Wed, September 16, 2026

’’ٹرمپی ٹیرف وار‘‘ اور امریکی تہذیب کی موت

’’ٹرمپی ٹیرف وار‘‘ اور امریکی تہذیب کی موت

کیا میں یہ لکھ سکتا ہوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس دنیا کو ’’ ٹرمپی ورلڈ ‘‘ بنانے کا خواہشمند ہے؟ایک ایسی دنیا جہاں صرف اُس کے حکم کی حکمرانی ہولیکن کیا امریکی صدر کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ صرف امریکہ کے صدر ہیں اور یہ ساری دنیا سوائے خدا کے کسی کی حاکمیت میں نہیں ۔ البتہ اس زمین پر خدائی کے دعویداروں سے انسانوں کو اکثر پالا پڑتا رہا ہے ۔ میں اتنا مذہبی انسان بھی نہیں کہ اپنی بات کی صداقت کیلئے مذہبی جواز تراشتا رہوں لیکن میں اتنا مذہبی ضرور ہوں کے خدائے فطرتِ کے مکافات کے عمل پر مکمل یقین رکھتا ہوں ۔انسانوں کا یہ خیال ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا انسان اپنی غلط دہراتا ہے تو سمجھتا ہے کہ تاریخ نے اپنے آپ کو دوہرا لیا ۔ اگر دس ہزار سال پہلے کسی نے پہاڑ سے چھلانگ لگائی اورموت اُس کا مقدر بن گئی تو فطرت کا یہ قانون آج بھی نہیں بدلا بس ہمیں اس غلطی کو دہرانا نہیں ہوتا ۔آپ اپنی غلطی کو نہ دہرائیں تاریخ کبھی بھی اپنے آپ کو نہیں دہرائے گی ۔’’ ٹرمپی ٹیرف ‘‘ نے ایک بات تو ثابت کردی کہ امریکہ اپنی معیشت کو بہتر کرنا چاہتا ہے گو کہ اس کے ردعمل میں جب دوسری ریاستیں امریکہ درآمدات پر ٹیرف لگائیں گی تو اِس کا سارا بوجھ امریکی شہریوں کو برداشت کرنا پڑے گا اور پھر امریکی عوام کو ریلیف دینے کیلئے خزانے کا منہ کھولنا پڑے گا توکیا یہ بہتر نہیں کہ بجائے اس کے کہ آنے والے دنوں میں اپنے لوگوں اور اپنی ریاستی خزانے پر بوجھ ڈالنے کے انسانوں کی اس دنیا میں انسانوں کی طرح رہا جائے اور بجائے اس کے کہ اپنے برتری کے ثبوت کی خاطر دنیا بھر کی معیشت کو تہس نہس کرکے رکھ دیا جائے ۔ ٹیرف لگانے کا ایک مقصداُن درآمدات کو روکنا بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے ریاستی خزانہ ریاست پر بوجھ سے باہر جانا شروع ہو جاتا ہے اور اپنی مصنوعات کو بھی وہ عروج نہیں مل پاتا جو کسی بھی ریاست کا اپنی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے پہلا قدم ہوتا ہے لیکن صرف اپنا خزانہ بھرنے کیلئے دنیا بھر کے انسانوں کو عذاب میں مبتلا کردینا یا اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے تجارتی پابندیا ں ٗ ٹیرف یا اس طرح کے دوسرے حربے استعمال کرنا تجارتی جنگ کو کسی بھی گرم جنگ میں بدل سکتا ہے اور جنوں میں ڈھالی ہوئی ایٹمی بلائوں سے پھر نہ زمین کی خیر ہے اور نہ آسمان کی ۔ امریکی کی موجودہ ’’ٹیرف ڈپلومیسی ‘‘ کے اہداف میں سرفہرست مجھے تو یہی دکھائی دے رہا ہے کہ امریکہ روس اور چین کو ایک دوسرے سے الگ دیکھنا چاہتا ہے جو کسی صورت ممکن نہیں ہو گا البتہ اس کوشش میں بہت کچھ بگڑ سکتا ہے جو ممکن ہے سنبھالے سے بھی نہ سنبھلے ۔ سو ابھی سو چ لینا چاہیے کہ ابھی ہم پوائنٹ آف نو ریٹرن سے بہت دور ہیں ۔ 
ٹیرف اگر پاکستانی ریاست بڑھائے تو بات سمجھ آتی ہے کہ ہم اپنی معیشت بہتر کرنا چاہتے ہیں اپنی درآمدات کم کرنا اور برآمدات بڑھانا چاہتے لیکن افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اپنے دیس میں جب اشرافیہ نے کچھ منگوانا ہوتا ہے تو وقتی طور پر ٹیرف اٹھا لیا جاتا ہے لیکن جونہی اشرافیہ کے کنٹینرز محفوظ مقامات پر پہنچ جاتے ہیں تو سب کچھ ویسے ہی لاگوکردیا جاتا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ 80 ء کی دہائی میں بینسن ہیجیز کرکٹ ٹورنامنٹ میں بھارتی کرکٹر روی شاستری کو ملنے والی انعامی گاڑی ’’ بھاری ٹیرف ‘‘کی وجہ سے بھارتی گوداموںمیں پڑی پڑی گلنا سڑنا شروع ہو گئی تھی اور بھارت نے اپنی معیشت کو بہتر کرنے کیلئے سالہا سال درآمدات کو کنٹرول کیے رکھا ۔ میں چشمِ تصور سے ’’ ٹرمپی پالیسیوں ‘‘ کے نتائج دیکھ رہا ہوں ۔ یہ ممکن ہے کہ مسلم دنیا اپنے ذاتی مفادات یا بزدلی کی وجہ سے غزہ پر نہ بول رہی ہو لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ غزہ کے معصوموں کے قتل عام پر مسلم دنیا اور دنیاکے مہذ ب انسانوں کا دل نہ دکھتا ہو۔ غزہ پر بمباری امریکی صدر ٹرمپ کی مرضی منشاء اور خواہش کے عین مطابق ہے سو اس بدمعاشی پر دنیا کے مہذب انسان اُسے دیکھ رہے ہیں ۔ یوکرائن کوروس کے مدمقابل کھڑا کرنا اور ازاں بعد یوکرائنی صدر کو دنیا بھر کے سامنے ذلیل کرکے جنگ سے نہ صرف دستبردار ہو جانا بلکہ اُس کے سامنے وہ تمام مطالبات رکھ دینا جن کی وجہ سے روس اوریوکرائن میں جنگ ہو رہی ہے ۔ مثلا جنگ بندی ہونی چاہیے ٗ امریکہ یوکرائن میں اپنی فوج نہیں بھیجے گا ٗ امریکہ یوکرائن کو سیکورٹی گارنٹی فراہم نہیں کرئے گا ٗ یو کرائن نیٹو کا ممبر نہیں بن سکتا یہی جنگ کی اصل وجہ تھی اور یوکرائن کو اپنے کچھ علاقے روس کو دینا ہو ں گے ۔ اب یہ وہ تمام مطالبات تھے جن کی وجہ سے یوکرائن اور روس میں جنگ جاری ہے اورعین جنگ کے دوران ٹرمپ کا اقتدار میں آتے ہی یوکرائنیوں کی حمایت سے دستبردار ہوجانا کسی بھی قوم کیلئے انتہائی شرمناک ہوتا ہے لیکن سیاست کی فضاء میں شرم نام کا کوئی پرندہ کبھی بھی محوِ پرواز نہیںہوتا ۔ پاکستانیوں سمیت دنیا کے400 طلباء کو صرف اس وجہ سے جلا وطن کردینا کہ انہوں نے آزادی ء اظہار کے’’ چیمپین ملک امریکہ ‘‘ میں اسرائیل کی کھلی دہشتگردی کے خلاف احتجاج کیا تھا ۔اس کے علاوہ میکسیکو وال ٗ غیر قانونی یا عدالتوں میں اپنے قیام کے مقدمات لڑتے انسانوں کو ذلت آمیز طریقے سے ہاتھ پائوں باندھ 
کر اُن کے دیسوں میں روانہ کردینا ٗ یہ سب ٹرمپی بدمعاشی ہے جس کاآغاز ٹرمپ نے اقتدارمیں آتے ساتھ ہی کردیا اور اِس وقت دنیا کے دو بڑے ممالک امریکہ اور بھارت کے سربراہ جو کھیل اپنی اپنی ریاستوں میں کھیل رہے ہیں وہ کل کے امریکہ اور کل کے بھارت کیلئے کسی صورت بھی سود مند نہیں ہو گا ۔ٹرمپ جس دن سے اقتدار میں آیا ہے اُس نے دنیا بھر میں اودھم مچا رکھا ہے اور ابھی ایران پر مذاکرات سے پہلے لگنے والی پابندیاں کیا رنگ لاتی ہیں وہ ایک معاملہ الگ سے ہمارے خطے کی سیاست کو خوفناک بنا رہا ہے۔ قوموں کے عروج و زوال کی داستانوں میں زوال کے وقت ایک چیز مشترک پائی گئی ہے کہ عقل کا کام مسخروں کے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے اور پھر قوموں کو کوئی بھی بربادی سے نہیںبچا سکتا ۔ اس بار امریکہ اور بھارت میں بھی یہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ابن خلدون کا تہذیبوں کے عروج و زوال کا سائیکلون مکمل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکہ اپنے بچپن اور جوانی کے دن گزار چکا اور اب بڑھاپے میں داخل ہو رہا ہے جس کے بعد ایک یقینی موت اُس کی منتظر ہے ۔

ٹیگز: