Wed, September 16, 2026

پاک فوج، قدرتی آفات میں عوام کی مسیحا

پاک فوج، قدرتی آفات میں عوام کی مسیحا

قدرتی آفات میں طوفان نوح کو مثال کر پیش کیا جاتا ہے، اور تشبیہ اس چیز کی دی جاتی ہے جو بڑی ہو، کچھ سال بعد وطن عزیز میں آنے والے سیلابوں کو بھی دنیا میں مثال دے کر بطور سبق پیش کیا جائے گا کہ فلاں ملک مسلسل سیلاب جیسی آفت کی زد میں آتا رہا، تو دوسری جانب اس مشکل گھڑی میں بھی جن اداروں نے عوام کی تکلیفوں کو کم کرنے میں اپنا فعال کر ادا کیا اس ادارے کو بھی بطور رول ماڈل پیش کیا جائے گا، وہ ادارہ ہے افواج پاکستان۔ ہر دور میں دیگر سرکاری و نجی اداروں نے اپنا کردار ادا کیا لیکن جو کام دلجوئی سے فوج کے نوجوانوں نے کیا اس کا موازنہ صرف اسی ادارے سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 1585ء میں بنگال میں سیلاب آیا لاکھوں لوگ بے رحم موجوں کی نذر ہو گئے، 100 سال بعد پھر کلکتہ میں تین لاکھ افراد سونامی کی نذر ہوئے، موہنجو داڑو اور ہڑپا کی تہذیبوں کو بھی سیلابی ریلوں نے برباد کیا، وطن عزیز معرض وجود میں آنے کے بعد دریائے سندھ میں پہلا سیلاب 1956ء میں آیا بعد ازاں 1976، 1986اور 1992 ء میں سیلاب آئے لیکن تب بھی کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر پانی کا اخراج نو لاکھ کیوسک سے تجاوز نہیں کیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ 2010ء میں آنے والا سیلاب اس لحاظ سے زیادہ خطرناک تھا کیونکہ اس وقت پانی کا اخراج 10 لاکھ کیوسک سے بڑھ گیا تھا۔ عالمی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 1950ء سے 2010 ء تک پاکستان میں آنے والے سیلابوں سے تقریباً آٹھ ہزار سے زائد لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ جبکہ ایک لاکھ نو ہزار سے زائد دیہاتوں کو جزوی یا کلی طور پر نقصان اٹھانا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق تقریبا ًایک کروڑ 40 لاکھ ملین ہیکٹر پر کھڑی فصلیں پانی برد ہوئیں، اس وقت ماہرین نے سیلاب سے پاکستانی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 19 ارب ڈالر لگایا۔ وزارتِ خزانہ نے اپنی ویب سائٹ پر جو اعداد و شمار جاری کئے اس کے مطابق 2010ء کا سیلاب 17 سو قیمتی جانی نگل گیا۔ جبکہ ملک کے کل رقبے کا 20 فیصد اور کم و بیش دو کروڑ لوگ متاثر ہوئے تھے۔ تقریباً 11 لاکھ گھر مکمل تباہ ہونے کی تفصیل موجود ہے۔ 50 لاکھ سے زائد جانور ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے سیلاب سے پاکستان کو 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ اس وقت کی موسمیاتی تبدیلی کی وفاقی وزیر شیری رحمن کے مطابق پاکستان کے 150  اضلاع میں سیلاب سے 110 اضلاع متاثر ہوئے۔ دل دہلا دینے والا سلسلہ رکا نہیں 2014، 2020 اور 2022ء میں آنے والے سیلابوں نے بھی بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2022 ء کے سیلاب میں تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد بے رحم موجوں سے متاثر ہوئے اور 1700 سے زیادہ جان سے گئے۔ کھڑی فصلوں کا 40 فیصد سے زیادہ حصہ تباہ ہوا، مویشیوں کی لاکھوں کی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں، 2022ء کے سیلاب میں بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ تھا پاک فوج نے وہاں تمام سہولتیں فراہم کی اور بحالی کرائی۔ یہ تباہی کا سلسلہ تھما نہیں تھا کہ اگست 2025ء میں پھر دریا بپھر گئے، بھارت نے اس تباہی میں پورا کردار ادا کیا اور ثبوت دیا کہ وہ ایک گھٹیا دشمن ہے۔ اب کی بار بھی پاک فوج نے اپنی عوام سے محبت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے تمام وسائل حاضر کر دئیے اور اگست 2025 ء میں ریسکیو اور امدادی خدمات انجام دی ہیں، سیلاب کے دوران پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں کئی جہتوں پر محیط ہوتی ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ 19 انفنٹری، 7 انجینئر اور 4 میڈیکل یونٹس تعینات کیے گئے، 28000 افراد کو ریسکیو کیا گیا، 29 میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے، 26 ہوائی سورٹیز مکمل ہوئیں، متعدد پل کی مرمت اور 104 راستے صاف کیے گئے۔ گوجرانوالا میں 6 انفنٹری اور 2 انجینئر یونٹس نے 6000 افراد کو بچایا گیا، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں ریسکیو آپریشنز میں 8 انفنٹری اور 8 فرنٹیئر کانسٹیبلری یونٹس سرگرم تھے، جنہوں نے تقریباً 6903 افراد کو ریسکیو کیا اور 6300 سے زائد افراد کو طبی امداد فراہم کی۔ 1793 ٹن راشن اور 277 ٹن دیگر اشیا تقسیم کی گئیں، اب تک تقریباً 770,000 ادویات متاثرین تک پہنچائی جا چکی ہیں۔ یہ مذکورہ بالا تفصیلات اور اعداد شمار ایک سیلاب میں کی گئی کارروائی کے ہیں جو واضح کرتا ہے کہ معرکہ حق ہو یا دشمن کی آبی جارحیت اس ادارے نے کبھی بھی اپنی قوم کو مایوس نہیں ہونے دیا۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ حکومت، سول ادارے اور فوج مل کر ایک منظم حکمت عملی ترتیب دیں تاکہ مستقبل میں آنے والے سیلابوں سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے اور عوام کے قیمتی جان و مال کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔

ٹیگز: