Wed, September 16, 2026

 موضوع: 16 دسمبر،قومی زخموں اور امیدوںکی گواہی 

 موضوع: 16 دسمبر،قومی زخموں اور امیدوںکی گواہی 

 ماہ دسمبر آتے ہی ماضی قریب اور بعید کے کچھ دلخراش واقعات سامنے آتے ہیں۔جن کی شدت اس قدر کربناک ہے کہ لفظ شاید ان لمحات کا ازالہ کرنے سے قاصر رہ جائیں۔دسمبر کی 16 تاریخ پاکستانی تاریخ کے ان سیاہ دنوں میں شامل ہے جسے یاد کرتے ہوئے آج بھی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور دل کرب سے بھر جاتا ہے۔ 16 دسمبر 2014 کا دن وہ قیامت خیز لمحہ تھا جب پشاور کے آرمی پبلک سکول میں علم حاصل کرنے والے معصوم بچے، جو اپنے روشن مستقبل کے خواب آنکھوں میں بسائے اسکول گئے تھے، دہشت گردی کی وحشت کا نشانہ بنا دیے گئے۔ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سفاک دہشت گردوں نے نہ صرف اسکول پر حملہ کیا بلکہ انسانیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے بچوں، اساتذہ اور عملے پر اندھا دھند فائرنگ کی، یرغمال بنایا اور بے رحمی سے قتل کیا۔
یہ کون نہیں جانتا کہ یہ کوئی عام حملہ نہیں تھا بلکہ پاکستان کے مستقبل پر حملہ تھا۔ وہ بچے جو کتاب اور قلم کے سپاہی تھے، جن کے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں بلکہ خواب تھے، انہیں بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ 16 دسمبر نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ ماؤں کی آہیں، باپوں کی سسکیاں اور بہنوں کے آنسو آج بھی ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں۔ یہ سانحہ صرف پشاور کا نہیں تھا بلکہ ہر پاکستانی کے دل پر لگنے والا زخم تھا۔ایک ایسا زخم جسے مندمل کرنے کے لئے ایک طویل وقت درکار ہے۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی قوم مشکل ترین حالات میں بھی ہمت نہیں ہارتی۔ اے پی ایس کے شہداء نے ہمیں صرف غم نہیں دیا بلکہ ایک پیغام دیا کہ قومیں قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں، خوف سے نہیں، چنانچہ اس سانحے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف ایک واضح اور دو ٹوک عزم سامنے آیا اور پوری قوم، سیاسی قیادت، افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک صف میں کھڑے ہو گئے۔
قومی ایکشن پلان کا نفاذ، دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کا خاتمہ، مدارس اور فنانسنگ پر کڑی نظر، اور شدت پسندی کے خلاف بیانیے کی تشکیل، یہ سب اسی قومی بیداری کا نتیجہ تھے جو 16 دسمبر نے پیدا کی تھی ۔افواجِ پاکستان نے آپریشن ضربِ عضب اور بعد ازاں ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی۔ وہ عناصر جو پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتے تھے، انہیں واضح پیغام ملا کہ یہ قوم اپنے بچوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دے گی۔حال ہی میں کیڈٹ کالج وانا پر کیا جانے والا دہشت گرد حملہ بھی ٹی ٹی پی کی انہی بہیمانہ کارروائیوں کی ایک اور کڑی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد آج بھی تعلیم، نظم و ضبط اور قومی اداروں کو نشانہ بنا کر پاکستان کے مستقبل کو تاریک کرنے کے درپے ہیں۔ کیڈٹ کالج جیسے تعلیمی اور تربیتی ادارے پر حملہ دراصل ریاستِ پاکستان کی نظریاتی اور دفاعی بنیادوں پر حملہ تھا۔ خوش قسمتی سے سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا اور ایک بڑے سانحے سے ملک کو بچا لیا۔ یہ واقعہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اگرچہ دشمن بزدلانہ حملے کرتا ہے، مگر ہماری سکیورٹی فورسز ہر لمحہ چوکس ہیں اور دہشت گردی کے ہر وار کا پوری قوت سے جواب دے رہی ہیں۔
دوسری جانب ماضی بعید میں یہی 16 دسمبرکا دن ایک اور المیہ کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ دن بھی ہماری قومی تاریخ کا ایک ایسا دن ہے جو قومی شعور پر ایک گہرے زخم کی مانند نقش ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ محض جغرافیائی تقسیم نہیں تھا بلکہ یہ سیاسی غلطیوں، باہمی ناانصافیوں اور قومی وحدت کے بکھرنے کا دردناک انجام تھا۔ مشرقی پاکستان کے عوام کی محرومیوں، سیاسی بے اعتمادی اور طاقت کے استعمال نے ایک ایسی خلیج پیدا کی جسے وقت پر پاٹا نہ جا سکا۔ اس المیے نے لاکھوں جانیں لیں، خاندان اجاڑ دئیے اور پاکستان کو ایک ناقابلِ تلافی صدمہ دیا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، مساوات اور باہمی احترام سے متحد رہتی ہیں۔سقوطِ ڈھاکہ کے زخم آج بھی ہمارے اجتماعی حافظے میں تازہ ہیں، مگر تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ماضی کی تلخیوں میں الجھ کر مستقبل کو قربان نہیں کیا جاتا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں نے وقت کے ساتھ یہ حقیقت تسلیم کی کہ خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کا راستہ باہمی احترام اور تعاون سے ہو کر گزرتا ہے۔ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ثقافتی، تاریخی اور انسانی رشتے آج بھی زندہ ہیں، جو نفرت نہیں بلکہ مفاہمت کا تقاضا کرتے ہیں۔ 16 دسمبر ہمیں احتسابِ ماضی کا موقع ضرور دیتا ہے، مگر ساتھ ہی آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی عطا کرتا ہے۔
آج یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہتری، سفارتی رابطوں میں وسعت، دفاعی مکالمے اور معاشی تعاون کے نئے امکانات جنم لے رہے ہیں۔ تجارت، تعلیم، ثقافت اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں تعاون دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ دوستانہ تعلقات اس امر کی علامت ہیں کہ تاریخ کے المناک ابواب کے باوجود قومیں بالغ نظری کے ساتھ مستقبل کی طرف دیکھ سکتی ہیں۔ ہم اس مثبت پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش ماضی کے دکھوں کو یاد رکھتے ہوئے، مگر نفرت کو دفن کر کے، امن اور ترقی کے مشترکہ سفر کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

ٹیگز: