نتھو اور پھتو چوپال میں ایک دوسرے سے تلخ کلامی کر رہے تھے، انکی نوک جھونک جاری تھی کہ چپ سائیں چوپال میں آ گئے۔ چپ سائیں کو دیکھ کر دونوں چپ کر گئے۔۔۔ چپ سائیں جب خاموشی سے براجمان ہوگئے تو۔۔ بھائی رفیق بولے۔۔ سائیں جی آج آپ تمیز اور بدتہذیبی کے بارے میں بتائیں۔۔ اگر آپ نہ آتے تو نتھو اور پھتو دونوں اس لائن کو کراس کر جاتے اور پھر۔۔ بس۔۔۔ یہ کہتے کہتے رفیق چاچا چپ کر گئے۔۔۔ چپ سائیں نے کہا کہ چوپال کے بچوں آج ہم تہذیب اور بد تہذیبی کے بارے میں ہی بات کرتے ہیں۔ یہ دونوں عناصر ہمارے معاشرے میں نمایاں ہیں اور اس کے مثبت اور منفی اثرات ہیں۔
چپ سائیں توقف کے بعد بولے۔۔۔ بچوں انسانی تاریخ میں دو ہی طرح کے لوگ گزرے ہیں، ایک وہ جو ”تمیز“ کو گلے لگا کر دنیا سے رخصت ہو گئے اور دوسرے وہ جو ”بدتمیزی“ کے سہارے آج بھی اقتدار، سوشل میڈیا اور وی آئی پی لسٹوں پر قابض ہیں۔ بچوں تہذیب دراصل ایک ایسی ذہنی کیفیت کا نام ہے جہاں آپ کو یہ یاد رکھنا پڑتا ہے کہ زمین پر آپ کے علاوہ بھی کچھ ”جیتے جاگتے“ انسان موجود ہیں۔ مہذب ہونا آج کے دور میں ایک بڑا رسک ہے، اگر آپ کسی کو راستہ دے دیں، کسی کے لیے دروازہ کھول کر کھڑے ہو جائیں یا کسی کی بات آرام سے سن لیں، تو لوگ فوراً آپ کے بارے میں یہ رائے قائم کر لیتے ہیں کہ آپ ذہنی طور پر ”فارغ“ ہیں حالانکہ حقیقت تو اس کے برعکس ہوتی ہے یہ آپ کی تربیت ہوتی ہے جس وجہ سے آپ دوسروں کے لیے احتراماً جھک جاتے ہیں۔ خیر۔۔۔ اگر آپ کے لہجے میں کھرکھراہٹ نہیں، اگر آپ کی گفتگو میں دو چار ”بد تہذیبی“ والے الفاظ نہیں اور اگر آپ بات بات پر دوسروں کو نیچا دکھانے کا فن نہیں جانتے تو معذرت کے ساتھ، آپ اس جدید معاشرے میں ”ان فٹ“ ہیں اور لوگوں کی نظر ”بے وقوف“ ہیں۔ صاحبو! بدتہذیبی اب ایک ”فن“ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ٹریفک میں، ہارن بجانا اب ضرورت نہیں، موسیقی کا گمان ہے۔ پیچھے والا ہارن اس لیے نہیں بجاتا کہ آپ راستہ دیں، بلکہ اس لیے بجاتا ہے تاکہ آپ کو احساسِ جرم ہو کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ دفاتر میں، بدتہذیبی یہاں ”پاور“ کی علامت ہے۔سوشل میڈیا نے تو تہذیب کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ یہاں ہر شخص ”مدعی“ بھی ہے اور خود ہی ”منصف“ بھی ہے۔
ہمارے ہاں ایک عجیب المیہ ہے۔ پروٹوکول کے نام پر سڑکیں بند کرنا، سائرن بجا کر غریب کی سماعتیں پھاڑنا۔ یہ وہ بدتہذیبی ہے جسے ہم ”رعب“ کا نام دیتے ہیں۔ اگر ایک عام آدمی کسی کو دھکا دے تو وہ ”بدتمیز“ ہے، لیکن اگر وہی دھکا ایک گارڈ دے تو وہ ”ڈیوٹی“ ہے۔
چپ سائیں بات کرتے کرتے چپ کر گئے اور پانی کا اشارہ کیا۔۔۔ پھتو نے ان کو ایک گلاس پانی دیا اس کو چپ سائیںنے گھونٹ گھونٹ پیا۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد گویا ہوئے۔۔۔ دوستو! سچ تو یہ ہے کہ جس دن ہمیں یہ سمجھ آ گئی کہ ”دوسروں کو نیچا دکھا کر ہم خود اونچے نہیں ہو سکتے“، اس دن شاید تہذیب کا مردہ جسم پھر سے سانس لینے لگے اور بہت سے بگڑے ہوئے کام بننا شروع ہو جائیں۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ انسان اور جانور میں فرق ”تہذیب“ کا ہے، مگر موجودہ دور کی صورتحال دیکھ کر لگتا ہے کہ ازراہ تفنن جانوروں نے ہم پر ہتکِ عزت کا دعویٰ کر دینا ہے کہ ”بھائی! ہمیں اس بحث میں نہ گھسیٹو“۔
صاحبو! مہذب ہونا آج کل بہت مہنگا پڑتا ہے۔ اگر آپ کسی کو ”آپ“ کہیں تو وہ سمجھتا ہے کہ شاید آپ اس سے کوئی ادھار مانگنے والے ہیں، اور اگر آپ کسی کو راستہ دے دیں تو وہ آپ کو ایسی نظروں سے دیکھتا ہے جیسے آپ نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہو۔ آج کل بدتہذیبی کو ”اعتماد“ کا نام دے دیا گیا ہے۔ بدتہذیبی کی معراج دیکھنی ہو تو کسی وی آئی پی پروٹوکول کو دیکھ لیں، جہاں کالی شیشوں والی گاڑیاں آپ کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ ”ہم مہذب بننے کے لیے پیدا نہیں ہوئے“۔ آپ کسی کی پوسٹ پر جا کر اسے یہ احساس دلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ اس کا پیدا ہونا ہی دراصل ایک ”تکنیکی غلطی“ تھی۔ میرے چوپال کے بچوں تہذیب وہ بوجھ ہے جسے ہم دوسروں کے کندھوں پر دیکھنا پسند کرتے ہیں، جبکہ بدتہذیبی وہ پٹاخہ ہے جسے ہم خود چلا کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ ایک مہذب انسان وہ ہے جو کسی کی ”بھول“ پر اسے سب کے سامنے ”بیوقوف“ کہنے کے بجائے، اکیلے میں لے جا کر پیار سے سمجھائے کہ بھائی! اللہ نے عقل بانٹی تھی تو تم کدھر تھے۔ بدتہذیبی وہ ٹیلنٹ ہے جو ہمارے ہاں خون میں دوڑتا ہے۔ اس کے لیے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پرانے زمانے میں کچھ لوگ کہا کرتے تھے کہ بدتہذیبی تب شروع ہوتی ہے جب ہم ”آپ“ سے ”تم“ اور ”تم“ سے ”اوئے“ پر آ جاتے ہیں۔ تہذیب کہتی ہے کہ دروازے سے پہلے دوسرے کو گزرنے دو، جبکہ بدتہذیبی کہتی ہے کہ ”گھس جا¶! ورنہ یہ تم سے پہلے نمبر پر آ جائے گا“۔۔۔ خیر یہ بھی سوچ سوچ کی بات ہے۔ اگر سوچ نہیں سکتے، تو کم از کم مسکرا دیں، لوگ اسے بدتہذیبی کے بجائے ”پُراسرار شخصیت“ سمجھیں گے۔
چپ سائیں بولے۔۔۔ بھائی رفیق، نتھو اور پھتو۔۔۔ ہم تو نجانے تہذیب کو بھول کر بدتہذیبی کے سمندر میں گم ہو گئے ہیں اور۔۔ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود معاشرے میں اس طرح ظاہرکرتے ہیں کہ نجانے کیا طوفان آ جائے گا اور صبر، برداشت تو جیسے ختم ہی ہو گیا ہے۔ آخر میں بس بچو یہ یاد رکھو کہ تہذیب ایک ایسا زیور ہے جسے پہننے کے لیے کوئی خرچ نہیں کرنا پڑتا بلکہ بس زبان سنبھالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ رہے نام اللہ کا!