نئی دہلی / لداخ: مقبوضہ لداخ کے انتہائی حساس اور دشوار گزار علاقے میں بھارتی فوج کا ایک اور ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا، جس نے انڈین ایوی ایشن کے نام نہاد جدید اور محفوظ ہونے کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔
بھارتی جریدے "دی ٹائمز آف انڈیا" کی رپورٹ کے مطابق، حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر بھارتی فوج کا 'چیتا ہیلی کاپٹر' تھا، جو پرواز کے دوران تکنیکی خرابی کے باعث لداخ کے پہاڑوں میں گر گیا۔ اس ہائی پروفائل حادثے میں بھارتی فوج کے ایک میجر جنرل اور ان کے ہمراہ دو دیگر سینیئر فوجی افسران شدید زخمی ہوئے، جن کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
دفاعی رپورٹ کے مطابق، یہ حادثہ بھارتی ملٹری ایوی ایشن کی مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ گزشتہ 10 سال کے دوران بھارتی فوج کے 10 چیتا ہیلی کاپٹر تباہ ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے خود بھارتی پائلٹس ان ہیلی کاپٹرز کو "اڑتے تابوت" قرار دیتے ہیں۔
اس مسلسل گرتے ہوئے گراف نے بھارتی فضائیہ اور زمینی فوج کے زیرِ استعمال آلات کے معیار، ناقص مرمت اور کمزور سکیورٹی پروٹوکولز پر بین الاقوامی سطح پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ لداخ جیسے جنگی ماحول میں اعلیٰ ترین افسران (میجر جنرل) کے لیے دہائیوں پرانی اور ناکارہ ٹیکنالوجی کا استعمال یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارتی فوج اندرونی طور پر شدید آپریشنل اور لاجسٹک بحران کا شکار ہے۔