ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں امریکی صدر ٹرمپ اسرائیلی ترجمان کا کردار ادا کررہے ہیں جس سے ایک بات تو سمجھ میں آ رہی ہے کہ امریکی صدر امریکی عوام کا نہیں ٗ عالمی سرمایہ داری کا وہ چہرہ ہوتا ہے جسے عالمی سرمایہ داری امریکی صدر کا نقاب لگا کر دنیا کے سامنے لے آتی ہے اور پھر وہ دنیا بھر میں سرمایہ داروں اور اُن کے گماشتوں کے مفادات کا تحفظ کر تا رہتا ہے ۔ اس حوالے سے تمام امریکی صدور ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں ۔ اسرائیل کے پاس اگر کوئی مذہبی ایجنڈا ہے تو وہ اُسے مبارک ہو لیکن اگر وہ اپنے مذہبی ایجنڈے کی بنیاد پر زمین پر صرف خون ریزی کرنا چاہتا ہے تو اِس بار اُس نے غلط جگہ پائوں رکھ دیا ہے ۔ پہلی بار اسرائیلی شہریوں نے غیر محفوظ اسرائیل دیکھا ہے ۔ یہ اسرائیلیوں کی پہلی نسل ہے جو اسرائیل پر برستے ہوئے میزائل دیکھ رہی ہے ۔ بلاشبہ ٗجنگی ٹیکنالوجی کے حوالے سے اسرائیلی بہت آگے کی شے ہے بلکہ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ جنگ امریکہ اور ایران کی ہے ٗ جس میں امریکہ اپنے اسرائیلی چہرے کے ساتھ سب کچھ ملیامیٹ کرنا چاہتا ہے۔ سابق امریکی صدر جوبائیڈن کے دور میں شروع ہونے والی غزہ کی جنگ آج بھی جاری و ساری ہے 80 ہزار سے زائد بچے ٗ عورتیں ٗ جوان اور بزرگ شہید جبکہ 1 لاکھ45 ہزار کے قریب زخمی اورعمر بھرکیلئے معذور ہوچکے ہیں لیکن ’’ مہذب دنیا‘‘ میں سے کسی کو رحم نہیں آیا کہ اسرائیل کو اس بربریت سے روکا جائے ۔ اسرائیل حقیقت میں امریکہ کی 51 ویں ریاست ہے جس کیلئے وہ سب کچھ کر گزرنے کیلئے تیار ہے ۔ ٹرمپ ایران کو برباد کرنے کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے اور یہ بھی بتا رہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے منہ سے پاکستان کا نام غلطی سے نکل گیا۔ اب کوئی پوچھے میاں ٹرمپ آپ امریکہ کے صدر ہیں یا اسرائیل کے وزیر اطلاعات؟۔ لیکن امریکہ کی یہ بدمعاشیاں اتنی دیر تک چلتی رہیں گی جب تک کوئی دوسری طاقت اُس کے سامنے کھڑی نہیں ہوتی ۔ ان حالات میں ٗ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایران کیلئے بہترین موقع ہے کہ اگر اُس نے ایٹمی تجربے کی تیاری مکمل کر رکھی ہے تو بلا خوف و خطر ایٹمی دھماکہ کرسکتا ہے ۔اس کے دو فائدے توفوری ہو سکتے ہیں ۔ اول :دنیا ایران پر ہونے والی جارحیت میں اس عمل پر اُسے رعایتی نمبر دے گی اور اس کا الزام بھی امریکہ اور اسرائیل پر آ جائے گا ۔دوم: جنگ نہ صرف فوری رک جائے گی بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کیلئے اب یہ ضروری بھی ہو گیا ہے ۔ کل تک ایران اور اسرائیل دونوں فریق ایک دوسرے سے نفرت کا اظہار زبانی کلامی یا پراکسی وار کے ذریعے کر رہے تھے لیکن اب گرم جنگ ہے ٗ کھلی جنگ ہے ۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ جنگ دو ہفتے جاری رہ سکتی ہے لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا کیونکہ آپ جنگ اپنی مرضی سے شروع کرسکتے ہیں لیکن یہ ختم دونوں فریقین کی رضامندی سے ہوتی ہے۔ اسرائیل نے ایران کے ساتھ ’’ پنگا‘‘ لے کر اپنے شہریوں اور سفارت خانوں کو دنیا بھر میں غیر محفوظ کر لیا ہے ۔ایران نے تو امریکہ کے ساتھ اب جوہری مذاکرات کو بھی بے معنی قرار دے دیا ہے جس کادوسرا مطلب فوری جنگ بندی یا کسی قسم کے مذاکرات کا کوئی امکان بظاہر دکھائی نہیں دے رہا ۔اس جنگ کا ابھی تک سب سے بڑا واقعہ ایف 35 جنگی طیارے کا گرنا ہے ۔ جس کا مجھے مکمل یقین ہے کہ اس جنگ کے بعد یہ الزام بھی چین یا پاکستان میں سے کسی ایک پر لگادیا جائے گا کیونکہ چین نے دفاع کیلئے ایران کی ہر ممکن مدد کا اعلان کیا ہے اور ایران کو ابھی اپنے دفاع کی ہی ضرورت ہے ۔
وزیر اعظم پاکستان نے اسرائیل کی مہم جوئی کوعلاقائی اور عالمی امن کیلئے نہ صرف خطرہ قرار دیا ہے بلکہ اُن کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے ۔ اسرائیل کے پھیلائو کیلئے امریکہ نے پہلی قسط بھارت سے پاکستان پر جارحیت کرا کر چلائی اور اب دوسری قسط اسرائیل سے ایران پرحملہ آور کرا کر چلا رہا ہے ۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اِن دونوں جنگوں میں چین یا روس میں سے کسی ایک کی مداخلت چاہتا تھا یا پھر دونوں ریاستوں کی لیکن چین اور روس دونوں انقلاب کے نتیجہ میں بنی ہوئی ریاستیں ہیں وہ اِ ن ہتھکنڈوں کو پوری طرح جانتی ہیں وہ کبھی بطور فریق جنگ کا حصہ نہیں بنیں گی لیکن وہ ایران کو یا پاکستان کو کسی صورت تنہا بھی نہیں چھوڑیں گے کہ اس خطے میں علاقائی تھانیداری میں امریکہ بھارت اور اسرائیل کی برتری چاہتا ہے جبکہ حالات وواقعات اور مضبوط معیشت چین اور روس کا ساتھ دے رہی ہے ۔اسی جنگ کے دوران دنیا بلاکس میں تقسیم ہونا شروع ہوجائے گی اور 1989 ء میں امریکی صدر ریگن اور گوربا چوف کے ہاتھ ملا کر سرد جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد ٗ جو دو ستونی دنیا یک ستونی ہو گئی تھی وہ ایک بار پھر دو ستونی ہو جائے گی ۔ دنیا دوبارہ بلاکس کی طرف لوٹ آئے گی اورامریکہ کی ’’ تنہا سپرپاور‘‘ کہلانے اوررہنے کی داستان بھی ختم ہو جائے گی ۔ممکن ہے کہ ایران آبنائے ہرمز بند کردے جس سے 13 ملین بیرل پٹرولیم مصنوعات یومیہ کی ترسیل رک جائے اور دنیا کو ایک نئے عذاب کا سامنا کرنا پڑے ۔ اس کے زیادہ امکانات اس لئے بھی ہیں کہ وزیر اعظم پاکستان نے وزیر خزانہ کی سربراہی میں 16 رکنی کمیٹی کا نوٹیفکیشن کردیاہے جو پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتو ں کی مانیٹرنگ کریں گی ۔اس کے ساتھ ہی حکومتِ پاکستان نے اپنے شہریوں کو ایران کے سفر سے روک دیا ہے اوریقینا یہ سب کچھ کسی نہ کسی اطلاع یا ممکنہ خدشے کی بنیاد پر ہی ممکن ہے ۔ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے اسرائیلی وزیر اعظم کو اپنے بیٹے کی شادی ملتوی کرنے پر مجبور کردیا ہے جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل حقیقت میں حالت ِ جنگ میں ہے ٗ اسرائیل غیر محفوظ ہو چکا ہے ٗ اُس نے جو چومکھی لڑائی شروع کر رکھی تھی اُس نے کہیں تو اپنے منطقی انجام کو پہنچانا ہی تھا ۔ حکومت ِ پاکستان اور پاکستانی عوام کو کھل کر اپنے ایرانی بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے کہ ایران کے بعد بلوچستان شروع ہوجاتا ہے اور وہاں اسرائیلی پرچم لہرانے والا گروہ بے تابی سے ’’اپنی فوج‘‘ کا انتظار کر رہا ہے۔ ممکن ہے یہ بات عجیب و غریب محسوس ہو رہی ہو لیکن بھارتی اور اسرائیلی فنڈنگ نے اُسی وقت کارگر ثابت ہونا ہے جب اُن کی فوجیں ہماری سرحدوں پر دستک دینا شروع ہوجائیں گے سو بہتر ہے کہ اعلیٰ ترین حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے اسرائیل کو ایران سے دور ہی روک دیا جائے اورایسی شکست سے دوچار کیا جائے کہ وہ دوبارہ ہمارے خطے کی طرف منہ کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔ اس جنگ کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم اُس کی کابینہ کے اراکین اور جرنیلوں کو جنگی جرائم کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہی امریکہ اپنی 51 ویں ریاست کے بہتر مستقبل کیلئے چاہتا ہے۔ پاکستان اور پاکستانیوں کو ہر جارحیت کی مذمت اور ہر مزاحمت کار کا ساتھ دینا چاہیے کہ یہی انسانیت کی فلاح کا واحد راستہ ہے ۔