Wed, September 16, 2026

قانون، طاقت اور تہذیب

قانون، طاقت اور تہذیب


تہذیب اس دَور کو کہتے ہیں جس دَور میں طاقت قانون کے سامنے سر جھکانا سیکھ لیتی ہے۔ اگر طاقت خود کو قانون سے مبرا اور ماورا سمجھتی ہے یہ کسی شخص یا معاشرے کے غیر مہذب ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔ اگر کسی معاشرے میں چپ چاپ طاقت کا حکم تسلیم کر لیا جاتا ہے تو یہ معاشرہ، انسانی معاشرہ نہیں کہلا سکتا۔ ڈنڈے کے زور سے صرف مال دڈنگر کو چلایا جاتا ہے، معاشروں کو نہیں۔ معاشرہ ایک زندہ اور متحرک تشخص رکھتا ہے۔ جس طرح ایک انسانی بچے کو عہدِ طفولیت سے جوانی تک پہنچنے کے لیے خوراک کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت درکار ہوتی ہے، اسی طرح ایک انسانی معاشرہ بھی اپنی نمو کے لیے تربیت کا محتاج ہوتا ہے۔ وہی قوم تہذیب یافتہ کہلاتی ہے جو اپنے ہاں طاقت کو کسی قانون کے سامنے جوابدہ کر دیتی ہے۔ اگر طاقت اور صرف طاقت ہی قانون ٹھہرے تو ایسے شہروں سے جنگل بھلے.... ایسے میں موت زندگی سے زیادہ بھلی ہے.... زمین کی گود، زمین کی چھاتی سے زیادہ پرسکون معلوم ہوتی ہے۔ 
وہی قوم آزاد کہلاتی ہے جو جبر کا حکم ماننے سے اِنکار کر دیتی ہے۔ اگر آج کسی قوم نے اپنے ہاں کسی جابر کے حکم کے سامنے اپنی آزاد رائے کو سرنگوں کر دیا ہے تو کل کلاں کوئی بیرونی طاقت بھی ا±ن پر حکمران ہو جائے گی۔ زیادہ د±ور نہ جائیں، گزشتہ چند سَو برس کی تاریخ گواہ ہے ، مسلم خطے جابر حکمرانوں کے زیر تسلط تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بیرونی طالع آزما ان پر حکمران بن گئے۔ قوم کے خمیر میں غلامی کے بیج بو دیے گئے تھے، اسلام کے پیغامِ حریت سے انہیں بیگانہ کر دیا گیا تھا، ایسے میں یورپی ممالک کا ان پر آن قابض ہونا کچھ مشکل نہ تھا۔ وجہ صرف ٹیکنالوجی میں فرق نہیں تھا۔ غلام قومیں کی ٹیکنالوجی مستعار ہوتی ہے ، ا±ن کی ٹیکنالوجی کا بٹن غیرملکی آقاو¿ں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ بس یہ بات یاد رہے کہ اگر آپ اپنی پالیسیاں خود نہیں بنا سکتے تو آپ آزاد نہیں ہیں۔ اگر آپ کی معیشت غیرملکی قرضوں پر چل رہی ہے تو آپ بالکل بھی آزاد نہیں ہیں۔ ریموٹ کنڑول ایجاد ہونے سے بہت پہلے ریموٹ کنٹرول حکومتیں ایجاد ہو چکی تھیں۔ 
 آزادی اور غلامی اتفاقیہ واردات نہیں۔ اِن کی ایک پوری کیمسٹری ہے.... اِن کا اپنا اپنا الگ مزاج ہے۔ آزادی سوال پر اکساتی ہے، غلامی خاموش رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ غلامی سر جھکانے 
میں عافیت محسوس کرتی ہے.... آزادی سر کٹانے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ غلامی تحقیق نہیں کر سکتی ہے.... غلامی کوئی چیز ایجاد نہیں کر سکتی .... یہ صرف نقل کرتی ہے اور نقل کرنے میں مہارت رکھتی ہے.... اور پھر اس نقالی پر فخر کرتی ہے۔ آزادی .... سب سے پہلے آزادءاِظہارِ رائے طلب کرتی ہے۔ آزادی .... ہر حال میں دل کو شکم پر ترجیح دیتی ہے۔ ایجاداتِ عالم آزاد قوموں کے حصے میں آتی ہے۔ آزاد ہوئے بغیر ہم قوموں کی معتبر فہرست میں شامل نہیں ہوتے۔ آزاد لوگوں کے پاس ایک ایسا اسمِ اعظم ہوتا ہے جو غلاموں کے پاس نہیں۔ یہ اسمِ اعظم حرفِ ”لا“ ہے۔ آزاد لوگ اپنے پاس ایک حرفِ انکار رکھتے ہیں۔ وہ اپنی آزادی، اپنے آدرش اور اپنے مقصدِ زیست کے متعلق کبھی سمجھوتا نہیں کرتے۔ 
کربلا .... ایک حرفِ لا ہے۔ الااللہ کا راز اس کے بغیر نہیں کھل سکتا۔ حرفِ ”لا....“ حروفِ مقطعات نہیں ، نہ حروفِ متشابہات میں شامل ہے .... یہ ایک واضح حرفِ انکار ہے.... یہ ایک سچا اور س±چّا کردار ہے۔ کربلا پہلی آواز ہے ملوکیت کے خلاف! کربلا دین کو ملوکیت کے ہاتھوں یرغمال بننے کے خلاف پہلی جدو جہد ہے۔ کربلا ایک فکری قافلہ ہے.... ہر وہ انسان اس قافلے میں شریک ہے جو طاقت کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ ہروہ شخص کربلائی سفر میں شامل ہے جو قانون کو طاقت کے ہاتھوں مسخ نہیں ہونے دیتا۔ ملوکیت زدہ اَذہان دینِ فطرت کو اپنی مسخ شدہ نظریات کے مطابق ڈھالنا چاہتے تھے۔ نواسہِ رسول نے دینِ رسول کی ح±رمت کو بچا لیا.... اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کی ح±رمت کو دین کی حرم±ت پر قربان کر دیا۔ آپؓ چاہتے تو ا±مّت سے اپنے ہونے کا خراج لے سکتے تھے، افواج کھڑی کر سکتے تھے، بلادِ اسلامیہ کے بڑے حصہ— خطہِ حجاز پر بلاشرکتِ غیرے حکمران بن سکتے تھے۔ لیکن آپؓ نے اپنے حکمرانی پر ا±مّت کی وحدت کو ترجیح دی۔ آپؓ نے حشر تلک انسانی شعور کو یہ پیغام دے دیا کہ اصل فتح اخلاقی ہوتی ہے.... اور اخلاقی فتح قربانی مانگتی ہے۔ دین کی اصل قوّت اِخلاقی قوت ہے.... مادّی قوت خیر و شرّ دونوں کے لیے یکساں ہوتی ہے۔ مادّی قوّت حق پر ہونے کا جواز نہیں بنتی۔ حق پر ہونے کا جواز اخلاق ہے، قانون ہے اور طاقت ور ہونے کے باوجود قانون اور اخلاق کے سامنے سرنگوں ہونے کا ظرف ہے۔ 
 صرف وہ شخص آزاد ہے جو اپنی خواہش، جبلّت اور اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کو دین کے قانون کے تابع کر دیتا ہے۔ ہر وہ شخص غلام ہے جو اپنی خواہش کی غلامی قبول کر لیتا ہے اور قانون اور دین کی آواز سننے سے اپنے کان بند کر لیتا ہے۔ ایسا شخص خواہ عبادات میں دوسروں سے بڑھ کر عبادت کرے، فی الاصل دین سے د±ور ہے۔ ایسا شخص ظالم ہوتا ہے۔ وہ اپنے نفس پر ظلم کر تا ہے اور باہر کمزور نفوس پر بھی ظلم کرنے سے باز نہیں آتا۔ ا±س کی خواہشِ نفس ا±سے مجبور کر دیتی ہے کہ وہ دین کی اپنی ذہنی تفسیر کرے.... اس کا طبع ِ بشری اسے مجبور کر دیتی ہے کہ وہ الہامی کلام کی تشریح اپنی ا±فتادِ طبع کے مطابق کرے اور اپنی تشریح ۔ یاد رہے کہ اپنی طبع کا اَسیر آزاد نہیں ہوتا۔ القصہ وہ جو خود کو کسی قانون کے تابع نہ کر سکے ، تہذیب کی لغت میں اسے آزاد نہیں کہتے۔ 
کسی انسان کے مہذب یا غیر مہذب ہونے کے لیے یہی نشانی کافی ہے کہ وہ طاقت کو حجت سمجھتا ہے یا کسی اخلاقی و قانونی شق کو اپنے عمل کی حجت گردانتا ہے۔ خود کو خدا کے حکم کا پابند کر دیا جائے .... غیر مشروط طور پر خدا کا حکم ماننے کے لیے خود کو آمادہ کر لیا جائے تو انسان غلامی سے نکل کر آزادی میں داخل ہو سکتا ہے۔ آزادی روح کی آزادی ہے۔ غلامی جسم اور جسم کے تقاضوں کی غلامی ہے۔ جس کی روح لالچ ، نفرت ، غصہ اور حسد کی بیڑیوں میں جکڑی ہوئی ہے ، اس کا جسم بھلے آزاد ہو، اس کی روح قید میں ہے۔ 
دل یا شکم کے درمیان فیصلہ کرنے کی طرح یہ بھی ہمارا اپنا فیصلہ ہے کہ ہم نے تہذیب کے دائرے میں قدم رکھنا ہے یا ہنوز وحشت کے جنگل میں ہنہنانا ہے۔ تہذیب .... طاقت کا اخلاق کے سامنے سرنگوں ہونے کا نام ہے۔ تہذیب دل کی دنیا ہے اور بدتہذیبی نری پ±ری شکم کی دنیا۔دل .... خیال ہے.... شکم مفاد ہے۔ طلبِ شکم دنیا ہے اور طلبِ دل .... خدا ہے۔ بندہِ خدا.... خدا کے آگے جھکنے والا .... خدا کے حکم کے سامنے جھکنے والا .... مہذب ہوتا ہے ، بندہِ نفس غیر مہذب! غیر مہذب بندے سے کسی بھی رویے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ صرف ایک مہذب شخص سے کسی مہذب رویے کی توقع کی جاتی ہے.... صرف ایک تہذیب یافتہ بندے سے مکالمہ ہو سکتا ہے۔ مکالمہ دو نظریات کے درمیان ہوتا ہے.... مفادات کے درمیان نہیں۔ مفادات کے درمیان صرف جنگ و جدال کا امکان ہوتا ہے۔

ٹیگز: