Wed, September 16, 2026

ہر جگہ عوام کا ہی استحصال کیوں؟

ہر جگہ عوام کا ہی استحصال کیوں؟

حکومتوں کے پاس تو اپنے ہر جائز اور ناجائز کام کی توجیہہ تو ہوا ہی کرتی ہے شائد اسی لیے بالخصوص ہمارے حکمران خود تو ہر ماہ ہزاروں لیٹر مفت پیٹرول کے مزے اڑاتے ہیں لیکن عوام کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کو ملک کے وسیع تر مفاد میں قرار دے دیا جاتا ہے۔ بلکہ وہ تو سابق وزیراعظم عمران کے بڑے جرائم میں اس کے دور اقتدار کے آخری دنوں میں پیڑول کی قیمتوں کو نہ بڑھانا قرار دیتے ہیں۔ممکن ہے یہ تمام باتیں درست بھی ہوں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کی ذمہ داری صرف قیمتیں بڑھانا ہی ہے یا کچھ ذمہ داری اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کو کنٹرول کرنے کی بھی ہے؟۔
حکومت کی جانب سے چند ہی ہفتوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں تو دو مرتبہ اضافہ کر دیا گیا لیکن اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اللہ توکل چھوڑ دی گئی۔ اس کے نتیجہ میں حالت یہ ہے کہ کل تک جو سفر 100روپے میں طے ہوتا تھا، آج وہی بمشکل170روپے میں مکمل ہو رہا ہے۔ میں نے ایک رکشہ والے سے پوچھا، کہ بھائی صاحب اتنا کرایہ کیوں بڑھا دیا ہے؟ تو اس نے فوراً جواب دیا، جناب پٹرول مہنگا ہو گیا ہے۔ ہم کیا کریں؟۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر پٹرول یا ڈیزل کی قیمت میں صرف پانچ روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوتا ہے تو کیا کرایہ 40، 50 یا بعض اوقات 100 روپے بڑھا دینا جائز ہے؟ کیا واقعی پانچ روپے کا فرق اتنا بھاری ہوتا ہے کہ ہر سوار کی جیب ہلکی کر دی جائے؟۔
اگر اندازہ لگایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک عام وین، کوچ یا بس جو ایک شہر سے دوسرے شہر کے درمیان چلتی ہے، وہ عام طور پر ایک لیٹر میں تقریباً 5 سے 10 کلومیٹر چلتی ہے۔ اگر گاڑی نے 100 کلومیٹر کا سفر کرنا ہے تو اسے تقریباً 10 لیٹر فیول درکار ہوگا۔ پانچ روپے فی لیٹر کے حساب سے اس سفر پر کل 50 روپے کا اضافی خرچہ پڑے گا۔اب اسی بس میں عام طور پر 25 سے 40 مسافر بیٹھتے ہیں۔ اگر ہم ان 50 روپے کو 30 مسافروں پر تقسیم کریں تو فی مسافر پر صرف 1.66 روپے کا بوجھ پڑتا ہے۔ اور اگر مسافر 40 ہوں تو یہ بوجھ صرف 1.25 روپے رہ جاتا ہے۔(لگژری کوچز کے لیے ان اعداد و شمار کو دوگنا کیا جا سکتا ہے)۔
یہ تو سیدھا حساب ہے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ کوچ والے فی مسافر کرایے میں 50 سے 100 روپے کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ یعنی 1.5 روپے کے فرق کو 100 روپے بنا دیا جاتا ہے۔اس کھلی چھٹی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں:  ٹرانسپورٹرز کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کرایوں کے تعین کا کوئی واضح نظام نہیں۔ حکومتی ادارے صرف بیان بازی کرتے ہیں، عملی کارروائی نہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام خاموشی سے سب کچھ برداشت کر لیتے ہیں۔
اسی طرح اگر ہم شہر کے اندر سفر کی بات کریں تو صورت حال اور بھی پریشان کن ہے۔ مثلاً لاہور، کراچی، فیصل آباد یا پشاور جیسے شہروں میں روزمرہ سفر زیادہ سے زیادہ 10 سے 20 کلومیٹر کا ہوتا ہے۔ ایک رکشہ یا موٹر سائیکل سروس اگر ایک لیٹر میں 20 کلومیٹر چلاتی ہے، تو پانچ روپے اضافے سے اس کا خرچ صرف 25 پیسے فی کلومیٹر بڑھتا ہے۔لیکن جب آپ رکشہ یا موٹر سائیکل والے سے کرایہ پوچھتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ صاحب پٹرول مہنگا ہو گیا ہے، اب یہی ریٹ ہے۔آپ دل ہی دل میں سوچتے ہیں، کیا یہ واقعی پٹرول مہنگا ہونے کا نتیجہ ہے، یا موقع سے فائدہ اٹھانے کا بہانہ؟۔
میں نے کل ایک رکشے والے سے بات کی۔ وہ بیچارہ خود بھی پریشان تھا۔ کہنے لگا، بھائی ہم بھی مجبور ہیں۔ پٹرول تو مہنگا ہوا ہی ہے، لیکن گاڑی کے پارٹس، آئل، مینٹیننس سب کچھ مہنگا ہو گیا ہے۔ اب اگر کرایہ نہ بڑھائیں تو گھر کا خرچ کیسے چلے؟ میں اس کی بات سمجھتا ہوں، لیکن اس کے باوجود سوال تو اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر پٹرول پانچ روپے مہنگا ہوا ہے، تو پانچ روپے ہی کرایہ بڑھایا جائے، 50 روپے کیوں؟۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو عوام کو حساب آتا ہے، نہ حکومتی ادارے اس کا خیال کرتے ہیں۔ کرایہ بڑھانا ہو تو ہر کوئی آزاد ہے۔ کوئی قاعدہ، کوئی قانون، کوئی ضابطہ نہیں۔
اگر عوام ذرا سی توجہ دیں، تو بہت کچھ بہتر ہو سکتا ہے۔ فرض کریں، کسی بھی مسافر جب بھی ناجائز کرایہ طلب کیا جائے تو وہ ادب سے پوچھے کہ بھائی یہ اضافی کرایہ کس حساب سے ہے؟تو کم از کم ٹرانسپورٹر کو اندازہ ہو گا کہ لوگ شعور رکھتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہم سب خاموش رہتے ہیں، اور یہی خاموشی ناجائز کرنے والے کا حوصلہ بڑھا دیتی ہے۔
 ہم نے دیکھا ہے کہ اگر کبھی پٹرول سستا ہوتا ہے تو کوئی بھی ٹرانسپورٹر کرایہ کم نہیں کرتا۔ کبھی کسی رکشہ والے سے نہیں سنا کہ، جناب آج پٹرول پانچ روپے سستا ہوا ہے، اس لیے آج آپ کا کرایہ کم کر رہا ہوں۔ 
مفت پیٹرول کے مزے اڑانے والوں کو تو شائد یہ بھی معلوم نہ ہو کہ ملک میں فی لیٹر پیٹرول کی کیا قیمت چل رہی ہے لیکن پٹرول کی قیمت میں جب بھی اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر عوام پر ہی پڑتا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بار کرایوں میں من مانی کی جائے؟ حکومت کو چاہیے کہ فوراً ایک واضح اور سادہ سا فارمولا جاری کرے کہ اگر پٹرول ایک روپے مہنگا ہو تو کرایہ فی کلومیٹر کتنا بڑھے گا؟ اگر پٹرول سستا ہو تو کرایہ کتنے فیصد کم ہو گا؟ ہر شہر کے اندرونی کرایوں کی حد مقرر کی جائے۔ ٹرانسپورٹرز کو پابند کیا جائے کہ وہ روزمرہ ریٹس بورڈ پر آویزاں کریں۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ شکایت کا ایک آسان، فوری اور مؤثر نظام ہونا چاہیے۔ مثلاً اگر کوئی مسافر ناجائز کرایہ کی شکایت کرے تو فوری کارروائی ہو، جرمانہ ہو، اور سزا بھی ہو۔
ایک اور پہلو جسے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے وہ یہ ہے کہ بعض اوقات رکشہ یا بس والے بھی واقعی مجبور ہوتے ہیں۔ مہنگائی کا طوفان صرف عوام پر نہیں، ٹرانسپورٹرز پر بھی آتا ہے۔ لیکن اس کا حل ناجائز منافع خوری نہیں، بلکہ حکومتی معاونت ہے۔ اگر حکومت پبلک ٹرانسپورٹ کو سبسڈی دے، پرزہ جات پر ٹیکس کم کرے، اور آئل کمپنیوں کو ریگولیٹ کرے تو یقینا معاملات میں کافی حد تک بہتری آ سکتی ہے۔
بات صرف پٹرول کی قیمت کی نہیں، بات احساس کی ہے۔اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کی، تو کل جب پٹرول دس روپے بڑھے گا، کرایے 200 سے 300 ہو جائیں گے، اور ہم پھر صرف آہیں بھرنے پر مجبور ہوں گے۔اب بھی وقت ہے کہ ہوش کے ناخن لیں۔ حکومت اپنا کردار ادا کرے، ٹرانسپورٹرز انصاف کریں، اور عوام شعور پیدا کریں۔

ٹیگز: