اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ججز کے تبادلے اور سینیارٹی کے معاملے پر فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ ججز کے تبادلوں میں کوئی غیر آئینی چیز نہیں، یہ سب قانون کے مطابق ہوئے ہیں۔
یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز نے تین ججز کے تبادلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ تبادلے پانے والے ججز میں جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس محمد آصف اور جسٹس خادم حسین سومرو شامل ہیں، جنہیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں لگایا گیا تھا۔
درخواست گزار ججز میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس سردار اعجاز اسحاق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل تھے۔ ان ججز کا مؤقف تھا کہ تبادلوں میں سینیارٹی کے اصول کو نظر انداز کیا گیا۔
گزشتہ روز سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال اٹھایا تھا کہ "چودہ ججز کو چھوڑ کر پندرہویں نمبر والے جج کا تبادلہ کیوں کیا گیا؟" یہ سوال اس کیس کا اہم نکتہ بن گیا تھا۔
اس معاملے پر بانی تحریک انصاف اور کراچی بار نے بھی عدالت سے رجوع کیا تھا، جن کی درخواستیں بھی اسی کیس کے ساتھ سنی گئیں۔
سپریم کورٹ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا، اور عدالت نے واضح کر دیا کہ ججز کے تبادلے آئین کے خلاف نہیں ہیں۔