Wed, September 16, 2026

بھارتی رودالی میڈیا

بھارتی رودالی میڈیا

بھارت نے جنگ بُری طرح ہار تے ہی بلیم گیم یا میڈیا وار شروع کر دی لیکن اس بار اس کو اس محاذ پر بھی سبکی اٹھانا پڑی بلکہ منہ کی کھانا پڑی جس کے بعد اس کے پاس منہ چھپانے (فیس سیونگ) کے بظاہر دو ہی راستے بچتے نظر آتے ہیں۔ اول، یا تو دوبارہ پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے اور ایک بار پھر طاقت آزمانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ جو اس کا سب سے بڑا سٹرٹیجک مس ایڈونچر ہو گا اور پاکستان اس بار مودی کے سیاسی تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونکنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ دوم، وہی پرانا حربہ جو انڈیا آج تک کرتا آیا ہے یعنی پاکستان کے مختلف حصوں میں در اندازی کرے، دہشت گردانہ کارروائیوں کا آغاز کر دے لیکن امید ہے پاک فوج، قومی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے ادارے اب اس میدان میں بھی اس کو سرپرائز دیں گے۔ ان حالات میں بظاہر ہندوستان کے پاس اس وقت کچھ نہیں رہا اور نہ ہی آنے والے وقتوں میں اس کے ہاتھ میں کچھ رہتا نظر آ رہا ہے کیونکہ عالمی فورمز پر بھارت بُری طرح اپنی ساکھ کھو چکا ہے جسے بحال کرنے میں اسے کافی وقت لگے گا لیکن یہ سب بھارت دیش کا نقصان ہوا ہے، بھارتی عوام کا نقصان ہوا ہے۔ موجودہ بھارت سرکار یعنی مودی سرکار کا نہیں، اس کا اصل نقصان بہار کے انتخابات کے نتائج کے بعد تخمینہ لگایا جائے گا، تاہم یہ بھی بظاہر خسارے میں ہی نظر آ رہے ہیں۔ پاک بھارت اس جنگ میں ساکھ کے اعتبار سے سب سے بڑا نقصان یورپی اسلحہ کی منڈیوں کو پہنچا ہے جو شاید کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا۔ بھارت کے پاس یورپی ممالک کا بہترین اور جدید ترین اسلحہ موجود تھا اور وہ ہرگز اس خوف میں مبتلا نہیں تھا کہ پاکستان حیرت انگیز طور پر ایسے جدید ترین اسلحہ کی موجودگی میں بھی اسے اس طرح بے بس کر دے گا جس کے بعد پہلی بار یورپی ممالک کی اسلحہ منڈیوں میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے اور چین پہلی بار اسلحہ مارکیٹ کنگ کے طور پر سامنے آیا ہے کہ اب چین کے مال پر بھی بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ بھارت سرکار کے وار پارٹنر بھارتی میڈیا کا کردار اس جنگ میں ’’رودالی خواتین‘‘ کا سا نظر آیا۔ یہاں رودالیوں، ان کے ذریعہ معاش اور طرز بود و باش کا ذکر اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کی وضاحت کے بغیر بھارتی میڈیا کا موجودہ صحافت کے منافی رویہ سمجھا نہیں جا سکتا۔ رودالی خواتین راجستھان (بھارت) میں ایسی بیوہ یا نوجوان خواتین پر مشتمل گروہ تھے جو قبیلے کی شکل اختیار کر چکے تھے جن کا کام راجوں مہاراجوں ٹھاکروں اور اونچی ذات کے گھروں میں جا کر چتائوں (میت) پر بین کرنا ہوتا تھا۔ یہ کم تر ذات کی خواتین کے گروہ ان راجے مہاراجوں اور ٹھاکروں کے ہاں جا کر میت پر روتے بین کرتے جو سمجھتے تھے کہ وہ اونچی ذات ہیں اور سماجی طور پر سب سے زیادہ معزز اور عزت والے ہیں اور کسی کے دیہانت پر رونا ان کی شان کے خلاف ہے ایسے میں ان رودالی خواتین کی خدمات لی جاتیں جو ان کے حصے کا اس میت پہ روتی بین کرتیں اور وہ راجے مہاراجے اور ٹھاکر انہیں جاتے ہوئے مختلف اجناس اور رقم یا دیگر چیزیں بطور معاوضہ دیتے۔ اس میں بنیادی بات جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ مرنے والا (جس میت پر رودالی خواتین بین کر رہی ہوتیں) وہ ان رودالیوں کا کچھ نہیں لگتا تھا اس کے جانے سے ان رودالیوں کا کوئی نقصان نہیں بلکہ اس کا دنیا سے اٹھنا ہی ان کے روزگار کا وسیلہ تھا اور جانے والے سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود یہ رودالی خواتین انتہائی سچائی کے ساتھ بین کرتی نظر آتیں۔ اس موضوع پر 1993 میں ’’رودالی‘‘ فلم بھی بن چکی ہے۔ بھارتی میڈیا کا کردار بھی اس پاک بھارت جنگ میں رودالی خواتین جیسا ہی نظر آیا جس کی بلا تکلیف جھوٹی چیخیں بھی حقیقی کرب کا فریبی منظر پیش کر رہی تھیںلیکن افسوس کہ رودالی میڈیا کی یہ فلم عالمی باکس آفس پر بُری طرح پٹ گئی۔
مختصر دورانئے کی اس جنگ کے اثرات کس قدر مختصر یا طویل المدت ہوتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے لیکن سابقہ تجربات کی روشنی میں ہمیں اس قدر تسلی ضرور رکھنی چاہئے کہ معیشت یا اقتصادی چیلنجز جنہیں جنگ کے آفٹر شاکس بھی کہا جا تا ہے وہ بھی شاید پاکستانی قوم کو اس طرح متاثر نہ کر سکیں جس کی وجہ یہ ہے کہ معاشی دبائو کو اگر عوامی سطح پر لیا جائے تو پاکستان کے عوام نے کبھی یہ دباؤ لیا ہی نہیں۔ یہ مہنگائی بڑھ گئی کا رونا بھی روتے رہیں گے اور اپنی سابقہ روٹین کے مطابق زندگیاں بھی گزارتے رہیں گے۔ جس سے نہیں گزرے گی وہ زندگی کا خاتمہ کر لے گا مگر کبھی حکومت کو حقیقی آسودگی اور فلاحی ریاست کے متقاضی فیصلے کرنے کا احساس نہیں دلائے گا کہ کہیں وہ اپنا یہ عوامی فرض ادا کر کے گنہگار نہ ٹھہرے۔ اسی معاشی دباؤ کی اگر حکومتی تناظر میں بات کریں تو حکومت کے پاس اس مسئلے کا واحد اکلوتا اور سب سے مؤثر حل ’’سٹیرائیڈ سولیوشن‘‘ آئی ایم ایف سے قرضہ کی قسط منظور کرانا ہے۔ اس لیے جنگ کے بعد مہنگائی کے طوفان سے وہ ڈریں جن کو آنکھیں چندھیانے کا خوف ہو۔ جن کی آنکھیں ہی نہ ہوں ان چشمان روشن کو کیا فکر کہ مہنگائی کا کوئی جھکڑ یا طوفان آ رہا یا نہیں وہ تو آنکھیں بند کیے زندگی کے راستے پہ چلتے جا رہے ہیں جہاں کوئی کھائی آئے گی، گریں گے اور زندگی کا قصہ تمام شد۔ پی ایس ایل کے شیڈول کی بحالی اور میچز کا دوبارہ انعقاد اس بات کا غماز ہے کہ ہم پہ نہ کوئی معاشی دبائو ہے اور نہ ہی ایسا کوئی خدشہ ہے۔ خیر جنگی تبصرے کے اختتامی پیراگراف میں بھارت سے ایک بنتی ہے کہ وہ اپنی اس خوش بختی کو پہچانے کہ اس کے پڑوس میں پاکستان آباد ہے۔ بھارت اگر اس امن کے دلدادہ پڑوسی ملک کے ساتھ پریم گرنتھ کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرے تو یہ لائن آف کنٹرول ’’لائن آف کیئر‘‘ بھی بن سکتی ہے۔ بھارتی جنگی جنون نے ہمیشہ پاکستان کو سکیورٹی سٹیٹ بنے رہنے پر مجبور کیا ہے مگر پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ دوستانہ مراسم اور امور محبت دوستانہ راہداریاں کشادہ کرنے کی بات کی ہی۔ ہم تو آج بھی اس جنگ کے تناؤ سے بھر پور ماحول میں بھی بھارتی فلموں اور بھارتی گانوں سے محظوظ ہو کر نئے حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔

ٹیگز: