Wed, September 16, 2026

غزہ کے بچے اور سفاک عہد کی گواہی!

غزہ کے بچے اور سفاک عہد کی گواہی!

ہلاکو خان کی قیادت میں منگولوں نے 1258ء میں عباسی خلافت کے دارالخلافہ بغداد پر حملہ کیا تو علم، تہذیب اور تمدن کا ایک عظیم مرکز مٹی میں ملا دیا گیا۔ لائبریریوں کو آگ لگا دی گئی، علما کو تہہ تیغ کیا گیا اور شہر کی گلیاں انسانی لاشوں سے بھر گئیں۔ انسانی کھوپڑیوں کے مینار چنے گئے اور دجلہ و فرات کا پانی سرخ ہو گیا۔مؤرخین نے اس ہولناک ظلم کو انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ڈکلیئر کیا مگر اس خون آشام المیے کے باوجود مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ منگولوں نے بچوں کو جنگی ہدف کے طور پر نشانہ نہیں بنایاتھا۔منگول آندھی سے قبل اور بعد میں بھی انسانی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بچوں کو باقاعدہ جنگ کا ہدف بنایا گیا ہو۔ نمرود، فرعون، چنگیز خان اور جارج ڈبلیو بش جیسے جابر اور ظالم حکمرانوں نے بھی بچوں کی نسل کشی کو جنگی حکمتِ عملی کا حصہ نہیں بنایا۔یہ بدبختی اگر کسی قوم کے حصے میں آئی تو یہ وہی قوم ہے جسے اللہ نے قیامت تک ذلت و مسکنت اور لعنت و پھٹکار کا مستحق ڈکلیئر کیا ہے۔
یونیسیف کے ترجمان جیمز ایڈر نے پچھلے دنوں ایک پریس کانفرس میں بتایا کہ غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک پچاس ہزار سے زائد بچے شہید ہو چکے ہیںاوراس سے کہیں زیادہ معذور ہو چکے ہیں۔ ہسپتالوں میں روزانہ درجنوں معصوم بچے داخل ہو رہے ہیں جو جسمانی اعضا سے محروم اور شدیدزخمی ہوتے ہیں۔ سیکڑوں بچے بھوک کی وجہ سے شہیدہو ئے ہیں او رہزاروں ایسے ہیں جوہڈیوں کا پنجر بن چکے ہیں اور ان کی مائیں ان کے مرنے کی دعائیں کر رہی ہیں۔ کئی جگہوں سے شیرخوار بچوں کے جلے ہوئے جسم ملے ہیں جو جل کر کوئلہ بن چکے ہیں۔ 
بین الاقوامی قانون، جنیوا کنونشن، اقوامِ متحدہ کی قراردادیں اور بچوں کے تحفظ کے عالمی معاہدے سب غزہ کے گلی کوچوں میں دفن ہو چکے ہیں۔اسرائیلی فوج جان بوجھ کر ہسپتالوں، اسکولوں، پناہ گاہوں اور راشن کی قطاروں میں کھڑے بچوں پر بم گرا رہی ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ یہ حقائق عالمی میڈیا، سوشل میڈیا اور بین الاقوامی رپورٹس میں documented ہیں مگر اس کے باوجود’’مہذب دنیا‘‘ خاموش بیٹھی ہے۔وہ مہذب دنیاجہاں بلیوں اور کتوں کے حقوق کے لیے بھی باقاعدہ عدالتیں موجود ہیں۔اس مہذب دنیا کی سول سوسائٹی ، انسانی حقوق کے چیمپئن ،عالمی قوانین کے رکھوالے اور این جی اوزان سب کی حقیقتیں غزہ کی گلیوں میں تار تار ہوئی پڑی ہیں۔ 
رہے عرب ممالک تو ہم نے اسلام سے قبل اہل عرب کی سنگدلی، بے حسی اور اخلاقی پستی کی جو داستانیں کتابوں میں پڑھی تھی انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔سچ صرف یہ ہے کہ اہل عرب اگر تاریخ میں کبھی معزز ہوئے تو اس کی وجہ ان کی کوئی ذاتی صفات یا شخصی کمالات نہیں تھے بلکہ یہ صرف اور صرف مذہب کی عطا تھی کہ انہیں تاریخ میں ایک عظیم قوم کی شناخت عطا کی۔ ورنہ اپنی ذات میں یہ خود پرست، مفادات کے اسیر، خوشامد کے خوگر، بدو، تہذیب سے نابلد اور طاقت کے مراکز کے سامنے سربسجود رہے ہیں۔آپ دیکھ لیں آج خطے کے عرب ممالک کے پاس بے پناہ وسائل، مضبوط سفارتی قوت اور مکمل علاقائی اثر و رسوخ موجود ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس ظلم کو روکنے کے لیے کوئی بامعنی قدم نہیں اٹھایا۔ ان کے لیے اسرائیل سے تعلقات،اپنے اقتدار کا تحفظ ،امریکی مفادات اور تجارتی تعلقات زیادہ اہم ہیں۔عرب ممالک کی یہ سفارتی لاتعلقی ، سیاسی مصلحت اور اخلاقی بے حسی ان کے اجتماعی انحطاط کا منہ بولتاثبوت ہے۔
رہے بنی اسرائیل تو اللہ نے اپنی کتاب میں اپنا تعارف انصاف کرنے والے کے طور پر کرایا ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے انصاف کرتا ہے۔ اللہ نے آسمانی کتابوں میں بنی اسرائیل پر تاقیامت ذلت ومسکنت کے مسلط رہنے کی جو پیشنگوئی کی تھی انسانی ذہن اسے قبول کرنے اور اس کی تفہیم میں تذبذب کا شکار تھا کہ کیسے ایک قوم کو ، اس کے پرکھوں کے اعمال کی بنا پر تاقیامت ذلت ورسوائی کا مستحق ڈکلیئر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن انسانی تاریخ میں پہلی بار بچوں کو باقاعدہ ہدف بنا کر اس قوم نے انسانی ذہن کے مغالطوں کو دور کر کے اللہ کی صفت انصاف کو مبرہن کردیا ہے۔ یہ وہی بدبخت قوم ہے جس نے ماضی میں انبیاء کو قتل کیا، اللہ کے احکامات کا مذاق اڑایا، وعدے توڑے، سود اور فریب کو اپنایا اور زمین میں فساد پھیلایا۔ یہ وہ قوم ہے جس کامجرمانہ ریکارڈ ہزاروں سال پر محیط ہے۔انہوں نے حضرت زکریاؑ کو آرے سے چیر دیا ، حضرت یحییٰ ؑ کو شہید کیا اور حضرت عیسیٰؑ کو صلیب پر چڑھانے کی کوشش کی۔ انبیاء کے ساتھ بدتمیزی، گستاخی اور الزام تراشی ان کی فطرت بن چکی تھی۔ یہ تورات میں تحریف کرتے رہے، احکامِ الٰہی کو مرضی سے بدلتے اور چھپاتے رہے۔یہ سود خوری کے رسیا تھے ،انہوںنے یتیموں کا مال کھایا، جھوٹ کو ذریعہ معاش بنایااور فریب و دھوکہ دہی کو اجتماعی مزاج کا حصہ بنایا۔ یہ قوم آج بھی اسی روش پر قائم ہے۔انہی وجوہات کی بنا پر اللہ نے قرآن میں فرمایاکہ یہ قوم تا قیامت اللہ کی لعنت اور پھٹکار کی مستحق رہے گی۔آج یہ قوم غزہ میں جو کچھ کر رہی ہے یہ قرآن کی پیش گوئیوں کی تفسیر بنتی جا رہی ہے۔ اس نے اپنے تاریخی جرائم کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے ثابت کردیا ہے کہ یہ لعنت اور پھٹکار سے بھی آگے کی مستحق تھی۔
آج دنیا کے کسی کونے سے غزہ کے بچوں کے حق میں کوئی آواز نہیں اٹھ رہی ۔مشرق و مغرب، عرب وعجم ، مذہبی و ملحد اور مہذب و غیر مہذب سب خاموش اور بے حس ہوئے پڑے ہیں۔ میرا کرب یہ ہے کہ میرے لیے اس عہد میں زندہ ہونا ایک فکری اضطراب بن چکا ہے۔یہ ا ضطراب کہ میں ایک ایسے عہد میں زندہ ہوں جہاں بچوں کی لائیو نسل کشی کی جا رہی ہے، جہاں بچوں کو کھانے کی قطاروں میں کھڑا کرکے بم گرائے جا رہے ہیں۔جہاں شیر خواربچوں کے کوئلہ بنے جسم اٹھائے جا رہے ہیں ۔ اس سفاکیت اور وحشت نا ک دنیا میں خاموش تماشائی بن کر جینا محض ایک حیاتیاتی سرگرمی تو ہو سکتی ہے ایک زندہ اخلاقی وجود ہرگز نہیں۔ کاش !اکیسویں صدی کے بعد آنے والی نسلیں جب تاریخ کے اوراق میں اس سفاک عہد کو پڑھیں اور اس عہد میں جینے والی انسانیت پر چار حرف بھیجیں تو وہ یہ جان لیں کہ کچھ لوگ ایسے تھے جو اس ظلم پر خاموش نہیں تھے۔ وہ مضطرب تھے، شرمسار تھے اور اس عہد میں زندہ ہونے پر مضطرب اور اس کو اپنی بدقسمتی سمجھتے تھے۔ وہ لعنت و پھٹکار کی مستحق قوم کی سفاکیت اور وحشیانہ پن کے خلاف مسلسل گواہی دیتے رہے۔

ٹیگز: