Wed, September 16, 2026

اردو کے عظیم ناول نگار شوکت صدیقی کو مداحوں سے بچھڑے 19 برس بیت گئے

اردو کے عظیم ناول نگار شوکت صدیقی کو مداحوں سے بچھڑے 19 برس بیت گئے

لاہور : اردو ادب کے ممتاز ناول نگار شوکت صدیقی کو مداحوں سے بچھڑے ہوئے 19 برس ہو گئے ہیں۔ شوکت صدیقی 20 مارچ 1923 کو لکھنؤ کے ایک ادبی خاندان میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی منتقل ہو گئے۔ ان کی زندگی اور ان کے کام نے اردو ادب میں اہم مقام حاصل کیا، اور ان کی تحریروں نے ادب کی دنیا میں دیرپا اثر چھوڑا۔

ان کا پہلا افسانوی مجموعہ "تیسرا آدمی" 1952 میں شائع ہوا، جس کے بعد "اندھیر اور اندھیرا"، "راتوں کا شہر" اور "کیمیاگر" جیسے مشہور مجموعے بھی منظرِ عام پر آئے۔

شوکت صدیقی کے ناول "خدا کی بستی"، "جانگلوس" اور "چار دیواری" کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی اور ان کا شمار اردو کے بڑے ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 1997 میں انہیں "تمغہ برائے حسن کارکردگی" سے نوازا۔

شوکت صدیقی 18 دسمبر 2006 کو کراچی میں انتقال کر گئے، لیکن ان کی تحریریں آج بھی اردو ادب میں زندہ ہیں اور ان کا ادبی ورثہ نسلوں تک پہنچ رہا ہے۔

ٹیگز: