہ گزین غزہ کے 2000 خاندانوں میں تقسیم کیا گیا۔ غزہ کے زخمیوں کے علاج معالجہ کا انتظام کیا۔ علاوہ ازیں غزہ کے وہ طلباء و طالبات جن کی میڈیکل تعلیم اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے نامکمل رہ گئی، اْنہیں حکومتِ پاکستان کے تعاون سے پاکستانی جامعات میں تعلیم جاری رکھنے کی سہولت فراہم کی گئی۔ 
بحیثیت قوم ہم سب کو مِل کر ہر پلیٹ فارم سے امریکی اور اسرائیلی صیہونی دہشت گردی اور فلسطینیوں کی نسل کشی نیز قبلہ اول پر ناجائز صیہو نی قبضہ کے خلاف زوردار آواز بلند کرتے رہنی چاہیے۔ علماء کرام کا منبر و محراب کے ذریعے عوام سے براہِ راست طاقت ور پیغام رسانی کا رابطہ ہے، اس لیے اس پلیٹ فارم سے عوام کو حالات سے آگہی دی جائے اور اہلِ ایمان پر جہاد کی فرضیت و اہمیت اْجاگر کی جائے اور اتحادِ اْمت کے جذبوں کو جِلا بخشی جائے۔ قائداعظم اور علامہ اقبال نے اسرائیل کی ناجائز حیثیت، فلسطینیوں کی آزادی کے حق اور اسرائیل کے ناجائز وجود پر دوٹوک مؤقف اور دائمی پالیسی طے کردی ہے۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے امریکہ میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی پیشکش کے بدلے مراعات کی بارش کے جواب میں کہا کہ پاکستانیوں کا ضمیر، روح برائے فروخت نہیں ہے۔ اس لیے اب پوری قوم کو یکسْو ہوکر مسئلہ فلسطین پر آواز اْٹھانی چاہیے، یہ ہمارا دینی، انسانی، اخلاقی اور قومی فریضہ ہے۔ حکومت بھی فلسطین پر اچھے مؤقف کے اظہار کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کے لیے آگے بڑھے۔ ایران، تْرکی، سعودی عرب، ملائیشیا، انڈونیشیا، عرب امارات، مصر، اْردن کے ساتھ سفارتی فعالیت کے ذریعے مسئلہ فلسطین پر متحرک کردار ادا کرنے کے لیے وفود بھجوائے جائیں تاکہ پاکستان کے عوام کا مضبوط پیغام اْن تک پہنچایا جاسکے۔ 
حافظ نعیم الرحمن نے فلسطین/غزہ میں اسرائیلی ظلم، قتلِ عام، انسانی نسل کشی اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے تحت اسرائیل کے تازہ جنگی جرائم کے خلاف پورے ملک کو بیدار کرنے کے لیے بروقت اقدامات کیے اور ایوانِ صدر، وزیراعظم ہاؤس اور قومی قیادت سے ملاقاتوں، کانفرنسز میں بھرپور اور زوردار مؤقف پیش کیا۔ فلسطین ہمارا ایمانی، انسانی، اسلامی اور اخلاقی معاملہ ہے، مِلتِ اسلامیہ کسی صورت اس سے دستبردار نہیں ہوگی۔ امریکہ کی حکمتِ عملی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے دشمن رہیں، مسلمانوں کے ذریعے ہی مسلمانوں پر تباہی مسلط کی جائے، اسرائیل کے ناجائز وجود کی سرپرستی اور اسرائیلی صیہونی مقاصد کی تکمیل اسلامی حکومتوں سے کرائی جائے۔ مسلم عوام، مِلتِ اسلامیہ امریکی عزائم کو ناکام بنائیں گے۔
اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے۔ قائداعظم نے بالکل حق بات کی تھی کہ اسرائیل یورپ کا ناجائز حرامی بچہ اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔ ہٹلر نے یورپ سے یہودیوں کا صفایا کیا اور امریکہ و برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کی ناجائز آبادکاری کی۔ فلسطین کو بارود اور آگ کی بھٹی بنانے والے صیہونیوں کو فلسطین سے نکالا جائے اور اْنہیں واپس اْن ممالک بھیجا جائے جہاں سے اْنہیں غیرقانونی طور پر فلسطین لاکر بسایا گیا تھا۔ غزہ سے فلسطینی نہیں یہودیوں کی بیدخلی عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔ فلسطینی عوام غزہ میں عظیم لازوال قربانیوں، شہادتوں، تقویٰ و استقامت کے ساتھ زندہ اور سْرخرو ہیں۔ پوری دْنیا کو اہلِ غزہ کی جرات ایمانی اور استقامت نے بیدار کیا ہے۔ غزہ کی شہید خواتین، بچوں اور مردوں نے مسلم ممالک کی بزدلی کو بریک لگادی ہے۔ اہلِ غزہ کی قربانیوں کی بدولت دْنیا بھر کے مسلم، غیرمسلم غیرت مند عوام بیدار ہوگئے ہیں۔ امریکہ و یورپ میں فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیلی صیہونی ظلم اور سفاکیت کے خلاف سراپا احتجاج طلبہ و طالبات متعلقہ حکومتوں کی طرف سے دباؤ، رْکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود ثابت قدم ہیں۔ ہم اِن تمام بہادر، غیرت مند طلبہ و طالبات کے عزم و حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کْھلی آنکھوں سے سوئے عالمِ اسلام کے حکمران بزدلی و بے حمیتی کی چادر اْتارکر مظلوم فلسطینیوں کی مدد کے لیے کمربستہ ہوجائیں۔ اسرائیلی ظلم اور سفاکیت نے اْس کی انسان دشمنی کے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں، اْمت کا پورا وْجود خطرات سے دوچار ہوچکا، اس کے بعد مزید کونسی ذلت اور تباہی کا انتظار ہے؟ اگر مسلم حکمران بیدار نہ ہوئے تو خطرات سب کے لیے، باری سب کی آئے گی۔ مِلتِ اسلامیہ پر جہاد فرض ہوچکا، ذلت و رْسوائی سے چھٹکارا حاصل کرنے کا واحد راستہ اْمت کا اتحاد ہے۔ عالمِ اسلام زبانی جمع خرچ سے باہر آئے اور ٹھوس عملی اقدامات کرے۔ 
پاکستان کے عوام، دانش ور، میڈیا بھی بیدار و یکسْو ہوکر مِلی، انسانی، دینی فرض کی ادائیگی کے لیے کمربستہ ہوجائیں، اغیارو استعمار کی ذہنی غلامی ترک کی جائے۔ حکومت اور بالادست ریاستی پالیسی ساز ادارے زبانی کلامی دعووں، محض امدادی سرگرمیوں میں تعاون نہیں بڑے عملی اور مؤثر اقدامات کا روڈ میپ طے کریں۔ ’مسئلہ فلسطین کا حل دو ریاستی نہیں پورا فلسطین فلسطینیوں کا ہے‘ کے مؤقف پر قائم رہا جائے۔ حکمران طبقہ قائد اعظم، علامہ اقبال اور لیاقت علی خان کی باعزت، باوقار خارجہ پالیسی کی پیروی کریں۔ بزدلی، دباؤ اور لالچ کے تحت اسرائیل کی طرف جھکاؤ کی پالیسی سے کشمیر پر آزادی اور حقِ خودارادیت کا مطالبہ بھی زمین بوس ہوجائے گا۔ مسجدِ اقصٰی رمز اور رگِ جاں ہے، اِسے کھودینا پوری اْمت کی روحانی موت اور شکست ہوگی۔ جماعتِ اسلامی عوامی مسائل کے حل، ملک میں امن و امان کے قیام کے ساتھ ساتھ مِلتِ اسلامیہ کے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے بھی پوری طرح متحرک اور بیدار ہے۔

ٹیگز: