Wed, September 16, 2026

قدرتی آفات اور انتظام کاری!!

قدرتی آفات اور انتظام کاری!!

اللہ پاک ہم پر رحم فرمائے۔ گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے پاکستان کے مختلف صوبے اور علاقے قدرتی آفات کی زد میں ہیں۔ کہیں بادل پھٹ رہے ہیں۔ کہیں تودے گر رہے ہیں۔کہیں موسلادھار بارشیں ہیں۔ کہیں سیلاب کے نتیجے میں آنے والی تباہی سے لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں ۔ کہیں املاک تباہ ہو رہی ہیں۔ کہیں مویشی ہلاک ہو رہے ہیں۔ سینکڑوں ، ہزاروںدیہات سیلاب کا نشانہ بن چکے ہیں، جن سے ہمارا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ سال 2022 کے بعد یہ سب سے زیادہ تباہ کن قدرتی آفت ہے جس کا مون سون کی شکل میں ہمیں سامنا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اعداد و شمار دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ جون سے اب تک کم وبیش 819 شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ 1100 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔8658 مکان کلی اور جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں جبکہ6138 مویشی اس آفت کی زد میں آئے ہیں۔دکھ کی بات یہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان اعداد و شمار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس آفت کی سب سے کڑی زد صوبہ خیبر پختونخواہ پر پڑی ہے۔ یہاں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ سب سے زیادہ اموات (479) بھی خیبر پختونخواہ میں ہوئی ہیں اور اس کے بعد پنجاب(182) میں ۔
پہلے ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر گلگت  بلتستان اور خیبر پختونخواہ  وغیرہ میں تباہی کے مناظر دیکھ کر دل دکھی ہو رہا تھا۔ آج کل صوبہ پنجاب میں سیلاب کے مناظر نظر آرہے ہیں۔پنجاب میں پہلے تسلسل سے برسنے والی مون سون کی بارشوں نے تینوں دریاوں میں سیلابی کیفیت پیدا کی ہوئی تھی۔ رہی سہی کسرہمسایہ ملک بھارت کی جانب سے چھوڑے جانے والے پانی نے پوری کر دی ہے۔جن علاقوں میں پانی نے یلغار کی ہے وہاں کے رہائشی نہایت مشکل میں ہیں۔ ہنگامی صورتحال پر قابو پانے اور امدادی کاروائیوں میں مدد کیلئے حکومت پنجاب نے پنجاب کے چھ اضلاع میں فوج طلب کر لی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ انتہائی درجے کے سیلاب کے خطرے کے پیش نظر، اب تک دس لاکھ افراد اور 73 ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ مزیدمشکل یہ ہے کہ محکمہ موسمیات نے مزید بارشو ں کی پیشن گوئی کر رکھی ہے۔ پنجاب، خیبر پختونخواہ، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت  بلتستان میں تیز بارشیں متوقع ہیں۔ یعنی آنے والے دنوں میں ان علاقوں میں بسنے والوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔بس اللہ پاک سے رحم کی دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ 
اس وقت ہم جس صورتحال سے دوچار ہیں یہ یقینا ایک قدرتی آفت ہے ۔ قدرت کے آگے انسان یقینا بے بس ہے۔ بہت سے ترقی یافتہ ممالک بھی جب قدرتی آفت کی زد میں آتے ہیں تو وہ بے بس ہو جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں امریکہ کے کچھ شہر بھی بارشوں کی وجہ سے پانی میں ڈوب گئے تھے۔ اس با ت کو ماننے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ ہماری حکومتیں اور متعلقہ ادارے اس آفت سے نمٹنے اور لوگوں کی جانیں بچانے کے لئے مقدور بھر کوششیں کر رہے ہیں۔تاہم ان حقائق سے قطع نظر، یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں وقت سے پہلے کسی آفت سے نمٹنے کی تیاری کرنے کی روایت نہیں ہے۔ ہماری حکومتیں اور متعلقہ ادارے کچھ نہ کچھ تیاری تو یقینا کرتے ہیں، لیکن مستقل مزاجی سے طویل المدت منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔ مثال کے طو ر پر بھارت نے ہمار ے دریاوں میں پانی چھوڑ دیا ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بھارت کا ہمارے ساتھ برسوں سے یہی رویہ ہے۔کیا ہم نے کبھی اس صورتحال کیلئے کوئی منصوبہ بندی کی ہے؟ یقینا نہیں۔ اسے المیہ ہی کہنا چاہیے کہ ایکطرف ہمیں پانی کی قلت کا رونا سننے کو ملتا ہے اور دوسری طرف پانی کی ایسی یلغار ہوتی ہے کہ وہ سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔ کئی عشرے گزرنے کے باوجود ہم ڈیموں اور آبی ذخائر کی تعمیر پر توجہ نہیں دے سکے۔ ا س میں کوئی شک نہیں کہ قدرتی آفت یکایک انسان پر نازل ہوتی ہے اور اسے اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ لیکن آج کل ٹیکنالوجی کی مدد سے ان آفات کا قبل از وقت اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بہت سے ماہرین قدرتی آفات کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کو انسانی کوتاہی سے تعبیر کرتے ہیں۔ان کا نقطہ نظر  ہے کہ بہتر انتظام کاری اور بروقت منصوبہ بندی کے ذریعے قدرتی آفات کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاری سے بچا جا سکتا ہے۔ مطلب یہ کہ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو یہ قدرت سے زیادہ خود انسان کا اپنا قصور ہے۔ میں ماحولیاتی امور کی ماہر نہیں ہوں۔ لہذا اس معاملے کے تکنیکی پہلووں سے لاعلم ہوں۔ تاہم ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو  ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو حکومت کو ماحولیاتی ماہرین کی مدد سے مستقبل میں ان تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کیلئے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ 
 ہم یہ بھی سنتے ہیں کہ جب ہم بغیر منصوبہ بندی کے شہروں کو توسیع دیں گے۔ غیر قانونی رہائشیں تعمیر کریں گے۔ تو لا محالہ قدرتی ندی نالوں کے راستے رک جائیں گے۔ دوسرے لفظوں میں پانی کے بہاو میں رکاوٹ آئے گی۔ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ درختوں اور جنگلات کی کٹائی بھی سیلاب کی ایک وجہ ہے، جنگلات کی کٹائی سے زمین کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔ جس سے سیلاب کے پانی کا بہاو تیز ہو جاتا ہے۔ نکاسی آب کا ناقص نظام کو بھی سیلاب کی ایک وجہ گردانا جاتاہے۔ مطلب یہ کہ سیلاب کو روکنے کے لئے ہم بہتر منصوبہ بندی اور انتظام کاری کر سکتے ہیں، جنگلات کی حفاظت کر کے، ڈیم بنا کر، نکاسی آب کو بہتر بنا کر ہم سیلاب سے جڑے بہت سے عوامل پر قابو پا سکتے ہیں۔ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کی شدت کو کم کر سکتے ہیں۔ اگر ہم ایسا نہیں کر رہے تو یقینا یہ ہماری غفلت ہے۔  
میرے اور آپ کے لئے ایک نصیحت یہ ہے کہ حکومتوں کو کوسنے دینے اور سوشل میڈیا پر محض تنقیدی پوسٹیں شیئر کرنے سے مسائل کو کم نہیں کیا جا سکتا۔  لازم ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم اپنا چھوٹا موٹا حصہ ڈالیں۔ایک تو ہمیں سیلاب کو تفریح سمجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ جو اللہ کے فضل سے محفوظ ہیں وہ سیلاب کا نظارہ کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ان اللہ کے بندوں کو سمجھنا چاہیے کہ یہ کوئی تفریح کا محل نہیں ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ اگر ہمارے پاس فالتو وقت ہے تو ہم رضاکارانہ سرگرمیوں میں اپنا حصہ ڈالیں۔ بالکل اسی طرح ہمیں ان لوگوں کی مالی مدد کرنی چاہیے جن کے مکانات وغیرہ سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں۔ اندازہ کیجئے کہ یہ صرف مکان نہیں تھا۔ کسی کا گھر تھا۔ کسی کی ساری زندگی اور اسکا سکون تھا۔ بس اللہ پاک ہم سب کوآفات سے محفوظ رکھے اور آفت زدگان کی مدد کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

ٹیگز: