Wed, September 16, 2026

ہمہ گیر قدرتی آفات، ذمہ دار کون؟

ہمہ گیر قدرتی آفات، ذمہ دار کون؟

پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے خوفناک نتائج کا شکار ہو چکا ہے، ویسے تو کرہ ارض ہی موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں آ چکا ہے۔ صنعتی تعمیر و ترقی ہو یا قدرتی ذرائع سے حاصل کردہ توانائی کے ذرائع کا استعمال، فوسل فیول کا استعمال اور ایسے ہی دیگر ذرائع کی دریافت نے ایک طرف انسان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فاصلے سمٹ چکے ہیں، حرکت اور زندگی کی رفتار تیز ہو چکی ہے۔ انسان تہذیب یافتہ ہو گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس تہذیب یافتگی کی قیمت فضا کے گرمائو اور موسمیاتی تبدیلیوں کی شکل میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ عالمی گرمائو کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث گلیشئر پگھل رہے ہیں۔ سطح سمندر بڑھ، بارشیں زیادہ ہو رہی ہیں۔ طوفان اٹھ رہے ہیں۔ سیلاب آ رہے ہیں، تباہی و بربادی کا دائرہ کار پھیلتا جا رہا ہے۔ ان معاملات میں کسی ملک و قوم کو استثنا حاصل نہیں ہے۔ امریکی ریاستیں ہوں یا کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک، پاکستان و ہندوستان جیسے ممالک، ایشیا ہو یا یورپ سب عالمی گرمائو کے باعث موسمیاتی تبدیلی کے خوفناک منفی اثرات و نتائج کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں بلکہ تدریجاً ہوا ہے۔ ہم نے مل جل کر فضائی آلودگی کو فروغ دیا ہے۔ قدرتی ماحول کا بیڑا غرق کیا ہے اور ہم ایسا مسلسل کر رہے ہیں۔ ہم نے مل جل کر فوسل فیول کے استعمال، مسلسل استعمال کے باعث ہمارا ماحول، زمینی، ہوائی، فضائی اور سمندری ماحول سب خراب ہو رہا ہے بلکہ ہو گیا ہے۔ سورج کی روشنی میں شامل مضر صحت شعاعوں کو روکنے اور انسانوں کو بچانے والی اوزون کی تہہ بھی زخمی ہو چکی ہے۔ ہم نے قدرت کی طرف سے انسانوںکیلئے تخلیق کردہ صحت مند ماحول کو خراب کیا ہے، مضر صحت بنا دیا ہے۔ 
پاکستان فی الوقت عالمی گرمائو، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے انتہائی منفی اثرات و نتائج کا شکار ہو چکا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں ہمارا اوڑھنا بچھونا بنتا چلا جا رہا ہے۔ بارشیں، سیلاب، خوفناک بارشیں، خوفناک سیلاب، فضائی آلودگی و سموگ ہماری زندگیوں پر غالب آگئے ہیں۔ بے وقت بارشیں اور خوب بارشیں آگے بڑھتے بڑھتے کلائوڈ برسٹنگ یعنی ’’بادل پھٹنے‘‘ جیسے انتہائی معاملات تک پہنچ گئی ہیں۔ خوفناک تباہی کا دور دورہ ہے۔ ویسے تو ایسی صورتحال پورے پاکستان میں دیکھی جا سکتی ہے لیکن کے پی بالخصوص اس کا شکار ہو چکا ہے۔ وہاں قیامت صغریٰ مچی ہوئی ہے۔ طوفانی بارشیں، سیلاب، تباہ کن طغیانی، کے پی کو لپیٹ میں لے چکی ہے۔ شانگلہ، بونیر، مانسہرہ اور باجوڑ آفت زدگی کا شکار ہیں، مکانات تباہ ہو گئے ہیں، مواصلاتی نظام برباد ہو گیا ہے، درجنوں نہیں سیکڑوں انسان اپنی اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ایک اور بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ ہم یعنی کے پی حکومت ایسے ہنگامی حالات سے نمٹنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ وہاں نہ تو وسائل ہیں اور نہ ہی ایسا نظام جو ایسے معاملات کو مربوط انداز میں نمٹ سکے۔ سیاسی قیادت بھی نااہل ہے۔ ہمارے پرائم منسٹر بھی فعال ہو گئے ہیںکہ کے پی کے عوام کی مشکلات سے کیسے نکالا جائے۔ فوج عملاً میدان میں اتر چکی ہے، اس کے باوجود حالات قابو میں نہیں آرہے ہیں۔ تباہی و بربادی ہے کہ پھیلتی چلی جا رہی ہے۔
لاہور، راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ پی ڈی ایم اے الرٹ ہو گیا ہے۔ دیگر اداروں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ کے پی میں تباہی مچانے والی بارشیں اب پنجاب کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ 23اگست سے 10ستمبر تک بارشوں کا ایک اور سپیل آئے گا جس میں بارشوں کی شدت 50فیصد زیادہ ہو گی پھر ہم سوچ سکتے ہیں کہ کیا ہو گا۔ تباہی و بربادی اور پھیلے گی، کہا جا رہا ہے کہ مون سون کے تین سپیل اور آئیں گے، ان سے جو تباہی و بربادی پھیلے گی اس کا تصور کر کے ہی ہول اٹھتا ہے لیکن ہم کچھ بھی کرنے کے لائق نہیں ہیں۔ ہم نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کا بھی بندوبست نہیں کیا ہے۔ ہم فضائی آلودگی کے آگے بھی کسی قسم کا بند باندھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ ہم کسی قدرتی آفت سے نمٹنے کے لئے پلاننگ کرنے میں بھی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ ہم صرف فائر فائٹنگ ہی کرتے رہے ہیں اور اب بھی ایسا ہی کر رہے ہیں اور وہ بھی مربوط نہیں ہے۔ ہمارا سیاسی عدم استحکام، کسی مؤثر اور مربوط پالیسی سازی کی راہ میں حائل رہا ہے اور سیاسی 
منافرت مربوط انداز میں آفت سے نمٹنے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتی رہتی ہے اور اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ویسے تو وزیراعظم نے گورنر اور وزیراعلیٰ کے پی کو فون کر کے ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی گنڈا پور کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے لیکن یہ سب کچھ کافی نہیں ہے۔ آفت کا حجم اس سب سے کہیں زیادہ 
ہے۔ تباہی و بربادی بہت وسیع ہے۔ گنڈا پور کی نالائقی، نااہلی اور بے وقوفیاں مل جل کر تباہی کو مہمیز دے رہی ہیں۔ یہ تباہی و بربادی کے لمحات گزر رہے ہیں، گزر جائیں گے، ہم سب کچھ بھول جائیں گے۔ ہم پہلے کی طرح فضا کو آلودہ کرنے میں لگ جائیں گے۔ ہم دریائوں کی گزرگاہوں پر ہوٹل، پلازے اور مکانات بنانے میں لگ جائیں گے۔ دریائے سوات میں حالیہ طغیانی نے جو تباہی مچائی تھی، اس میں ایک ہوٹل بھی تباہ ہوا۔ اس ہوٹل کے بارے میں پتہ چلا کہ یہ حکمران جماعت کے ایک لیڈر کا تھا اور ناجائز طور پر تعمیر کیا گیا تھا یعنی یہ تجاوزات کی مد میں آتا تھا۔ اس سے بھی زیادہ خوفناک معلومات یہ ہیں کہ یہ تیسری مرتبہ تعمیر کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے دو مرتبہ یہ ہوٹل تباہ ہوا تھا، معلوم نہیں اس سے پہلے اس کے مالکان کون تھے اور کن لوگوں نے تعمیر کیا تھا۔ یہ سب ہمارے نظام کی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ کمزوریاں اب ایک ہیبت ناک تباہی کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ ہم نہ صرف بے بس نظر آ رہے ہیں بلکہ مجرمانہ حد تک غفلت کا شکار بھی ہیں۔ ہماری سرکاری مشینری، پلاننگ کرنے والے ادارے اور ان پر عمل درآمد کرانے والے اہلکاروں کے بارے میں کیا کہیں۔ پورم قوم کئی بار دیکھ چکی ہے اور اب بھی دیکھ رہی ہے۔ یہ لوگ رج کے نالائق، کرپٹ اور بدنیت ہیں۔ سفارشی کلچر نے نالائقوں کی چاندی کر رکھی ہے۔ سیاسی عدم استحکام نے کرپشن کو فروغ دیا ہے۔ کسی بازپرس کے نظام کی عدم موجودگی میں کرپشن فروغ پا رہی ہے اور پھر ان سب حکمرانوں اور ان سے جڑے اہلکاروں کی بدنیتی نے ملک کو اس جگہ پہنچا دیا ہے جہاں غربت فروغ پا رہی ہے۔ عام آدمی کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ اربوں کھربوں کے قرضے، امداد، گرانٹ نجانے کہاں چلے جاتے ہیں۔ عام آدمی کی دن بہ دن مشکلات بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ ٹیکسوں کی بھرمار نے عام آدمی کو پریشان کر رکھا ہے۔ رہی سہی کسر بجلی، گیس اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے نکال دی ہے۔ اس پر قدرتی آفات کی آمد اور ہمہ گیر تباہی نے عامۃ الناس کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اللہ ہی خیر کرے تو کرے ہم نے تو کچھ نہ کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

ٹیگز: