Wed, September 16, 2026

کراچی کی سڑکیں، ناقص معیار کی گواہی

کراچی کی سڑکیں، ناقص معیار کی گواہی

  بیس ملین تین لاکھ کی آبادی والا شہر جہاں 17 سال سے پاکستان پیپلز پارٹی کی زیادہ تر واحد سیاسی جماعت حکمرانی رہی اور تاحال ہے ،کراچی کی میونسپلٹی کی ذمہ داری اس عرصے میں تقریباً مہاجر قومی مومنٹ 12سال رہی مگر اسکی سڑکیںدیکھ کر کوئی یہ ہی کہہ سکتا کہ اسے عروس البلاد (شہروںکی دلہن) کہہ کر اسکا مذاق اڑایا گیا ہے یا جس نے کہا ہے اس نے مذاق کیا ہے ، اتنی طویل حکومتوں،بلدیاتی حکومتوں کے باوجود شہرکی 95 فیصد سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہیں ، اگر اس میں بارش ہوجائے ، عیدالاضحی آجائے تو سونے پر سہاگہ ہے کھنڈر نما سڑکوںپر ٹریفک کا اژدھام انسان کو رونے پر مجبور کردیتا ہے یہ شہرہے جو پاکستان کے ٹوٹل ریونیو کا 53,38 %فراہم کرتا ہے جو پاکستان GPD کا 25 فیصدفراہم کرتا ہے ، عوام پر ٹیکسوںمیں کوئی چھوٹ نہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی میں ٹریفک کی بے ترتیبی نے سارا نظام تلپٹ کررکھا ہے اور یہ بے ترتیبی سڑکوں کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے ہے ، نئی سڑکیںبنانے کیلئے سڑکیںکھود دی جاتی ہیںاور ایک عرصہ اپنی مرمت کا انتظار کرتی،جب مرمت کی قسمت جاگتی ہے توناقص سامان استعمال کرتے ہوئے ایسا انتظام کیا جاتا ہے کہ وہ سڑکیں ایک بارش کی مہمان ہوں، سڑکیں بنانے کیلئے توڑ پھوڑ کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی بجٹ آنے والا ہو۔ پاکستان میں کرپشن نہ ہو تو یہ ملک جنت ہے سڑکوںکی ممکنہ مرمت کے بغیر اب ای چالان شروع ہوگئے ہیں اپنی تنخواہوں سے زیادہ سڑک پر کمانے والے ٹریفک پولیس اہلکار شور مچا رہے کہ ہمار ا گزارہ نہیں، سندھ حکومت کا اقدام جائز ہے ہر حکومت اپنے علاقے میں تمام تر سہولیات پہنچانے کے بعد ٹیکس اور تادیبی کارروائی میں حق جانب مگر کھنڈر نما سڑکوںپر ٹریفک کے قوانین کا لاگو کردینا ایک زیادتی ہے۔ ٹریفک اہل کار سڑک پر رقم لینے کے مجاز اسلئے ہوتے ہیںچونکہ وہ رش والے علاقوںجیسے صدر کا علاقہ ، الیکٹرانک مارکیٹ کا علاقہ وہا ں کی ’’ پیدا ‘‘ سے رقم کی تقسیم کے ڈانڈے اوپر تک ملتے ہیں ، میںکراچی میں رہا ہوں صحافتی ذمہ داریوںمیں مجھے علم ہے زیادہ ـ’’ پیدا ‘‘والے علاقوںمیں ڈیوٹیاںصرف ایسے ہی نہیںلگتی ،ڈیوٹی پر مامور کرنے والے سے علاقہ ’’خریدنا ‘‘ پڑتاہے اسکا اظہار خود ایک سندھ کے سابق وزیر مجھ سے کر چکے ہیں اور اسکی روک تھام کیلئے انہوںنے کام بھی کیا ہوگا مگر یہ کام ہمارے سسٹم میں آسان نہیںہے ایک سابقہ گورنر کے بھائی کینیڈا سے خاص طور پر تشریف لاتے تھے اور مصروف علاقوں میں جہاں پیدا زیادہ کے توقع ہوتی ہے وہ علاقے فروخت کرکے واپس کینیڈا چلے جاتے اب شورو غل ہے کہ ای چالان کی وجہ سے بھاری جرمانے آرہے ہیں ، لوگ مہنگائی سے پریشان ہیں دوسر ی طرف حکومت اپنے صوبے میں آمدن بڑھانا چاہتی ہے کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک وائلیشن کی سادہ سی مثال ای چالان کے پہلے دن کے ابتدائی 6گھنٹوں کی سرکاری کارروائی سے سامنے آچکی ہے جس میں 2ہزار 662الیکٹرانک چالان ہوئے جو مجموعی طور پر سوا کروڑ روپے سے زائد کی رقم کے تھے۔حکومت اور اس کے ذیلی اداروں کا شہریوں کو قوانین کا پابند بنانا ایک اچھی بات ہے جس کی پذیرائی کی جانی چاہئے لیکن یہ پذیرائی اسی صورت ممکن ہے جب شہریوں کو برابری کی سطح پر حقوق حاصل ہوں، سندھ حکومت اور اس کے محکمہ پولیس نے الیکٹرانک ٹریفک چالان کے ضمن میں کراچی کے شہریوں کے ساتھ جو امتیازبرتا ہے اس کی اندرون ملک سے بیرون ملک تک ہر سطح پر مخالفت نہیں بلکہ مذمت کی جارہی ہے اور تقریباً سب ہی اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ جس شہر کا کوئی انفرا سٹرکچر ہی نہ ہو وہاں قوانین کے نام پر مہنگے ترین چالان کا اجرا کیا جانا شہریوں پر ظلم کے مترادف ہے۔ ‘‘پیدا ‘‘ کی کمی پر ٹریفک اہلکار خود تو عدالت نہیں جاسکتے اسکے لئے ہمارے کالے کوٹ میدان میں آ گئے ہیں اور بڑے جرمانے کی صدا لیکر عدالت جا پہنچے ہیں دوسری جانب فیک نیوز والے عوام کو صوبائی تعصب کی طر ف لے جارہے ہیں کہ یہ کراچی ، سندھ کے ساتھ امتیازی سلوک ہے جب کہ پنجاب میںٹریفک جرمانے عوا م کی دسترس سے باہر نہیں وہاں معمولی جرمانے ہیں یہ بیان عوام کو گمراہ کرنے کے متعارف ہے جیسے پہلے جرمانے کم تھے ہر صوبے میں اسی طرح پنجاب میں بھی تھے اب وہاںبھی جرمانوںکی شرح بڑھادی گئی ہے یہ ایک الگ بات ہے مریم نواز حکومت نے سڑکوںکو ہر قسم کے ٹریفک کیلئے آرام دہ بنا رکھا ہے ایسے میں انکا ٹریفک جرمانوںکو بڑھادینا نا قابل اعتراض ہے کراچی میں ڈرائیونگ لائسنس نہ رکھنے پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے ، سگنل توڑنے کی صورت میں کراچی میں جرمانہ 5 ہزار روپے اوور سپیڈنگ پر کراچی میں 5 ہزار روپے ون وے کی خلاف ورزی میں کراچی میں اس پر 25 ہزار روپے جرمانہ رکھا گیا ہے ، صوبہ سرحد ، بلوچستان نے بھی ٹریفک جرمانوں کی رقم میں اضافہ کردیا ہے ان جرمانوںکا مطلب شہریوںکی جان کی حفاظت ہے ، کراچی میں تقریباً روزانہ ہی نوجوان اور خواتین، بچے ، بوڑھے آنکھوںپر پٹی باندھے ہوئے نشے میںدھت بڑے بڑے ٹرکس سے کچل دیئے جاتے ہیں ،مالکان اشرافیہ ہیں اسلئے شائد ہی کسی جان لیوا حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور قانون کی گرفت میں آتا ہے لوگوں کے تحفظات ہرگز غلط نہیں، صرف کراچی کی چیدہ سڑکوں پر کیمرے لگا کر پورے شہر کو تذبذب، پریشانی اور ہیجان میں مبتلا کرنا انہیں خوفزدہ کرنے کے مترادف ہے، ستم یہ بھی ہے کہ ’’بلاول ہائوس‘‘کے قریب کیمرے ہی دو دن میں چوری ہو گئے ’’چالان ہوگا نہ جرمانہ‘‘ کراچی کے شہریوںکو شکایت ہے کہ سسٹم کا اطلاق صرف کراچی کے شہریوں پر ہی کیوں کیا گیا؟ جب کہ قانون سازی پورے صوبے کیلئے کی گئی ہے اگر قانون ہے تو پورے صوبے کیلئے یکساں طور پر نافذ ہونا چاہئے۔ یہ شکایت درست کہ دیگر صوبوںمیں سنگین خلاف ورزیوںکے جرمانے سندھ کے مقابلے میں کم ہیں مگر 
اتنے کم نہیں جتنا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے بسوں اور ڈمپرز کے مالکان مراعات یافتہ لوگ ہیں وہ عدالت چلے گئے ہیں کہ یہ جرمانے زیادہ ہیں عدالت نے انکی درخواست پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 نومبر تک جواب طلب کر لیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ- پاکستان  سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جسے انہوں نے شہر کی پہلے سے مشکلات کا شکار آبادی پر ''غیر منصفانہ بوجھ'' قرار دیا۔وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں جب شہری انتظام انکے پاس 12سال رہا تو انہوں نے کونسی سڑکیںدرست بنائیں یا پائیداری سے سڑکیںتعمیر کیں انہوں نے جرمانے اور خرابی کے نظام کو ''حکومتی نااہلی اور بدعنوانی کا براہ راست نتیجہ'' قرار دیا۔بیان میں کہا گیا کہ ''کراچی کی سڑکیں گڑھوں سے بھری پڑی ہیں، ٹریفک سگنل کام نہیں کرتے اور پبلک ٹرانسپورٹ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، ایسے حالات میں شہریوں پر جرمانہ عائد کرنا نہ صرف ناانصافی ہے، بلکہ یہ حکومت کی اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ایم کیوایم کے اس بیان پر مجھے خواجہ آصف کا جملہ یاد آگیا، (کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے) سگنل توڑنا، تیز رفتاری اور ون وہیلنگ جیسی خلاف ورزیاں معمولی جرم نہیں بلکہ جان لیوا حرکتیں ہیں جو ڈرائیوروں اور دیگر دونوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔جب تک سڑکیں بہتر نہ ہو ، ترقیات اخراجات کا استعمال بہتر نہ ہو جرمانے کم کرنا ضروری ہیں ۔

ٹیگز: