واشنگٹن : امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلسل حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل پر جوابی حملے تیز کر دیے ہیں۔ ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے 40 سے زائد میزائل اور ڈرونز فائر کیے گئے، جن میں امریکی اور اسرائیلی 10 ڈرونز تباہ کر دیے گئے۔ ایران نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے اس کی حکومت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تو وہ اسرائیل کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔
امریکی سینیٹ نے ایران پر حملے روکنے کے لیے ایک قرارداد کو مسترد کر دیا، جس کے تحت صدر ٹرمپ پر ایران پر مزید فوجی کارروائی روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جانا تھا۔ سینیٹ نے 47 کے مقابلے میں 52 ووٹوں سے اس قرارداد کو رد کر دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اسرائیل کی طرف سے ایران کے مختلف شہروں پر بمباری جاری ہے جس سے تہران، قم اور دیگر شہروں میں تباہی آئی ہے۔ اسرائیل نے لبنان پر بھی حملے کیے ہیں، جن میں 3 افراد شہید اور 6 زخمی ہو گئے ہیں، اور لبنان میں مجموعی طور پر اسرائیلی حملوں میں شہادتوں کی تعداد 75 تک پہنچ گئی ہے۔
سعودی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ سعودی فورسز نے الخرج سٹی کے قریب 3 کروز میزائل مار گرائے ہیں، تاہم اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے اسرائیل کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب صبر کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ انہوں نے اسرائیلی فوجی اڈوں پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا اور لبنان سے اسرائیل کے انخلاء کو امن کی پہلی شرط قرار دیا۔