لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب پولیس کو ایک جدید اور عوامی فورس بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کا حکم دے دیا ہے۔ ان اصلاحات کے تحت تھانوں میں شہریوں کی تذلیل کا خاتمہ کرنے اور پولیس کی کارکردگی کو مانیٹر کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جائے گا۔
پولیس اہلکاروں کے لیے اب یہ لازمی ہوگا کہ وہ ہر شہری کو "سر" کہہ کر پکاریں۔ بدتمیزی اور غیر پیشہ ورانہ رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔شہریوں کی فوری دادرسی کے لیے پنجاب بھر کے تھانوں کے باہر 700 پینک بٹن نصب کیے جا رہے ہیں۔ کوئی بھی شہری مشکل وقت میں یہ بٹن دبا کر فوری مدد حاصل کر سکے گا۔
مریم نواز نے 14 ہزار باڈی کیمز کی خریداری کے فنڈز جاری کر دیے ہیں۔ اب فیلڈ میں موجود ہر اہلکار کیمرے کی زد میں ہوگا، جس سے اختیارات کے غلط استعمال کو روکا جا سکے گا۔انویسٹی گیشن کے دوران آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ آن لائن ایف آئی آر ٹریکنگ کے ذریعے شہری اپنی درخواستوں کی پیش رفت موبائل فون پر دیکھ سکیں گے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ تفتیش کے عمل میں شفافیت لانے کے لیے آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان تمام اقدامات کو مکمل کرنے کے لیے محکمہ پولیس کو محض 90 دن کا وقت دیا گیا ہے۔
عوامی اثرات
سیاسی و سماجی حلقوں نے ان اصلاحات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ باڈی کیمز اور آن لائن ٹریکنگ سسٹم سے کرپشن اور ناجائز مقدمات کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔