Wed, September 16, 2026

پاکستان نے بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں کو سنجیدہ نہ لیا، تو ملک کو سنگین مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، محمد اورنگزیب

پاکستان نے بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں کو سنجیدہ نہ لیا، تو ملک کو سنگین مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، محمد اورنگزیب

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں کو سنجیدہ نہ لیا، تو ملک کو سنگین مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ وہ پاپولیشن کونسل کی ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے بڑھتی ہوئی آبادی کو ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان کی آبادی کی شرح نمو 2.55 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو نہ صرف معیشت کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے، بلکہ اس کے نتیجے میں غربت، وسائل کی کمی اور دیگر مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے آبادی کا متوازن ہونا ضروری ہے، اور اس کے لیے بچوں کی افزائش میں مناسب پلاننگ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 40 فیصد بچے غذائی کمی کا شکار ہیں، اور خاص طور پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے دیہی علاقوں میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ جب لوگ دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف آ کر کچی آبادیاں قائم کرتے ہیں تو وہاں صحت، پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔

سینیٹر اورنگزیب نے موسمیاتی تبدیلی کو بھی ایک بڑا خطرہ قرار دیا، جس کی وجہ سے سیلاب، خشک سالی اور قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کا حل صرف آبادی کے بڑھنے کی رفتار کو کنٹرول کرنے میں ہے۔

آخر میں، وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت آئی ایم ایف پروگرام اور اسٹرکچرل ریفارمز کے ذریعے بہتری کی جانب بڑھ رہی ہے اور ملکی معیشت ایک مثبت سمت میں گامزن ہے۔ْ

ٹیگز: