چند روز قبل ایک آنکھ نے قوم کو بہت پریشان کیے رکھا۔ یہ آنکھ اڈیالہ جیل میں بند ایک قیدی کی تھی۔ وہی قیدی جسے اس کے چاہنے والے قیدی نمبر آٹھ سو چار اور مخالفین بانی پی ٹی آئی کے نام سے جانتے ہیں۔ قیدی کی آنکھ میں تکلیف کا سن کر اچھے خاصے شدید مخالفین کے دلوں میں بھی گہری ہم دردی کے جذبات پیدا ہو گئے تھے۔ معاملہ ہی کچھ ایسا تھا۔ اخبارات نے بڑی بڑی شہ سرخیاں جما دی تھیں کہ آنکھ کی بینائی پچاسی فیصد ختم ہو گئی ہے۔ ادھر الیکٹرانک میڈیا بھی مسلسل اسی خبر پر "کھیل" رہا تھا، نیوز بلیٹنز اور پرائم ٹائم شوز پر آنکھ ہی آنکھ چھائی نظر آتی تھی۔ سوشل میڈیا پر بھی ہر دوسری پوسٹ آنکھ ہی کے ارد گرد گھوم رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہی آنکھ ہے۔
ایسا کیوں نہ ہوتا کہ تحریک انصاف کے قائدین نے ماحول ہی کچھ ایسا بنا دیا تھا۔ تحریک انصاف کے رہنما اور معروف قانون دان سلمان اکرم راجا نے تو اپنے مخصوص نستعلیق انداز میں آنکھ کی تکلیف کا باعث بننے والے "مجرم" کا تعین بھی کر دیا تھا اور اس طرح دنیا عبدالغفور انجم نامی "کردار" سے "متعارف" ہوئی۔ سلمان اکرم راجا نے اڈیالہ جیل کے سابق وارڈن عبدالغفور انجم پر آنکھ "ضائع" ہونے کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا بھی اعلان کر دیا تھا۔ جب سلمان اکرم راجا یہ اعلان کر رہے تھے، اس وقت بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان بھی ان کے پہلو میں کھڑی اپنے بھائی کی آنکھ ضائع ہونے پر اشک بہا رہی تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر بڑے بڑے پتھر دل بھی آنسو ضبط نہ کر سکے ہوں گے۔
سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ بانی کی آنکھ میں تکلیف نومبر سے ہے لیکن حکومت اس پر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اگر بروقت آنکھ کا علاج کرا دیا جاتا تو مسئلہ اتنا نہ بڑھتا لیکن حکومت نے جنوری میں اس مسئلے پر توجہ دی ہے جس کی وجہ سے بانی کی آنکھ ضائع ہو گئی ہے۔
دنیا میں کوئی بھی انسان تکلیف میں مبتلا ہو،جو بھی سنتا ہے اسے دکھ ضرور ہوتا ہے اور جب تکلیف میں مبتلا ہونے والا ہو بھی کوئی اہم شخصیت تو پھر ہر کسی کا تشویش میں مبتلا ہونا فطری امر ہے۔ پھر یہ تکلیف بھی قید کے دوران پیدا ہوئی ہو تو ہزاروں طرح کے وسوسے بھی ذہن میں آتے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس تکلیف کو بیان بھی بڑھا چڑھا کر کیا جائے۔ یوں تو سیاست سے تعلق رکھنے والے کم و بیش سبھی لوگ خود پر گزرنے والے مشکل لمحات کو بیان کرنے میں ہمیشہ مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں لیکن اڈیالہ کے قیدی کا حواری طبقہ اس فن میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ وہ اس قدر اعتماد کے ساتھ اپنا مدعا بیان کرتے ہیں کہ سننے والا ایک بار تو ان پر یقین کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
خود ہمارا یہ حال تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی حمایت میں ایک زور دار کالم لکھنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ چند سطور لکھ بھی لیں لیکن پھر یہ سوچ کر ارادہ موخر کر دیا کہ پہلے اس اونٹ کو کسی کروٹ بیٹھ لینے دیا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ بانی کو رہا کر کے بیرون ملک علاج کے لیے بھیج ہی دیا جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ باتیں صرف مبالغہ آرائی ہی ہوں۔ وہ تو بھلا ہو حکومتی رہنماو¿ں کا کہ انھوں نے صورت حال کو واضح کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
پہلے پہل تو حکومت بھی آنکھ کے معاملے پر کچھ دباو¿ کا شکار نظر آئی اور قریب تھا کہ اس بنیاد پر بانی پی ٹی آئی کی رہائی بھی عمل میں آ جاتی کیونکہ بانی کے حامیوں نے ماحول ہی ایسا بنا دیا تھا۔ ہر حکومتی رہنما یہی بات کہہ رہا تھا کہ بانی کو بہترین علاج مہیا کیا جائے گا۔ اسی دوران میں کچھ حکومتی رہنماو¿ں کی طرف سے یہ بات کہی جانے لگی کہ بانی کی آنکھ میں اکتوبر یا نومبر کے دوران کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ ان کی بہن عظمیٰ خان کی دو دسمبر کو ان سے ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد عظمیٰ خان نے بہت سی باتیں کی تھیں جن میں سیاسی مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا گیا تھا لیکن بانی کی صحت کو بالکل ٹھیک قرار دیا گیا تھا۔ عظمیٰ خان کی گفتگو میں آنکھ کی خرابی کا کوئی ذکر نہیں۔ اگر اکتوبر یا نومبر میں آنکھ میں خرابی پیدا ہوئی ہوتی تو عظمیٰ خان اس کا ذکر ضرور کرتیں۔
حکومتی رہنماو¿ں کی یہ بات درست تھی۔ عظمیٰ خان نے بانی پی ٹی آئی سے دو دسمبر کو ہونے والی ملاقات میں آنکھ کی خرابی کا واقعی کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ یہ وہی گفتگو تھی جس کے بعد بانی پی ٹی آئی کو مقتدر حلقوں کی طرف سے ذہنی مریض بھی قرار دیا گیا تھا۔ حکومتی رہنماو¿ں کی طرف سے یہ بات سامنے آنے کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کی غلط بیانی عیاں ہو گئی جس سے بانی کی رہائی کے لیے گرم کیا جانے والا ماحول ٹھنڈا پڑنے لگا۔ اسی دوران ڈاکٹروں کی ٹیم اڈیالہ جیل گئی اور بانی کی آنکھ کا معائنہ کیا۔ اس ٹیم نے رپورٹ دی کہ بانی کی بینائی پہلے سے بہت بہتر ہے۔ اب انھیں دیوار پر نصب گھڑی کی سوئیاں بھی نظر آ رہی ہیں۔
اسی دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج میں خود ان کی بہن علیمہ خان رکاوٹ بنیں اور اس معاملے پر سیاست کی۔ وہ اس معاملے کو کیش کرانا چاہتی تھیں، ان کی وجہ سے تین دن تک بانی پی ٹی آئی کا چیک اپ نہ ہو سکا۔ وہ اپنی پارٹی کے لوگوں سے کہتی تھیں کہ اگر حکومت کی بات مان لی تو معاملہ ختم ہو جائے گا جبکہ پی ٹی آئی کی باقی قیادت بانی کے علاج معالجے سے مطمئن تھی۔
یہ بات باعث اطمینان ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ اب ٹھیک ہے اور جیل میں ان کی صحت بھی اچھی ہے۔ انھیں جیل میں دیئے جانے والے کھانے کا مینیو بھی منظر عام پر آ چکا ہے اور یہ جان کر خوشی ہوئی کہ انھیں قید میں جو خوراک مل رہی ہے ویسی خوارک تو بہت سے آزاد لوگوں کو بھی میسر نہیں۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ پی ٹی آئی نے سائفر کی طرح بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے معاملے پر بھی اپنا روایتی وتیرہ اپناتے ہوئے بس چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے ہی کی ایک اور کوشش کی تھی جو ہمیشہ کی طرح ناکامی سے دوچار ہوئی۔