ایندھن کی کمی کے باعث بیکریوں اور عام گھروں میں کھانا بنانے کے لیے لکڑیوں اور کاغذ کے گتوں کا سہارا لیا جاتا ہے، تاہم وہ بھی ناپید ہیں۔ ایک شہری نے کہا کہ ”ہم روٹی کے حصول کے لیے ہر روز لمبا فاصلہ طے کرنے پر مجبور ہیں۔ بازاروں میں روٹی کی قلت کے باعث جزوی فعال بیکریوں کے سامنے اکثر عوام کا شدید ہجوم رہتا ہے۔ کراسنگ کی بندش اور قابض اسرائیل کی طرف سے گیس اور ایندھن کے داخلے میں رکاوٹ کے باعث لوگوں کو پریشانی کا سامنا معمول بن گیا ہے۔ جبکہ قلت کے باعث خوراک اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی اشیاءچار، پانچ گ±نا زائد قیمت پر فروخت ہورہی ہیں۔ قابض اسرائیلی حکام نے 42 روزہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے اختتام کے موقع پر 2 مارچ کی صبح غزہ پٹی کی کراسنگ، خاص طور پر کارم ابو سالم کمرشل کراسنگ کو بند کر دیا، جس سے انسانی امداد اور تجارتی سامان کی آمد و رفت روک دی گئی۔مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق محصور غزہ کی پٹی کے 2.4 ملین افراد میں سے 80 فیصد سے زیادہ افراد اپنی روزی روٹی اور روزمرہ زندگی کے لیے بیرونی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ حالیہ جنگ بندی معاہدے کے تحت چند سو ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی گئی، تاہم 2 مارچ 2025ءکے بعد سے غزہ میں کوئی خوراک داخل نہیں ہوئی ہے۔تمام سرحدی گزرگاہیں بند ہیں جس کے باعث غزہ پٹی میں بعض بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 200 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
غزہ پر ڈیڑھ سال کی مسلسل بمباری و گولہ باری کے باوجود غزہ کے نہتے مظلوم عوام ہر طرح کی صعوبتوں، جان مال آل اولاد کی مسلسل قربانیوں کے باوجود عزم و استقلال کی تصویر بن کر صیہونی درندگی کا مقابلہ کررہے ہیں۔ ابھی گزشتہ دِنوں صیہونی دہشت گردوں نے خیموں میں پناہ گزین اہلِ غزہ میں کھانا بنانے کے لیے مفت لکڑیاں تقسیم کرنے والی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں 6 سگے بھائی شہید ہوگئے۔ سلام ہے اِن چھے سگے بھائیوں کے والدین کی استقامت کو جنہوں نے کہا کہ ایک ساتھ چھے بیٹے فلسطین پر قربان کردئیے، صدمہ بہت مگر اعزاز بھی عظیم ہے۔ دوسری طرف صیہونی فوج کو زمینی جنگ میں ناکوں چنے چبوانے والے القسام بریگیڈ اور اسلامی جہاد کے مجاہدین بھی سخت ناکہ بندی، زمینی و فضائی حملوں کے باوجود جذبہ جہاد سے سرشار صیہونی فوج کے غزہ سے انخلاءتک مزاحمت جاری رکھنے کے مو¿قف پر قائم ہیں۔ گزشتہ روز حماس کے ترجمان ابوعبیدہ کی طرف سے جاری مختصر پیغام میں یمنی حوثیوں کے تل ابیب پر مسلسل حملوں کی تحسین کی گئی اور کہا گیا کہ امریکی طیاروں کی یمن پر مسلسل بمباری کے نتیجے میں شدید جانی مالی نقصان ا±ٹھانے کے باوجود یمن کے جرات مند حوثی بھائیوں نے اپنے فلسطینی بھائیوں کی حمایت میں تل ابیب پر تازہ راکٹ حملے کرکے اسرائیل کے قلب کو شدید چوٹ لگائی ہے۔ قبل ازیں 6 اپریل کی صبح جب نیتن یاہو ہنگری سے امریکہ کی طرف محو سفر اپنے خصوصی طیارے میں غزہ کے نہتے عوام، خواتین اور معصوم بچوں کو ”دہشت گرد“ قرار دے کر ا±ن کی کمر توڑنے کی شیخی بگھار رہا تھا، عین ا±سی وقت غزہ کے مجاہدین نے مقبوضہ فلسطینی علاقے ا±شدود کے بحری اڈے اور عسقلان کی عسکری کالونی کی طرف 10 راکٹ داغ کر نیتن یاہو کو پیغام دیا کہ مجاہدینِ غزہ اب بھی تمہیں منہ توڑ جواب دینے کے لیے زندہ اور مکمل طور پر متحرک ہیں۔ اِن میں سے 5 راکٹ فضائی دفاعی امریکی اور اسرائیلی نظام کو چکمہ دے کر کامیابی کیساتھ ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے جس سے کئی علاقوں میں آگ بھڑک ا±ٹھی۔
غزہ پر 18 مارچ 2025ءکو شروع ہونے والی تازہ وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں روزانہ کی بنیاد پر درجنوں فلسطینی بچوں، خواتین اور نوجوانوں کا قتلِ عام جاری ہے۔ اسرائیل نہ صرف فلسطینیوں بلکہ اپنے یرغمالی شہریوں کو بھی بیدردی سے نشانہ بناکر قتل کررہا ہے۔ 7 اکتوبر کے حملے میں فلسطینی جنگجوو¿ں نے 251 افراد کو یرغمال بنایا تھا۔ اب بھی 58 یرغمالی حماس کی قید میں ہیں، جن میں سے اسرائیلی فوج کے حملوں میں 34 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔حال ہی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدیکے پہلے کامیاب مرحلے کے اختتام تک 33 یرغمالیوں کو رہا کیا گیا، جن میں سے 8 کی لاشیں شامل تھیں۔ چند روز قبل الشجاعیہ میں ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں صیہونی فوج کے ایلیٹ انفینٹری یونٹ گولانی بریگیڈ کے یرغمالی امریکی نڑاد اسرائیلی فوجی ایڈن الیگزینڈر کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حماس کے عزالدین القسام بریگیڈ نے 12 اپریل 2025ءکو مذکورہ یرغمالی فوجی کی ویڈیو جاری کی جس میں ایڈن نے نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ جب حماس جنگ بندی معاہدے کے تحت یرغمالیوں کو رہا کررہی تھی تو نیتن یاہو نے جنگ بندی معاہدہ توڑ کر ہماری جانوں کو کیوں خطرے میں ڈالا؟ ہم ہر روز اپنے ہی فوج کے فضائی اور زمینی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں اور کسی بھی وقت مارے جاسکتے ہیں۔ ا±س کا یہ خدشہ درست ثابت ہوا اور گزشتہ روز حماس نے کہا کہ مذکورہ فوجی یرغمالی کی حفاظت پر مامور حماس گروپ کیساتھ ہمارا رابطہ منقطع ہوگیا ہے، اسرائیلی یرغمالی اپنی ہی فوج کی وحشیانہ بمباری کا نشانہ بن کر مارا جاچکا ہے، اب یرغمالیوں کی فیملیز کے لیے پیغام ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی میتیں سیاہ تابوت میں وصول کرنے اور ا±ن کی تدفین کی تیاری کرلیں۔
صیہونی دہشت گردوں کی وحشیانہ بمباری اور قتلِ عام کیساتھ ساتھ اہلِ غزہ کو مسلسل نقل مکانی کے عذاب کا بھی سامنا ہے۔ ہر روز صیہونی فوج کی طرف سے انتباہ جاری ہوتا ہے کہ اگلے تین گھنٹوں میں فلاں علاقے پر خوفناک فوجی کارروائی ہونے والی ہے، اس لیے اِسے خالی کردو۔ بے خانماں فلسطینی میلوں پیدل سفر کرکے اگلے مقام پر پہنچ کر خیمے گاڑ ہی رہے ہوتے ہیں کہ اچانک فضائی بمباری، گولہ باری کا نشانہ بنادیے جاتے ہیں اور بچے ک±چھے لوگ کسی نئی جگہ کی طرف ک±وچ کرنے لگتے ہیں۔ اِس طرح اہلِ غزہ مسلسل محوِ سفر ہیں، اور ا±ن کی تھکن کا یہ عالم ہے کہ جب 6 اپریل کو الشجاعیہ محلہ خالی کرانے کا حکم آیا تو نڈھال فلسطینیوں نے مزید نقل مکانی سے انکار کردیا۔
مصر میں مستقل جنگ بندی کی کوششوں کا ایک بار پھر آغاز ہوا، تاہم یہ مذاکرات نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی کے باعث بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوگئے۔ (جاری ہے)