ہمارے مسائل ستر سال سے مسائل اس لیے بھی ہیں کہ ہمیں اچھے ہی مسائل لگتے ہیں۔مسائل حل کرنے والے کو اس معاشرے میں وہ پذیرائی ہی نہیں دی جاتی ۔وجہ ؟ وجہ یہ کہ ہم نے مسائل کو سیاست اور ووٹ سے مشروط کررکھا ہے۔ہمارا ہیرو وہ ہے جو مسائل گن گن کر ہمیں بتائے اور ہم کہیں واہ واہ یہی تو اصل بندہ ہے جس کو ہمارے مسائل کا سب معلوم ہے ۔ووٹ یہاں پرفارمنس اور کارکردگی پر نہیں اوٹ پٹانگ بیانیوں پر دیئے جاتے ہیں۔اچھے خاصے اہم کام پر سیاست شروع کرکے اس کو متنازع بنانا تو ہمارا فل ٹائم شغل بن گیا ہے۔
معاشرتی علوم کی کتابوں سے لے کر سیاستدانوں کی تقریروں تک ہمیں یہی پڑھایا اور سنایاجاتا رہا ہے کہ ہمارے ملک میں معدنیات کے خزانے دفن ہیں ۔لیکن یہاں سونے چاندی سے لے کر یاقوت،مرجان اور ہیرے جواہرات تک جو کچھ بھی اس ملک میں ہے وہ ہم نے باہر سے امپورٹ ہی کیا ہے ۔یہ معدنیات کے خزانے ہماری سیاست کے مستقل نعرے ہیں لیکن جب بھی ان کی دریافت اور نکالنے کے لیے کوئی عملی کام ہونے لگاتو اس پر ٹھیک ٹھاک تنازع کھڑا کردیا گیا ۔اگر اب تک کچھ نکالنے کے قابل ہوئے ہیں تو وہ کوئلہ ہی ہے۔سنتے چلے آئے ہیں سیندک میں بڑے معدنیات کے ذخائرہیں تو ریکوڈک والا حادثہ تو ہماری اپنی آنکھوں کے سامنے ہواہے جب حکومت نے یہ ہمت کی کہ یہاں سے سونانکالنے کا پراجیکٹ بیرک گولڈ نامی کمپنی کو دے دیا جائے تاکہ ملک کا بھلا ہوجائے ۔ہمیں کچھ بیرونی سرمایہ مل جائے لیکن وہاں فوری طورپر’’مسائل مارکہ ‘‘سیاست شروع ہوگئی اور پیاری عدلیہ جس نے ملک میں انصاف کابول کرنے کا حلف اٹھارکھا ہے اس کے سرخیل افتخار چودھری نے اس پراجیکٹ کو قومی مفاد کے خلاف قراردے کر معاہدے منسوخ کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا۔اس کے بعد ہم نے جس طرح ناک سے لکیریں اور منہ سے گانٹھیں کھول کر دوبارہ وہ کام اسی کمپنی کو دیا ہے وہ ہم ہی جانتے ہیں ۔ اس کمپنی کے سی ای او نے کہاہے ہے وہاں 70ارب ڈالر کا سونا ہے ۔اللہ کرے کہ یہ سونا دھرتی کے سینے سے باہر آئے اور فائدہ پاکستان کو ملے۔
شہبازحکومت نے پاکستان میں پائی جانے والی معدنیات کی بین الاقوامی اہمیت کے پیش نظر اس خزانے کو قومی خزانے میں شامل کرنے کا سوچا تو یہاں ایک بار پھر وہ ’’مسائل مارکہ‘‘گروہ سیاسی ’’پھریرا‘‘لے کر اٹھ کھرا ہوا اور اسلام آباد میں منعقدہ معدنیات فورم کو امریکا بہادرکی پاکستان سے معدنیات لوٹنے کی سازش قراردے کر سوشل میڈیا کا ڈھول پیٹنا شروع کردیا۔کمال کے لوگ ٹھہرے کہ ایک طرف تسلیم کررہے ہیں کہ معدنیا ت کی تلاش اور ان کو دھرتی کے نیچے سے اوپر لانے کا کام انتہائی کٹھن ہے جس کی صلاحیت پاکستان جیسے ملک کے پاس نہیں ہے ۔اس کو نکالنے کے لیے کسی بڑی کمپنی سے معاہدہ ہی ضروری ہے لیکن دوسری طرف جب حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کوملک میں بلاتی ہے ۔ان معدنیات پر کوئی قانون سازی کی طرف جاتی ہے تو اس کو سازش بنادیا جاتا ہے۔
خیبرپختونخوا میں معدنیات پر قانون سازی کا آغاز ہوا تو ان کی اپنی پارٹی کے لوگوں نے ہی اس کے خلاف وبال کھڑا کردیا۔ اپنی حکومت کو ایسے کٹہرے میں پہنچادیا جیسے وہ کسی قومی مفاد کا سودا کرنے لگے ہوں۔ مزے کی بات یہ بھی ٹھہری کہ اس بل پر واویلا ان لوگوں نے شروع کیا جن کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے اور نہ ہی وہ اس ملک میں کہیں موجود ہیں۔ کسی نے اس بل کو عمران خان صاحب کی جیل سے رہائی کی کنجی قراردیا تو کسی نے جناب عمران خان صاحب کو طویل عرصہ جیل میں رکھنے کا بہانہ بتادیا۔کوئی تو اتنی دورکی کوڑی لے آیا کہ تھوڑا سا دور اور چلاجاتا تو ہیرے کی کان تک پہنچ کر تمام معدنیات کا خود مشاہدہ کرسکتا تھا۔کہا گیا کہ خیبرپختونخوا کی معدنیات امریکا کو مفت دے کر ان کے بدلے عمران خان کو طویل عرصہ جیل میں رکھا جائے گا ۔۔بھائی اتنی دانشوری وہی کرسکتے ہیں۔
میں عام طورپرقانون سازی کے ڈرافٹ بل تفصیل سے نہیں پڑھتا ۔عمومی طورپر مرکزی نکات دیکھ لیتا ہوں لیکن خیبرپختونخوا کا معدنیات کا ڈرافٹ بل میں نے پورا پڑھا۔یہ 139صفحات کا ایک شاندار قانونی ڈرافٹ ہے۔پہلے صفحے سے آخری تک کسی بھی جگہ مجھے وہ سازشیں ، وہ خدشات اور تشویش نہیں ملی جو اس بل کو لے کر پھیلائی گئی ۔میرے خیال میں جتنا تفصیلی قانون وزیراعلیٰ علی امین اور ان کی کابینہ نے ڈرافٹ کیا ہے اس سے زیادہ بہتر اور تفصیلی قانون سازی معدنیات کے لیے شاید ممکن ہی نہیں ہے۔اس بل میں کسی بھی جگہ یہ شق موجود نہیں کہ خیبرپختونخوا کی معدنیات پر وفاق یا کسی اور ادارے کا حق ہوجائے گا یا وفاق معدنیات میں کسی طرح کی مداخلت کرسکے گا۔پورے بل میں اول آخر صوبے کی معدنیات پر صوبے کے عوام کا حق تسلیم کیا گیا ہے ۔ اس بل پر شک کی گرد ڈالنے والے خیبرپختونخوا کے عوام کی ترقی کے دشمن ہیں۔
خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لیے کان کنی اس وقت بھی ہورہی ہے اور کئی ایک قیمتی کانوں پر قبضے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ اس بل کی مخالفت وہ عناصر بھی کررہے ہیں جن کی موجیں لگی ہوئی ہیں غیرقانونی کان کنی میں کیونکہ اس بل میں غیرقانونی کان کنی پر مکمل پابندی،اس شعبے کے لیے ایک مکمل الگ اور بااختیار فورس کا قیام بھی شامل ہے۔اس قانون میں یہ بھی طے کردیا گیا ہے کہ صوبہ اپنی مرضی سے بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کو اس شعبے کے لیے راغب کرسکتا ہے۔ معدنیات میں سرمایہ کاری لاسکتا ہے اس کام کے لیے اسی قانون میں سرمایہ کاری کونسل کا قیام شامل ہے۔یہاں تک کہ معدنیات کی تعریف۔اس کی کھدائی کے لیے لائسنس کیسے دیا جائے۔کس کو دیا جائے،کتنے عرصے کے لیے دیا جائے ،کتنی فیس رکھی جائے یہ سب کچھ طے کردیا گیا ہے۔اس کام کے لیے شفاف بولی ہوگی اور ایک ’’بڈنگ اتھارٹی‘‘ قائم کی جائے گی ۔
اس ڈرافٹ قانون کو پڑھ کر میں سوچتا رہا ،سمجھنے کی کوشش کرتا رہا کہ اس میں خرابی کہاں ہے۔کون سے لوگ ہیں جو نہیں چاہتے کہ خیبرپختونخوا کی معدنیات اس صوبے کے عوام کے کام آجائیں۔ کون ہے جو اس صوبے کے عوام کو ترقی کی بجائے صرف نعرے اور جذباتی بیانیوں پر ہی رکھ کر ان کا استحصال کرنا چاہتا ہے۔کون ہے جو معدنیات کے قانون کو لے کر آرمی چیف سید عاصم منیر کیخلاف پروپیگنڈا کرنا چاہتا ہے۔ میں اس پورے بل میں سے وفاق اور پاک فوج کا مفاد تلاش کرتا رہا لیکن جب بھی مفاد کی بات آتی تھی تو مجھے اس میں خیبرپختونخوا کا مفاد ہی دکھائی دیا اور خیبرپختونخوا کا مفاد اس ملک پاکستان کا مفاد ہے۔لیکن ہمیں مسائل سے ہی پیار ہے تو ہم نے اس بل کو متنازع بناکر اس کو کھڈے لائن لگادیا ہے تو موج کریں!!