پاکستان میں پنجاب کے حوالے سے لکھے جانے والی زیادہ تر تحریرو ں میں یہی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ پنجاب نے دوسرے صوبوں پر بہت مظالم کیے ہیں ۔ پنجابیوں نے ہر استحصال کرنے والی قوت کا ساتھ دیا ہے ۔جو سہولتیں پنجابیوں کو مل رہی ہیں دوسرے صوبوں کے عوام اس سے محروم رہے ہیں۔ اس منفی پروپیگنڈا کا آغاز تو تقسیم ہند کے ساتھ ہی پاکستان میں آنے والے اردو سپیکنگ ’’ دانشوروں ‘‘ نے کیا ۔ پنجابی زبان اور پنجابیوں کی تہذیب ٗثقافت ٗ کلچر ٗ اور یہاں تک کے اس دھرتی کا سینہ چیر کر اناج اُگانے والوں تک کے رہن سہن کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔جنگی پروپیگنڈا جنگ ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے اورپھر قصے کہانی رہ جاتی ہیں لیکن لسانی اورجغرافیائی منفی پروپیگنڈا اگر تواتراور تسلسل کے ساتھ پھیلتا رہے تو سماج میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے اور اُس منفی پروپیگنڈا کے حمایتی اورہر مکتبہ ء فکر میں میسر آ جاتے ہیں ۔ ذاتی حیثیت میں میری پہچان کشمیری النسل پاکستانی ہونے کی ہے اور شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کشمیر بھی پنجاب کا ہی حصہ ہے لیکن اُس کی سیاسی اہمیت نے آج وہاں عجیب و غریب نعروں کوجنم دے دیا ہے۔مشترکہ ہندوستان پر پہلے معلوم اور منظم حملہ آور سکندر اعظم کے مدِ مقابل کھڑ ا ہونے والا ایک پنجابی ٗراجہ پورس ہی تھا ۔ یہ بات جناب مسیح علیہ سلام کی پیدائش سے 326 سال پہلے کی ہے ۔ اور پنجاب میں انگریزوں کے قبضے کو سب سے طاقت ور اور توانا مزاحمت بھی ایک پنجابی رنجیت سنگھ کی ہی برداشت کرنا پڑی ۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں پنجابیوں کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اور نہ ہی 1857ء سے لے کر 1947ء تک پنجابیوں کی مزاحمت کو تاریخ کے اوراق سے ختم کیا جا سکتا ہے ۔ اصل معاملہ تو اُس وقت خراب ہوا جب ہم نے دوقومی نظریہ کی بنیاد پر قوم کی نئی تعریف متعارف کروائی تو ہمارے ہیرو اورولن الگ الگ ہو گئے ۔ سلاطین ِ دہلی کو اِس لئے پنجابی مسلمانوں کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا کہ یہ جنگیں بھی افغان اور سینٹرل ایشیا کے حکمرانوں کی درمیان ہی ہوتی رہی ہیں اور دونوں طرف ہی مسلم قیادت کے پرچم تلے ہر مذہب اورقوم کا سپاہی جم کے کھڑاہوا کرتا تھا ۔
طبقاتی سماج میں کا یہ سب سے پہلا قانون ہے کہ وہاں قانون سازی ٗ عدالتی تشریح اور قانون پر عمل درآمد طبقہ دیکھ کر کی جاتی ہے سو یہ گلہ کرنا کہ بلوچستان یاخیبر پختوخوا کے بچوں کو وہ سہولتیں کیوں نہیں مل رہیں جو لاہور کے بچوں کو میسر ہیں ٗ تو اِس کا انتہائی سادہ سا جوا ب ہے کہ یقینا یہ بات جزوی طور پردرست ہے لیکن کُلی طور پر غلط ٗ کیوں بلوچستان کے سرداروں ٗخیبر پختون خوا کے خانوں ٗ ملکوں ٗ سندھ کے وڈیروںاور پنجاب کے جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کے بچوںاور لاہور کے بچوں کو ملنے والی ضرورتیں اور سہولتیں کیا ایک جیسی ہیں ؟ بلوچ سرداروں کے بچے تو ایچسن میں پڑھتے ہیں یا پھر برطانیہ اور امریکہ میں ٗ یہی حال دوسرسے تمام صوبوں کا ہے ۔یہ دولت کی وہ طبقاتی تقسیم ہے جو قدر زائد کی شکل میں طبقات پیدا کرتی ہے اور انہیں طبقات کی رسائی ریاست چلانے والے تمام اداروں کے اندرتک ہو تی ہے ۔ اس میں کسی ایک صوبے ٗ ایک سیاسی جماعتٗ ٗ ایک شخص یا ایک ادارے کو موردِ الزام ٹھہرا کر جان نہیں چھڑائی جا سکتی ۔ اس کا دیانتداری سے تحقیقی مطالعہ کرنا ہو گا تاکہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے حقیقت کو سمجھ کر اُس کا حل نکالنے کی طرف گامزن ہوں ۔
1947میں پنجاب کے ساتھ پہلا ظلم ہوا جب اس’’ گولڈن سپیرو‘‘ اور’’ بریڈ باسکٹ ‘‘کو تقسیم کرکے ایک بڑی قوم کو ٹکروں میں تقسیم کردیا ۔ اس کے کھیت کھلیان تو تقسیم ہوئے ہی اس کے دریا اور رشتے بھی تقسیم ہو گئے ۔ اس کی تاریخ تقسیم کردی گئی ،ایک سازش کے تحت پنجابیوں کا قتلِ عام کروایا گیا تاکہ یہ کبھی دوبارہ اکٹھے ہونے کا سوچ بھی نہ سکیں ۔ اُس المیہ پر فلمیں بنائی گئیں ٗ شاعری ہوئی ٗ افسانے لکھے گئے اور مصنوعی طریقے سے اُس نفرت کو جتنی دیر تک زندہ رکھا جا سکتا تھا رکھا گیا ، کسی قوم پر اِس سے بڑا ظلم کیا ہی نہیں جا سکتا کہ اُس سے اُس کی زبان چھین لی جائے ٗ اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ کوئی پنجابی زبان بولنے یا لکھنے سے روک رہا ہے بلکہ اس زبان کو ذریعہ روزگار نہیں بنایا گیا اورجو زبان ذریعہ روزگار نہ بنے اُسے ختم ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ شعوری طور پر پنجاب کی ثقافت اور رہتل کو تبدیل کیا گیا ہر صوبہ اپنی زبان بولتا بھی ہے لکھتا بھی ہے اور ذریعہ روزگار بھی ہے لیکن افسوس کے پنجابی کے ساتھ ایسا نہ کیا گیا ٗ پنجاب کا لباس جو صدیوں بلکہ ہزارویوں سے ہمارے بزرگ پہن رہے تھے دیکھتے دیکھتے نہ صرف غائب ہوگیا بلکہ نئی نسل کے اذہان میں اُسے پسماندگی کا استعارہ بنا دیا گیا ۔ہمارے دریا بیچ کر پنجاب کو آج پانی کے مسئلے سے دوچار کردیا گیا ۔ پنجاب اس ملک کی ضرورت کا 80فیصد اناج پیدا کرتا ہے لیکن اُسے 37 فیصد پانی دیا جاتا ہے جبکہ سندھ 18 فیصد پیدا وار کے ساتھ 37 فیصد پانی لے رہا ہے ۔ پنجاب کولیاقت علی خان سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو تک مقتل گاہ بنا دیا گیا لیکن ظلم پنجابی کر رہا ہے۔ چار مارشل لا لگانے والوں میں صرف ایک پنجابی تھا اور پنجابی آج بھی
اُس کی بدترین مذمت کرتے ہیں لیکن خیبر پختون خوا میں تو ابھی کل کی بات ہے عمران نیازی کے جلسوں میں ایوب خان کے دورہ امریکہ کے استقبال کی ویڈیوز چلا کر عوام کو بتایا جا رہاتھا کہ یہ پاکستان کا سب سے خیر خواہ حکمران تھا ۔ابھی کل کی بات ہے ہمارے بچے دنیا کی بہترین خوراک کھاتے تھے جس کانام بھی آج وہ نہیں جانتے ۔ نہری نظام جو انگریز دے گیا تھا ہم نے اُسی پر گزار ہ کرنا بہتر سمجھا ٗ بارانی پنجاب میں ہم نے چھوٹے ڈیم بنانے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی ۔ میں دوسرے صوبوں میں بسنے والوں کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب تمہیں روز گار نہیں ملتا تو تمہارے بچے پنجاب میں کوئٹہ اورخیبر ہوٹل کھول لیتے ہیں ٗ سندھ میں روزگار کے مواقع تلاش کرلیتے ہیں لیکن ہمارے بچے گہرے سمندروں میں غرق ہو جاتے ہیں اور ہم قبر کی دیواروں تک اُن کا انتظار کرتے رہتے ہیں کیونکہ ہم ظالم ہیں اور ہم دوسرے صوبوں کے بچوں پر ظلم کرتے ہیں اور اُن سے بہتر زندگی چھین لیتے ہیں؟۔