اپنی 50سالہ صحافتی زند گی پر نظر دوڑاتا ہوں تو میرا نہیں خیال کہ میں کبھی تقریبات میں جانے کاعادی رہا ہوںیا یوں کہہ لیں کہ میںبلائے یابن بلائے محفلوں میں جانے کا عادی نہیں ہوں شاید اس لئے لوگ مجھے جانتے ہوئے بھی مدعو نہیں کرتے کہ میں نے جانا نہیں ہوتا لہٰذا انہوں نے مجھے مدعو کرنا چھوڑ دیا ہے۔ یہی بات گھر بیٹھی میری کپتی کو بھلی لگتی ہے کہ میں راتوں کو گھر پر رہتا ہوں مگر یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ بعض محفلیں ایسی ہوتی ہیں جہاں میں کبھی مدعو ہو جاتا ہوں خاص کر سرکاری تقریبات میں نہیں جاتا مگر گزشتہ دنوں مجھے حکومت پنجاب کی ایک ایسی تقریب میں خود بن بلائے جانے کا اتفاق ہوا جہاں میں کسی بھی طرح مدعو نہیں تھا۔ الحمرا میں ہونے والے پنجاب کلچر ڈے کے حوالے سے تقریب تھی جس کا افتتاح وزیراعلیٰ پنجاب نے کیا۔ میرے لئے یہ تقریب اس لئے اہم تھی کہ اس میں پنجاب کے کلچر کے حوالے سے جہاں پنجاب کی منہ بولی ماں پنجابی زبان، پنجاب کے ثقافتی رنگ، پنجاب کسان دوستی، پنجاب میوزک اور پنجاب کے گانے والے اور والیوں نے خوب رنگ جمائے اور پنجابی کلچر کو شانداز انداز سے ٹربیوٹ کیا گیا۔ عارف لوہار سے نصیبو لعل، حامد رانا سونا چاندی سے لے کرفلمی اداکاروںتک اور پھر بھرپور انداز میں پنجاب کے فوک پروگرام کو جس طرح سات سروں میں گایا گیا یہ تو ہونا تھا جو ہوا۔ نائن الیون کے واقعات کے بعد پاکستان کی دھرتی کو جس طرح دہشت گردوں کے حوالے کیا گیا جس طرح دہشت کے خوف کے سائے پھیلائے جس طرح ہم نے اسی ہزار سے زائد شہداء کو لحد میں اتارا تو قوم کے کندھے تھک چکے تھے۔ پوری دنیا میں واحد پاکستان تھا جس کی سرزمین سے تمام خوشیاں، تمام میلے ٹھیلے، تمام کھیلوں کے میدان، ثقافتی تقاریب اور ہمارے چاروں صوبوں کے کلچر کو زمین بوس کر دیا گیا۔
وقت ایک سا نہیں رہتا… وقت نے بدلنا تھا اور یہ وقت بدلا تو ہماری سابقہ حکومتوں نے اس وقت سے فائدہ نہیں اٹھایا اور ایک طرح سے ہم چاروں صوبوں کے کلچر کو زندہ کرنے میں ناکام رہے۔ خاص کر عمرانی حکومت میں پاکستان میں ثقافتی محاذوں پر کسی کی نظر نہیں پڑی۔ سیاسی سونامی میں وہ سب کچھ بہہ گیا جو عوام کی ضرورت تھا۔ نائن الیون سے پہلے اگر پنجاب کے ثقافتی کھلے دروازوں کو دیکھا جائے تو وہاں سب سے بڑا میلہ ہارس اینڈ کیٹل شو ہوا کرتا اور اس کے پاسز کے لئے لوگ سال سال انتظار کرتے۔ دوسرا بڑا ثقافتی شو بسنت میلہ ہوتا تھا اور پورے پاکستان سے کیا دنیا بھر سے گورے کالے بسنت فیسٹیول کے سلسلے میں لاہور آتے اور بسنت والے روہز لاہوری چھتیں روشنیوں سے جگمگا جاتیں، آسمان پر رنگ برنگے گڈی اور گڈے اور پتنگیں فضاء میں ڈھولک، گیتوں اور بو کاٹا کے شور میں فضاء خوبصورت رنگوں میں رنگی جاتی۔ اس تہوار کو منانے کے لئے کئی کئی مہینے تیاریاں ہوتیں، عید کارڈ کی طرح بسنت کارڈ شائع کرائے جاتے اور کھانوں کی کئی اقسام تیار ہوتیں۔
پھر ایسی فضاء تیار کی گئی ایک ہارس اینڈ کیٹل شو اور بسنت جیتے فیسٹیول ختم کر دیئے گئے بلکہ ہم بھول گئے کہ کبھی ہم بھی اپنے کلچر ڈے منایا کرتے تھے۔ 2022ء میں جب ن لیگ کی حکومت آئی خاص کر پنجاب کے حوالے سے اگر بات کریں تو یہ بات یقینی ہے کہ اس کے آنے سے کچھ نہ کچھ ہوتا ہوا نظر آتا رہتا ہے۔ مریم نواز نے پنجاب حکمرانی سنبھالتے ہی بڑے عرصے کے بعد ہارس اینڈ کیٹل شو کا انعقاد کر کے وہ پہلا قدم اٹھایا جس سے لوگوں میں امید کی کرن پیدا ہوئی۔ ان کا دوسرا اقدام 2ارب روپے کی بھاری انوسٹمنٹ سے پنجاب میں فلم انڈسٹری کے مردہ جسم میں روح ڈالنا تھا یہ دو ارب روپے ان فلمسازوں کو دیئے جائیں گے جو پنجاب میں معیاری فلمیں بنانے کے ساتھ ساتھ فلم انڈسٹری کو دوبارہ فعال کریں گے جبکہ تیسرا اور بڑا قدم پنجاب کی ثقافت کو اجاگر کرنا، میلوں ٹھیلوں کا انعقاد اور دوسرے پنجابی ثقافتی پروگرامز کا اجراء کرکے کم از کم پنجاب کے مردہ جسم میں نئی روح پھونک دی۔ اس سلسلے میں پنجاب حکومت کا کلچر ڈے منانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم واپس انہی میدانوں کی طرف جا رہے ہیں جہاں ثقافتی میلے ٹھیلے زیادہ سے زیادہ آرگنائز کئے جاتے تھے۔ اس سلسلے میں پنجاب کلچر ڈے بارش کا وہ پہلا قطرہ ہے جو آنے والے سالوں میں پنجابی کلچر کو بہت آگے لے جائے گا اور پنجاب حکومت اگر علاقائی ایریاز میں ان کا پھیلائو کریگی تو فضاء میں جو تھوڑی بہت کٹھن ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی اور اس کا تمام کریڈٹ صرف اور صرف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو جاتا ہے جنہوں نے پنجاب کی آوازوں کو ایک جگہ اکٹھا کرکے جس طرح پنجابی کلچر کو فروغ دیا جس طرح پنجاب کی شاموں کومصروف کرنے کی ٹھانی اور جس طرح پنجاب کلچر ڈے کے غبارے میں تازہ ہوا بھری اگر یہ سلسلے جاری رہے اور کسی سیاسی فارمولے کا شکار نہ ہوئے اور ان کے پھیلائو کے لئے کام ہوئے تو پنجاب جو سو گیا تھا وہ جاگ جائے گا۔ پنجاب جو مایوس تھا پھول کی مانند کھل کھلا اٹھے گا۔
پنجاب میں قدمیں بڑا اور اس کی روایات بھی بہت قد آور ہیںاسی پنجاب نے ہر شعبہ میں قوم کو بڑے نام بڑے ہیروز بڑے لوگ اور بڑی روایات دیں۔ جو پنجاب کے ماتھے کا جھومربنیں اگر یہاں ان ہیروز کا ذکر کروں جنہوں نے پنجاب کی ثقافت کو صدیوں کی تاریخ میں ڈھالا تو پھر مجھے ایک نہیں کئی کتابیں لکھنا ہوں گی اور ان لوگوں کا بھی ذکر کرنا ہوگا جنہوں نے پنجاب کا مقدمہ بڑی جرأت اور بہادری کے ساتھ لڑا اور ان کی فلمیں آج بھی پنجاب کے اس مقدمے میں الجھی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
میں جس تقریب میں تھا وہاں پنجاب دھرتی کے اداکار پنجاب دھرتی کی گائیک آوازیں پنجاب دھرتی کے ڈانس پنجاب دھرتی کے لباس، پنجاب دھرتی کے تمام رنگ بول رہے تھے۔ میں یہ بات تو نہیں کہہ رہا کہ مریم نواز پنجاب کا مقدمہ لڑ رہی ہیں البتہ انہوں نے پنجاب کلچر ڈے کی روایت ڈال کر پنجاب کی ثقافت کے مردہ جسم میں روح ڈال دی ہے اور آج صرف پنجاب ہی کو نہیں پورے پاکستان کو ایسی تقریبات ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں قومی ایشوز پر فنکار برادری کو بھی شامل حال کیا جائے۔
اور آخری بات…
پنجاب حکومت اس تقریب کے جما کے پھولے نہیں سما رہی۔ اچھی تقریب تھی شاباش تو بنتی ہے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی روایات کو جاری رکھا جا سکے گا؟ کیا یہ میلے ٹھیلے لاہور کی حد تک رہیں گے یا ان کا دائرہ پورے پنجاب میں پھیلایا جائے گا اگر ایسا ہو گیا اور تمام فیسٹیول بحال ہو گئے تو پھر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا یہ احسان پنجاب کبھی فراموش نہ کر پائے گا۔