اسلام آبادوفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ کاکہنا ہے کہ عید الفطر کے مقدس تہوار اور برادر اسلامی ممالک کی خصوصی اپیل پر 'آپریشن غضب للحق' کی عسکری کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔عطا تارڑ نے بتایا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کی جانب سے آپریشن کی معطلی کی درخواست کی گئی تھی۔ اسلامی بھائی چارے اور عید کے تقدس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آپریشن آج رات سے لے کر 23 اور 24 مارچ کی درمیانی رات تک معطل رہے گا۔
TEMPORARY PAUSE IN OPERATION GHAZAB LIL HAQ
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) March 18, 2026
(18 Mar 26)
In view of the upcoming Islamic festival of Eid-ul-Fitr, upon its own initiative as well as on the request from the brotherly Islamic countries of the Kingdom of Saudi Arabia, the State of Qatar and the Republic of Turkiye,…
وزیرِ اطلاعات نے دو ٹوک وارننگ دی کہ اس وقفے کے دوران اگر سرحد پار سے کوئی بھی حملہ، ڈرون کارروائی یا دہشت گردی ہوئی، تو آپریشن 'غضب للحق' کو فوری طور پر پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ بحال کر دیا جائے گا۔وزیرِ اطلاعات نے دشمن کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات بھی جاری کیں۔ کارروائیوں میں اب تک 707 افغان طالبان ہلاک اور 938 زخمی ہو چکے ہیں۔ افغان طالبان رجیم کی 255 چوکیوں کو تباہ کیا گیا، جن میں سے 44 چوکیوں پر اب پاکستانی فورسز کا قبضہ ہے۔ دشمن کے 237 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں ملبے کا ڈھیر بنا دی گئیں۔ 16 مارچ کی رات کابل اور ننگرہار میں اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 81 دہشت گرد ٹھکانوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کو نیست و نابود کیا گیا۔