Wed, September 16, 2026

کاش ہم سقوط ڈھاکہ اور اے پی ایس سانحہ سے سبق لیں

کاش ہم سقوط ڈھاکہ اور اے پی ایس سانحہ سے سبق لیں

جیسے یومِ سقوطِ ڈھاکہ کی تلخ یادیں ہمیں ستاتی ہیں ویسے ہی اے پی ایس کی یادیں بھی خوں کے آنسو ہمیں رلاتی ہیں۔
سقوط ڈھاکہ کا المیہ کس طرح رونما ہوا اس پر 52 سال سے بحث جاری ہے اغیار کی سازشیں، ہماری چشم پوشیاں، کوتاہیاں، طالع آزمائوں کی مہم جوئیاں اور قومی مفاد کی بجائے ذاتی مفاد کے سامنے سجدہ ریزیاں- اور سب کچھ تھا ایک صدی کی طویل جدوجہد، لاکھوں انسانوں کی قربانیاں، ہزاروں عصمت مآب خواتین کی تاراجی اور اربوں کی جائیداد کی قربانی کے بعد حاصل ہونے والا وطن پاکستان آن واحد میں دولخت ہوگیا اور آج بھی بحث یہ جاری ہے کہ شکست فوجی تھی یا سیاسی؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت افواج اور سیاستدان کو اپنے کردار کا جائزہ لیکر اپنے کردار کا تعین کر کے آئندہ لائحہ عمل طے کرتے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل جنرل باجوہ نے اسے سیاسی شکست قرار دے کر پھر بحث کا دروازہ کھول دیا ، جو کچھ وہ خود اپنے دور میںکرتے رہے وہ آج تک بحث طلب ہیں اور بحث جاری ہے اس طرح کے المیے یا سانحات ایک دن یا چند دنوں، ہفتوں، مہینوں میں رونما ہوتے ہیں نہ کسی زلزلہ یاطوفان کی طرح اچانک آتے ہیں بلکہ ان کیلئے طویل عرصہ تک ریشہ دوانیوں اور فتنوں کو پروان چڑھنے کا موقع دیا جاتا ہے، قوم کا داخلی اتحاد کمزور کیا جاتا ہے، نسلی صوبائی علاقائی لسانی اور فرقہ واریت کے تعصبات کو پروان چڑھایا جاتا ہے تو اس قسم کے المیے جنم لیتے ہیں اگر چہ 16 دسمبر کے المیہ میں بھارتی عسکری کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بھارت ہمار ا ازلی دشمن ہے وہ تاحال پاکستان پر ناپاک نظریںبیٹھا ہے مگر ہماری آج کی عسکری قیادت نے انہیں ایسا مزہ چکھا دیا جس وجہ سے بھارت کی تمام ’’آنیاں جانیاں‘‘بے کار ہوگئیںوہ جھوٹ اور دہشت گردی میںتمام دنیا میں جانے جانے لگے ہیں مگر اسکا موقع ہماری نادانیوں، بداعمالیوں اور داخلی اتحاد کے کمزور ی کی وجہ سے ہوتا ہے آج جب ہمارے لوگ بھارتی چینل پر بیٹھ کر پاکستان اور پاکستانی کی عسکری قیادت کے خلاف زہر افشانی کرینگے تو بھارت کا کیا قصور ؟؟؟ - وطن عزیز جسے ہم نے قائد اعظم کی قیادت میں اسلامی نظریہ حیات کی بنیاد پر حاصل کیاتھا مگر قیام پاکستان کے بعد ہم نے اسکے مخالف سمت سفر شروع کردیا -ہم نے کعبہ کے رب سے کیا ہوا عہد توڑدیا - بنگلہ دیش کی علیحدگی فوجی نہیں لگتی اس میں سیاسی کارفرمائیاں شامل تھیں ورنہ فوج ہتھیار ڈال دے ، اور نہ صرف 90,000فوجی بشمول اہلکاروںکو بھارت یا بنگلہ دیش کے حوالے کرکے چلا جائے یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے فوج کا تو ایک عہد ہوتا ہے ملکی بقاء کیلئے جان دینے کا جنرل نیازی کا ہتھیار ڈال دینے میں انکا مفاد نظر آتا ہے آج کا نیازی بھی افواج اور پاکستان کے خلاف کچھ ایسا ہی کررہاہے ، مگر آج کی عسکری قیادت کی وجہ جسے عوام کی حمایت حاصل ہے بھارت اور آج کے نیازی کی سازشیں اپنی موت آپ جہنم رسید ہورہی ہیںہماری گروہی اور علاقائی سوچ اور عوامی مسائل کو خاطر میں نہ لانا جیسے مسائل ہوں تو اغیار جو ہر لمحہ اپنی شیطانی سوچ لئے بیٹھے ہیں انہیں موقع مل جانا ایک فطری بات ہے سقوط ڈھاکہ کے وقت جسطرح ہتھیار ڈالے گئے اسکی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی مگر ڈھیٹ ہو تو ہماری سیاست رسہ کشی جیسی جسکا اس سانحہ کا کوئی اثر نہ ہوا پاکستان کا مشرقی حصہ الگ نہیں ہوا بلکہ پاکستان دو لخت ہوا 23 مارچ 1940 کو قوم قائد اعظم کی قیادت میں جس طرح قوم کا ہر طبقہ ان کی قیادت میں متحد ومتفق تھا مگر جوں ہی قیادت کے بحران نے جنم لیا اتحاد کی فضا ختم ہوئی توسقوط ڈھاکہ نے جنم لیا - ہماری بے عملی اور اپنی روش نہ بدلنے کا صلہ مکار بھارت نے ہماری روٹی کھانے والے افغانیوںاور ، TTP نے سولہ دسمبر کو ہی ہمیں پھر للکارا اوریہ للکار بہت سنگین تھی جس نے سولہ دسمبر کی تاریخ کا تعین کرکے ہمیں اپنی زبان میں چتاونی دی اورسانحہ آرمی پبلک سکول نے جنم لیا جس میں معصوم بچوںکو اسلام کے نام پر شہید کیا گیا۔ 16دسمبر 1971ء میں مشرقی بازو یا مشرقی پاکستان ہم سے دولخت ہوا تو اس میں بنیادی کردار ہمارے دشمن ملک بھارت کا تھا جس نے دو قومی نظریے پر وار کیا اور اندرا گاندھی کا مشہور زمانہ بیان تو سب کو یاد ہو گا جس میں اس نے کہا کہ آج ہم نے دو قومی نظریے کو گنگا میں ڈبو دیا ہے۔ لیکن اندرا گاندھی بھول گئیں کہ نظریے ملکوں کے الگ ہونے سے یا ان کی تقسیم سے ختم نہیں ہوتے اور دو قومی نظریہ آج بھی پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے ایمان کا حصہ ہے اور وہ دل و جان سے اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ جہاں تک مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کی بات ہے تو اس میں وہاں کے مقامی سیاست دانوںکا اہم کردار تھا جنہیں لالچ دیکر اور گمراہ کر کے بھارت نے پاکستان کے خلاف ورغلایا اور یاد رکھیںکہ مشرقی پاکستان کا الگ ہو جانا بھارت کی فتح نہیں ہے بلکہ ناکامی ہی ہے کیوں کہ بھارت کی تو ازل سے خواہش تھی کہ مشرقی بنگال کو وہ مغربی بنگال کا حصہ بنائے لیکن اس کی یہ سازش کامیاب نہ ہو سکی اور بنگلہ دیش کے نام سے الگ اسلامی ملک وجود میں آگیا۔ مشرقی پاکستان کے الگ ہو جانے میں ہمارے لئے کئی اسباق پوشیدہ ہیںکہ ہمیں اپنی صفوں میںسے غداروں کو پہچاننا چاہئے کہ کون 
ایسے لوگ ہیں جو سیاست کے نام پر صرف اپنا اقتدار چاہتے ہیں اور چاہے ملک دولخت ہو جائے تو بھی ان کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے سانحہ 9 مئی کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے کہ کون تھا جو فوجی تنصیبات پر حملہ آورہو کر دشمن ہی کی مدد کر رہا تھا؟ ہمیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہئے کیوں کہ تاریخ ہمیشہ ایک سبق چھوڑ کر جاتی ہے تو سولہ دسمبر 1971ء ہمارے لئے سبق چھوڑ کر گیا ہے کہ ہمیں ملک کے مفاد کی خاطر دشمن کے ہاتھوں میں نہیں کھیلنا چاہئے اور ملک کے مفاد کیلئے ہمیں اپنے اختلافات کو بھلا کر ایک ہوجانا چاہئے کیوںکہ اسی میں ملک کی ترقی اور کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔ آج ایک مرتبہ پھر آج کے نیازی کے بیانیے کو ماننے والے ہر لمحہ اسلام آباد پر چڑھائی کی بات کرتے ہیں جبکہ وہ خود اس منفی سوچ کی بنا پر حصوں بخروں بٹ چکے ہیں اڈیالہ میں بیٹھے 804سے اسی جماعت کے لوگ 30 کروڑ روپے فنڈکا حساب پوچھ رہے ہیں، جماعت اراکین سے اسکے باجود مزید فنڈز کے متمنی ہیں، ایک نیازی 90,000لوگوںکو قیدی بنوا کر ہتھیار ڈال کر آگیا ، دوسرا نیازی اڈیالہ میں ہتھیارڈلوانے کے خیالی پلائو پکارہا ہے جسکے لئے اس نے ملک سے باہر بیٹھے بھگوڑوں کو سرگرم رکھا ہوا ہے۔

ٹیگز: